موسیقی آواز کی زینت ہے۔ انسان جب آواز کے زیر وبم کو توازن و تناسب، الحان و آہنگ اورسوز و گداز سے آراستہ کرتا ہے تو موسیقی پیدا ہوتی ہے۔ دیگر افعال و مظاہر بھی حسن و خوبی کے ایسے ہی اسباب سے تزئین پاتے ہیں۔اِس کے نتیجے میں تصورات اور مشاہدات مصوری کی صورت اختیار کرتے ہیں،تحریر و کتابت خطاطی میں ڈھلتی ہے اور زبان و کلام شاعری کے پیراے میں سامنے آتے ہیں۔یہی معاملہ آبادیوں کو نہروں، باغوں اور شاہ راہوں سے سنوارنے؛ گھروں کو پردوں، قالینوں اور تصویروں سے سجانے؛ بدن کو ملبوسات اور زیورات سے مزین کرنے اور غذا کو انواع و اقسام کے کھانوں سےمتنوع اور خوش ذائقہ بنانے کا ہے۔ اِن سب کی نوعیت زینتوں کی ہے۔