گذشتہ مباحث میں غنا اور موسیقی سے متعلق جناب جاوید احمد غامدی کے نقطۂ نظر کو بیان کیا گیا ہے۔ اُس کے مطابق موسیقی آواز کی زینت ہے اور قرآنِ مجید میں زینتوں کی حلت کا حکم دیگر زینتوں کے ساتھ موسیقی کی زینت کو بھی شامل ہے۔ احادیث بھی اِس امر کی شہادت دیتی ہیں کہ شریعت میں غنا اور آلاتِ غنا کا استعمال ممنوع نہیں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےاُنھیں سنا، سنوایا اور بعض مواقع کے لیے اُن کے استعمال کو بہتر قرار دیا۔ چنانچہ قرآن و حدیث کی رو سے یہ بات پوری طرح مبرہن ہے کہ موسیقی حلال ہے، شریعت نے اِسے ہر گز حرام نہیں ٹھہرایا ہے۔
ہمارے علما کا عمومی موقف اِس سے بالکل مختلف ہے۔ بیش تر علما و فقہا موسیقی کی حرمت کے قائل ہیں۔ فقہ کے معروف مکاتب کا بالعموم اِس بات پر اتفاق ہے کہ موسیقی اور آلاتِ موسیقی علی الاطلاق حرام ہیں۔
احناف موسیقی ، آلاتِ موسیقی اور پیشۂ موسیقی کو معصیت سے تعبیر کرتے ہیں۔وہ غنا کی تعلیم و تربیت کو ناجائز ٹھہراتے اور مغنی یا مغنیہ کی شہادت کو ناقابل قبول قرار دیتے ہیں:
ولا تجوز الإجارة على شيء من الغناء والنوح والمزامیر والطبل وشيء من اللہو لأنہ معصیۃ والاستئجار علی المعاصي باطل. (المبسوط 16/38) | ’’ موسیقی ، نوحہ گری ، مزامیر، طبل اور گانے بجانے کا دوسرا ساز و سامان اجرت پر لینا جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ گناہ ہے، اور گناہ کی چیزوں کو اجرت پر لینا باطل بات ہے۔‘‘ |
أن الملاہي کلہا حرام حتی التغني بضرب القضیب وکذا قول أبي حنیفۃ رحمہ اللّٰہ ابتلیت لأن الابتلاء بالمحرم یکون. (الہدایہ 4/365) | ’’ گانے بجانے کے تمام ساز و سامان حرام ہیں ، یہاں تک کہ چھڑی سے بجانا اور اُس کے ساتھ گانا بھی حرام ہے۔ یہی قول امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا ہے۔ اُنھوں نے کہا:(ایک مجلس میں) میں گانا سننے کی مصیبت میں مبتلا ہو گیا تھا۔ابتلا، ظاہر ہے کہ حرام بات ہی پر ہوتی ہے۔‘‘ |
ولا یجوز الاستئجارۃ علی الغناء والنوح وکذا سائر الملاھی لانہ استئجار علی المعصیۃ والمعصیۃ لاتستحق بالعقد. (الہدایہ 3/238) | ’’موسیقی اورنوحہ گری کی اجرت جائز نہیں ہے اور اِسی طرح آلاتِ موسیقی کی بھی۔ اِس لیے کہ یہ گناہ کی اجرت ہے اور گناہ کی اجرت باہم طے کر لینے کے باوجود جائز نہیں ہوتی۔‘‘ |
ولاتجوزالإجارۃ علی تعلیم الغناء والنوح لأن ذلک معصیۃ. (المبسوط 16/41) | ’’موسیقی اور نوحہ گری کی تعلیم کی اجرت جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ گناہ ہے۔ ‘‘ |
لا تقبل شہادۃ المخنث... ولا نائحۃ ولا مغنیۃ لأنہما یرتکبان محرمًا فإنہ علیہ الصلاۃ والسلام نہی عن الصوتین الأحمقین النائحۃ والمغنیۃ. (الہدایہ 3/ 122) | ’’مخنث کی گواہی قبول نہ کی جائے ... اور نوحہ گر اور مغنیہ کی گواہی بھی قبول نہ کی جائے، کیونکہ یہ حرام فعل کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو احمقانہ آوازوں سے منع فرمایا ہے: ایک نوحہ گر کی آواز اور دوسری مغنیہ کی۔‘‘ |
ولا شھادۃ صاحب الغناء الذی یخادن علیہ ویجمعہم. (المبسوط 16/132) | ’’اُس مغنی کی گواہی قبول نہیں ہو گی، جس کی لوگ مصاحبت اختیار کرتے ہیں اوروہ مجمع لگاتا ہے۔‘‘ |
بعض علماے احناف موسیقی کو مجرد طور پر حرام قرار نہیں دیتے ، بلکہ اُسی موسیقی کو حرام قرار دیتے ہیں ،جس کے اشعارغیر اخلاقی مضامین پر مبنی ہوں۔
علامہ ابنِ ھمام لکھتے ہیں:
أن التغني المحرم هو ما كان في اللفظ ما لا يحل كصفة الذكر والمرأة المعينة الحية ووصف الخمر المهيج إليها والدويرات والحانات والهجاء لمسلم أو ذمي إذ أراد المتكلم هجاءه لا إذا أراد إنشاد الشعر للاستشهاد به أو لتعلم فصاحته وبلاغته. . . نعم إذا قيل ذلك على الملاهي امتنع وإن كان مواعظ وحكمًا للآلات نفسها لا لذلك التغني. (فتح القدیر 7/410) | ’’ایسے اشعار گانا حرام ہے ، جن کا مضمون حرام باتوں پر مشتمل ہو ۔ مثلاً ایسے شعر جن میں کسی زندہ اور معروف آدمی یا عورت کے حسن و جمال کی تعریف کی گئی ہو ، یا شراب کی خوبیاں بیان کر کے شراب نوشی پر ابھارا گیا ہو یا جن میں گھر اور چار دیواری کا تجسس پیدا کیا گیا ہو یا کسی ذمی یا مسلمان کی ہجو کی گئی ہو، اگر گانے والا واقعی ہجو ہی کا ارادہ رکھتا ہو۔ البتہ اگر کسی شعر کو بہ طورِ حوالہ یا فصاحت و بلاغت سیکھنے کے لیے پڑھا جائے تو یہ ممنوع نہیں...۔ ہاں، اگر ناصحانہ یا حکمت بھری باتیں بھی آلاتِ موسیقی کے ساتھ کہی جائیں تو وہ بھی ممنوع ہوں گی۔ممانعت موسیقی کے آلات کی وجہ سے ہو گی، نہ کہ اُن اشعار کی وجہ سے۔ ‘‘ |
علامہ ابنِ عابدین نےاِسی موقف کو اِن الفاظ میں بیان کیا ہے :
أن آلة اللهو ليست محرمةً لعينها، بل لقصد اللهو منها إما من سامعها أو من المشتغل بها وبه تشعر الإضافة ألا ترى أن ضرب تلك الآلة بعينها حل تارةً وحرم أخرى باختلاف النِية بسماعها و الأمور بمقاصدها. (رد المحتار6/350) | ’’ آلۂ لہو فی نفسہٖ حرام نہیں ہے، بلکہ ارادۂ لہو کی وجہ سے ہے ۔خواہ یہ ارادہ سننے والے کا ہو یا گانا گانے والے کا۔ گویا یہ ایک اضافی چیز ہے۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ یہی ساز ایک موقع پر حرام ہوتا ہے اور دوسرے موقع پر حلال؟ یہ فرق محض اُن کو سننے کی نیت کی وجہ سے ہوتا ہے یا اُن باتوں کی وجہ سے، جو اُس کے مقصد سے متعلق ہوں۔‘‘ |
علامہ علاؤ الدین کاسانی تنہائی میں گانا گانے کو ناجائز نہیں سمجھتے، مگر اُس کے مظاہرے کو ناجائز سمجھتے ہیں۔لکھتے ہیں :
وأما المغني فإن كان يجتمع الناس عليه للفسق بصوته فلا عدالة له وإن كان هو لا يشرب لأنه رأس الفسقة وإن كان يفعل ذلك مع نفسه لدفع الوحشة لا تسقط عدالته لأن ذلك مما لا بأس به لأن السماع مما يرقق القلوب لكن لا يحل الفسق به. (بدائع الصنائع 6/269) | ’’جس مغنی کے گرد لوگ گانے سے محظوظ ہونے کے لیے جمع ہو جاتے ہیں، وہ عادل نہیں ہے، خواہ شراب نہ پیتا ہو، کیونکہ وہ بدکاروں کا سرغنہ ہے۔ البتہ، اگر وہی تنہائی میں وحشت دور کرنے کے لیے گا لے تو اُس کی عدالت ساقط نہیں ہو گی۔ اِس لیے کہ اِس میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ سماع سے دل میں رقت پیدا ہوتی ہے۔ البتہ، فاسقانہ انداز میں اِس سے حظ اٹھانے کو حلال نہیں کہا جا سکتا۔‘‘ |
اِسی طرح وہ تمام آلاتِ موسیقی کو حرام قرار نہیں دیتے، بلکہ بانس اور دف کا استثنا بیان کرتے ہیں:
وأما الذي يضرب شيئًا من الملاهي فإنه ينظر إن لم يكن مستشنعًا كالقصب والدف ونحوه لا بأس به ولا تسقط عدالته وإن كان مستشنعًا كالعود ونحوه سقطت عدالته لأنه لا يحل بوجه من الوجوه. (بدائع الصنائع 6/269) | ’’اگر کوئی شخص کسی آلۂ موسیقی میں مشغول ہو تو یہ دیکھا جائے گا کہ وہ آلہ فی نفسہٖ شنیع ہے یا نہیں ۔اگر فی نفسہٖ شنیع نہ ہو، جیسے کہ بانس اور دف تو اُس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے۔ وہ شخص عادل ہی رہے گا اور اگر وہ آلہ شنیع ہو، جیسے عود وغیرہ تو اُس شخص کی عدالت ختم ہو جائے گی۔ اِس لیے کہ یہ عود وغیرہ کسی حالت میں بھی جائز نہیں ہیں ۔ ‘‘ |
امام شافعی موسیقی کے پیشے کو باطل قرار دیتے ہیں۔ وہ ایسے شخص کی شہادت کو بھی ناقابل قبول قرار دیتے ہیں، جو اپنی لونڈی کا گانا دوسرے لوگوں کوسنوائے :
قال الشافعی رحمہ اللّٰہ فی الرجل یغني فیتخذ الغناء صناعۃ یؤتی علیہ ویأتي لہ ویکون منسوبًا إلیہ مشہورًا بہ معروفًا والمرأۃ لاتجوز شہادۃ واحد منہما وذلک أنہ من اللہو المکروہ الذی یشبہ الباطل. (الام 6/226) | ’’امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ مرد و عورت جو موسیقی کے پیشے سے وابستہ ہیں اور اُسے پیشہ بنا لیتے ہیں اور لوگ اُن کے پاس آتے ہیں، اور وہ بھی جو پیشہ ور مغنی یا مغنیہ کی حیثیت سے لوگوں کی محفلوں میں جاتے ہیں، اِسی فن سے منسوب ہیں اور اِسی کے حوالے سے مشہور و معروف ہیں ، اُن کی گواہی قابل قبول نہیں ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایسے مکروہ لہو و لعب اور کھیل تماشے میں مشغول ہیں، جو صاف اور صریح باطل سے مشابہ ہے۔‘‘ |
قال الشافعی رحمہ اللّٰہ تعالٰی فی الرجل یتخذ الغلام والجاریۃ المغنین وکان یجمع علیہما ویغشی لذلک فہذا سفہ ترد بہ شہادتہ وہو في الجارۃ أکثر من قبل أن فیہ سفہًا ودیاثۃ ... قال: وہکذا الرجل یغشی بیوت الغناء ویغشاہ المغنون ان کان لذلک مدمنا وکان لذلک مستعلنًا علیہ مشہودًا علیہ فہي بمنزلۃ سفہ ترد بہا شہادتہ وإن کان ذلک یقل منہ لم ترد بہ شہادتہ. (الام6/226) | ’’امام شافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اگر کسی کے پاس مغنی غلام اور لونڈی ہوں اور اُس کے ہاں اِس مقصد کے لیے لوگوں کا مجمع لگتا ہو تو یہ ایک ایسی بداخلاقی ہے، جس کی وجہ سے ایسے شخص کی گواہی قبول نہیں ہو گی۔ اِس عمل کی شناعت اُس صورت میں بڑھ جاتی ہے، جب گانے والی لونڈی ہو، کیونکہ اُس میں بداخلاقی کے ساتھ بے غیرتی بھی شامل ہو جاتی ہے ... اِسی طرح وہ شخص جو اِن گانوں باجوں کی محفلوں میں اکثر آتا جاتا ہے اور اِس قبیل کے لوگ اُس کے پاس جمع ہوتے ہیں تو اگر وہ علانیہ ایسا کرتا ہے تو اُس کی شہادت بھی رد ہو گی اور اگر وہ یہ عمل کبھی کبھار کرے تو اُس کی شہادت رد نہیں ہو گی۔‘‘[69] |
امام مالک رحمہ اللہ کی نسبت سے بیان ہوا ہے کہ وہ موسیقی اور اُس کی ہر نوع کو کراہت کے زمرے میں شامل کرتے تھے۔ چنانچہ وہ غنا کے ساتھ تلاوتِ قرآن کو مکروہ سمجھتے تھے۔ وہ اُس مغنی یا مغنیہ کو شہادت کے لیے نااہل گردانتے تھے، جو اپنے شعر و نغمہ کے ذریعے سے دوسرے لوگوں کے لیے اذیت کا باعث ہو:
قلت: أکان مالک یکرہ الغناء؟ قال: کرہ مالک قراءۃ القرآن بالألحان فکیف لا یکرہ الغناء وکرہ مالک أن یبیع الرجل الجاریۃ ویشترط أنہ مغنیۃ فہذا مما یدلک علی أنہ کان یکرہ الغناء قلت: فما قول مالک إن باعوا ہذہ الجاریۃ وشرطوا أنہا مغنیۃ ووقع البیع علی ہذا؟ قال: لا أحفظ من مالک فیہ شیئًا إلا أنہ کرہہ. (المدونۃ الکبریٰ 3/432) | ’’(راوی کا بیان ہےکہ)میں نے پوچھا : کیا امام مالک گانے کو مکروہ سمجھتے تھے؟ (ابن قاسم) کہنے لگے کہ امام مالک تو قرآنِ مجید لحن کے ساتھ پڑھنے کو بھی مکروہ سمجھتے تھے، گانے کو وہ کیونکر مکروہ نہ سمجھیں گے ! امام مالک کے نزدیک یہ بھی مکروہ ہے کہ کوئی شخص کنیز خریدے اور اُس میں یہ شرط لگائے کہ یہ کنیز مغنیہ بھی ہو ۔ چنانچہ یہ بات اِس کی دلیل ہے کہ امام مالک گانے کو مکروہ سمجھتے تھے۔میں نے کہا کہ اگر اِس شرط کے ساتھ لونڈی کو بیچا جائے اور سودا طے پا جائے تو اُس صورت میں امام مالک کی کیا راے ہے؟ اُنھوں نے کہاکہ مجھے اِس بارے میں امام مالک کی راے معلوم نہیں ہے، لیکن اتنی بات واضح ہے کہ وہ اِسے ناپسند کرتے تھے۔‘‘ |
کان مالک یکرہ الدفاف والمعازف کلہا في العرس. (المدونۃ الکبریٰ 3/432) | ’’امام مالک دفوں اورسازوں کے استعمال کو شادی بیاہ میں مکروہ سمجھتے تھے۔‘‘ |
امام احمد بن حنبل موسیقی اور آلاتِ موسیقی کو اصلاً حرام سمجھتے ہیں اور اُن کے معاوضے یا کاروبار کو حرام قرار دیتے ہیں :
وأکرہ الطبل وہو المنکر وہو الکوبۃ التي نہی عنہا النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم. (المغنی 7/83) | ’’امام احمد بن حنبل نے طبل بجانے کو ناپسند کیا ہے، یہ منکر ہے۔اِس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوبہ، یعنی طبل سے منع فرمایا ہے ۔ ‘‘ |
فصل فی الملاھی وہي علی ثلاثۃ أضرب محرم وہو ضرب الأوتار والنایات والمزامیر کلہا والعود والطنبور والمعزفۃ والرباب ونحوہا فمن أدم استماعہا ردت شہادتہ لأنہ یروي عن علي رضي اللّٰہ عنہ عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم أنہ قال: إذا ظہرت في أمتي خمس عشرۃ خصلۃً حل بہم البلاء فذکر فیہا إظہار المعازف والملاہي وقال سعید: ثنا فرج بن فضالۃ عن علي بن یزید عن القاسم عن أبي أمامۃ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ سلم: إن اللّٰہ بعثني رحمۃ للعالمین وأمرني بمحق المعازف والمزامیر لا یحل بیعہن ولا شراؤہن ولا تعلیمہن ولا التجارۃ فیہن وثمنہن حرام یعني الضاربات. وروی نافع قال: سمع ابن عمر مزمارًا قال: فوضع إصبعیہ في الیسری ونأی عن الطریق وقال لی : یا نافع، ہل تسمع شیئًا؟ قال: فقلت: لا فرفع إصبعیہ من الیسری وقال: کنت مع النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم فسمع مثل ہذا فصنع مثل ہذا. (المغنی 10/153)
| ’’فصل آلاتِ موسیقی کے بارے میں: اِن کی تین قسمیں ہیں: پہلی وہ جن کا بجانا حرام ہے۔ اِن میں ستار، بانسری، شہنائی، سارنگی، ڈھول، رباب اور اِس طرح کے دوسرے آلات شامل ہیں۔ پس جو کوئی اِنھیں مسلسل سنے گا، اُس کی گواہی رد کر دی جائے گی۔ کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب میری امت میں پندرہ خصلتیں پیدا ہو جائیں گی تو اُن پر بلاؤں کا نزول ہو گا۔ اِسی ضمن میں آپ نے آلاتِ موسیقی کے ظہور کا ذکر فرمایا اور ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے مجھے رحمت بنا کر بھیجا ہے اور مجھے گانے بجانے کے آلات اور بانسریوں کو ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔ مغنیات کی نہ خرید و فروخت اور تجارت حلال ہے اور نہ اُن کو اِس فن کی تعلیم دینا۔ اُن کا معاوضہ بھی حرام ہے۔ نافع سے روایت ہے کہ ابنِ عمر رضی اللہ عنہ نے بانسری کی آواز سنی تو اپنے کانوں میں انگلیاں رکھ لیں اور راستے سے (جہاں سے آواز آ رہی تھی) ایک طرف ہٹ گئے۔ پھر مجھ سے پوچھا: نافع،تم کچھ سن رہے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، تو اُنھوں نے انگلیاں اپنے کانوں سے ہٹائیں اور بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم راہ تھا کہ آپ نے اِس جیسی آواز سن کر ایسے ہی کیا تھا۔‘‘ |
ومالا یجوز أخذ الأجرۃ علیہ في الإجارۃ مثل الغناء والزمر وسائر المحرمات. (المغنی 6/96) | ’’اور یہ جائز نہیں ہے کہ گانا، بانسری یا دیگر حرام چیزوں کو اجرت یا کرائے پر لیا جائے۔‘‘ |
موسیقی کے حوالے سے یہ ائمۂ اربعہ اور اُن کے مکاتب کی نمایندہ آرا کی تفصیل ہے۔ اِس کا خلاصہ یہ ہے کہ موسیقی حلال یا مباح نہیں ہے، اِسےحرام یا مکروہ سمجھ کر ممنوع قرار دینا چاہیے۔ ہمارے علما و فقہا نے بالعموم اِسی موقف کو اختیار کیا ہے۔ اِس موقف کے لیے قرآن و حدیث کے نصوص سے استدلال کیا گیا ہے۔ ذیل میں اِن نصوص کو نقل کر کے استدلال کا تنقیدی جائزہ لیا گیاہے۔
____________