باب اول

حلال و حرام ـــــــ بنیادی مباحث

 موسیقی کی حلت و حرمت کی بحث کو سمجھنے کے لیے چند سوال بنیادی اہمیت کے حامل ہیں:

 پہلا سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کو حرام کیوں ٹھہرایا ہے؟ اِس کا سبب اُن میں پائی جانے والی کوئی ممنوعہ علت ہے یا یہ آزمایش ہے کہ کون اُس کے احکام کی تعمیل کرتا ہے اور کون نافرمانی کا رویہ اختیار کرتا ہے؟ یا پھر اِن کے علاوہ کوئی اور مقصد پیشِ نظر ہے؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ شریعت نے کن چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے؟ کیااِن کی کوئی جامع و مانع فہرست ترتیب دی جا سکتی ہے؟ مزید برآں،حلال و حرام کے جو احکام قرآنِ مجید میں مذکور ہیں یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے روایتوں میں نقل ہوئے ہیں، اُن کی نوعیت اصولی ہے یا اطلاقی ہے؟

تیسراسوال یہ ہے کہ جن چیزوں کو شریعت نے حرام ٹھہرایا ہے، کیا اُن میں غنا اور موسیقی شامل ہیں یا شامل کیے جا سکتے ہیں؟

درجِ ذیل عنوانات کے تحت اِنھی سوالوں کو زیرِ بحث لایا گیا ہے:

شریعت کی حرمتوں کا مقصد،

شریعت کی حرمتیں ،

غنا اور موسیقی کی حلت وحرمت ۔