*عام طور پر یہ تصور پایا جاتا ہے کہ قرآن و حدیث نے موسیقی کو حرام ٹھہرایا ہے۔
* استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کے نزدیک یہ تصور درست نہیں ہے۔
* اُن کا موقف یہ ہے کہ قرآنِ مجید اِس کی حرمت کے ذکر سے خالی ہے۔ احادیث سے بھی یہ بات پوری طرح مبرہن ہے کہ موسیقی حلال ہے، شریعت نے اِسے ہرگز حرام قرار نہیں دیا ہے۔
*موسیقی کی حلت و حرمت کی بحث کو سمجھنے کے لیے تین سوال بنیادی اہمیت کے حامل ہیں:
1۔ شریعت نے بعض کاموں کو حرام کیوں ٹھہرایا ہے؟
2۔ شریعت نے کن کاموں کو حرام ٹھہرایا ہے؟
3۔ جن کاموں کو شریعت نے حرام ٹھہرایا ہے، کیا اُن میں غنا اور موسیقی شامل ہیں ؟
*اِ ن سوالوں کے جواب عنوانات کے تحت درج ہیں۔
1۔ انسان کا نصب العین جنت الفردوس ہے اور اِس نصب العین کو پانے کے لیے اللہ کا مقرر کردہ طریقہ تزکیۂ نفس ہے۔
2۔ اِس کا مطلب ہے کہ انسان اپنے ظاہر و باطن کو اور اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو ہر لحاظ سے پاکیزہ بنائے۔
3۔ اِس مقصد کے لیے دین نے کچھ کاموں کو کرنے کا حکم دیا ہے اور کچھ کاموں سے روکا ہے۔ جن کاموں کو کرنے سے روکا ہے، اُنھیں اصطلاح میں ’حرام ‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
4۔ چنانچہ شریعت کا کچھ کاموں کو حرام ٹھہرانے کا مقصد نفوسِ انسانی کا تزکیہ و تطہیر ہے۔
1۔ شریعت میں جن چیزوں سے منع کیا گیا ہے، وہ اخلاقیات اور خور و نوش کے دائروں سے متعلق ہیں۔
2۔یہ وہ آلایشیں ہیں،جو انسانوں کے اعمال و اطوار اور کھانے پینے کو آلودہ کرنے والی ہیں۔
3۔ خور و نوش کے معاملے میں شریعت نے خبائث (ناپاک چیزیں) کو حرام ٹھہرایا ہے۔
i۔اِن خبائث سے انسان فطری طور پر واقف ہے۔
ii ۔چنانچہ شریعت نے اِن کی کوئی جامع و مانع فہرست کبھی پیش نہیں کی۔
iii ۔تاہم اِن میں سے چار (4) چیزوں کے بارے میں خود فیصلہ کر کے اُنھیں حرام قرار دیا ہے ۔
iv۔یہ چیزیں مردار، خون، سؤر کاگوشت اور غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ ہیں۔
v۔اِن کی تعیین کا سبب یہ ہے کہ اِن کے بارےمیں یہ اشتباہ پیدا ہو سکتا ہے کہ اِنھیں طیب سمجھ کر کھا لیا جائے یا خبیث سمجھ کر چھوڑ دیا جائے۔
4۔جہاں تک اخلاقیات کا تعلق ہے تو شریعت نے اِس دائرے کی پانچ (5)چیزوں کو حرام قرار دیا ہے۔ یہ چیزیں فواحش، حق تلفی، ناحق زیادتی، شرک اور بدعت ہیں۔
i۔’’فواحش‘‘ سے مراد زنا، اغلام، وطی بہائم اور اِن جیسے جنسی بے راہ روی کے کام ہیں۔
ii۔’’حق تلفی‘‘سے مراد وہ عمل ہے، جس کے نتیجے میں حق دار حق سے محروم ہو جائے یا مستحق کا استحقاق مجروح ہو جائے۔
iii۔’’ ناحق زیادتی ‘‘ کا اطلاق قتل، چوری، مذہبی جبر اور فساد فی الارض جیسے ظلم و زیادتی اور سرکشی و بغاوت کےجرائم پر ہوتا ہے ۔
iv۔’’شرک‘‘ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات یا صفات یا اُس کی تدبیرِ امور میں کسی کو حصہ دار سمجھا جائے۔ یہ حق تلفی اور ناحق زیادتی کی بدترین صورت ہے۔
v۔’’بدعت‘‘یہ ہے کہ اللہ اور اُس کے رسول کی سند کے بغیر کسی بات کو دین کی حیثیت سے پیش کیا جائے۔
5۔خلاصہ یہ ہے کہ قرآنِ مجید نے خبائث کی اصولی حرمت کے علاوہ کل نو (9) چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے۔ اِن میں سے پانچ (5) کا تعلق اخلاقیات سے اور چار(4) کا خور و نوش سے ہے۔
6۔ اِن دونوں نوعیت کی حرمتوں کا تعین کرتے ہوئے ’اِنَّمَا‘ کا کلمۂ حصر استعمال کیا ہے، جس کے معنی ’صرف‘، ’محض‘ اور ’فقط‘ کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ شریعت نے فقط اِنھی چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے، اِن کے علاوہ کسی اور چیز کو حرام قرار نہیں دیا۔
1۔درجِ بالا مباحث کی روشنی میں جب غنا اور موسیقی کی حلت و حرمت کا سوال پیدا ہوتا ہےتو شریعت کا جواب اِن نکات پر مشتمل ہے:
i۔قرآنِ مجید کی متعین حرمتوں میں غنا اور موسیقی شامل نہیں ہیں۔
ii ۔قرآنِ مجید میں اِن کی الگ سے بھی ممانعت مذکور نہیں ہے۔
iii ۔ چنانچہ یہ جائز اور مباح ہیں، اِنھیں حرام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
iv ۔اِن کی کسی صورت میں اگر اخلاقی حرمتیں، مثلاً شرک یا فواحش شامل ہو جائیں تو وہ صورت ممنوع ہو گی۔
v ۔تاہم حرمت کا سبب غنائیت نہیں، بلکہ شرک یا فواحش کی آلودگی ہو گی۔
1۔زینت کا لفظ عربی زبان میں اُن چیزوں کے لیے آتا ہے، جن سے انسان اپنی حس جمالیات کی تسکین کے لیے کسی چیز کو سجاتا بناتا ہے۔
2۔چنانچہ لباس، زیورات وغیرہ بدن کی زینت ہیں؛ پردے، صوفے، قالین، غالیچے، تماثیل، تصویریں اور دوسرا فرنیچر گھروں کی زینت ہے؛ باغات، عمارتیں اور اِس نوعیت کی دوسری چیزیں شہروں کی زینت ہیں؛ شاعری کلام کی زینت ہے۔
3 ۔ غنا اور موسیقی آواز کی زینت ہیں۔
4 ۔ سورۂ اعراف (7) کی آیات 31 تا 32 سے زینت کی حلت کا حکم پوری طرح واضح ہوتا ہے۔ اُس کا خلاصہ یہ ہے:
i۔ ’زِیۡنَۃَ اللّٰہِ‘ (اللہ کی زینت) کے الفاظ سے واضح ہے کہ اللہ نے زینت کو اپنی نسبت سے بیان کیا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ زینت اللہ کی نعمت ہے۔
ii۔ اللہ نے دنیا میں یہ زینتیں اصلاًاپنے مومن بندوں کے لیے پیدا کی ہیں۔
iii۔ آخرت میں یہ صرف اہل ایمان کے لیے مختص ہوں گی۔ چنانچہ جنت سراپا زینت ہے۔
5۔چنانچہ قرآن میں مذکور زینتوں کی حلت کا حکم دیگر زینتوں کے ساتھ غنا اور موسیقی کی زینت کو بھی شامل ہے۔
*رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب روایتوں سے بھی یہ بات پوری طرح مبرہن ہو جاتی کہ غنا اور موسیقی حلال ہیں، شریعت نے اِنھیں ہر گز حرام قرار نہیں دیا ہے۔
1۔مسند احمد کی ایک روایت، رقم15720 میں بیان ہوا ہےکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مغنیہ کو سیدہ عائشہ سے متعارف کرایا اور اُنھیں اُس کا گانا سنوایا۔
2۔مسند احمد ہی کی ایک روایت، رقم 23011 میں نقل ہوا ہے کہ ایک گانے والی لونڈی نے اپنی نذر پوری کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گانا سنانےکی اجازت طلب کی۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم نے واقعی نذر مانی ہے تو ایسا کر لو، ورنہ رہنے دو۔چنانچہ اُس نے آپ کی موجودگی میں گانا سنایا۔
3۔نسائی کی السنن الكبرىٰ، رقم 4236 کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک موقع پر جہاد یا دعوت کے کسی سفر سے واپس تشریف لائے تو لوگوں نے آپ کا استقبال کیا۔ اِس موقع پر حبشہ سے تعلق رکھنے والے سیاہ فام مردوں نے آپ کے آگے ناچنا اور گانا شروع کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنھیں ناچنے اور گانے سے منع نہیں فرمایا۔
4۔ابن ماجہ کی ایک روایت ، رقم 1899میں حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے یثرب میں داخل ہوئے تو لڑکیوں نے آپ کے استقبال کے لیے دف بجاے اور گیت گائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے شفقت کا اظہار فرمایا۔
5۔ابن ماجہ ہی کی ایک روایت ، رقم 1897میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک شادی کی تقریب میں شریک ہوئے تو لڑکیاں دف بجا کر گیت گا رہی تھیں۔ آپ نے اُنھیں اپنے بارے میں ایک شعر پڑھنے سے روک دیا، مگر گیت گانے سے منع نہیں فرمایا۔
6۔صحیح بخاری ، رقم 5162 ، ابن ماجہ، رقم 1900 اور بعض دیگر کتابوں میں یہ واقعہ نقل ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دلہن کی رخصتی کی ایک تقریب میں تشریف لائے۔ وہاں غنا کا اہتمام نہ دیکھ کر آپ نے پوچھا کہ کیا اِس موقع پر غنا کا انتظام نہیں کیا گیا؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نفی میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ بہتر ہوتا کہ کسی گانے والے کو دلہن کے ساتھ بھیج دیاجاتا ، کیونکہ انصار گانے کو پسند کرتے ہیں۔
7۔مسند احمد کی ایک روایت، رقم 18280کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کے موقع پر دف بجانے کو ضروری قرار دیا تاکہ اُس کی آوازوں سے لوگ نکاح کے بارے میں مطلع ہو جائیں اور معاشرے میں خفیہ نکاح کرنے کے راستے مسدود ہو جائیں۔
8۔صحیح بخاری کی ایک روایت، رقم 952 میں نقل ہوا ہے کہ عید کے دن دو لونڈیاں سیدہ عائشہ کو گیت سنانے لگیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قریب میں آرام فرما رہے تھے۔ اِس دوران میں حضرت ابو بکر گھر میں داخل ہوئے۔ اُنھوں نے اِس پر خفگی کا اظہار کیا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم متوجہ ہوئے اور اُنھیں ایسا کرنے سے منع کر دیا اور فرمایا کہ اِنھیں گانے دو، کیونکہ آج تو ہماری عید کا دن ہے۔
9۔مسند احمد کی روایت، رقم 13377، نسائی کی السنن الكبرىٰ کی روایت، رقم8193 اور صحیح مسلم کی روایت،رقم 1802 سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سفروں میں قافلوں کے ساتھ مشاق حدی خواں ہوتے، جو اشعار گا کر اونٹوں کو ہانکتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سفروں کے لیے کچھ حدی خوانوں کو مختص کیا ہوا تھا۔ اُن میں سے بعض مردوں کے اونٹوں کے لیے اور بعض عورتوں کے اونٹوں کے لیے حداء سرائی کرتے تھے ۔
10۔مسند اسحاق بن راہویہ کی ایک روایت، رقم 624 اورصحیح ابن حبان کی ایک روایت، رقم 892 میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کو جب غنا سے قرآن پڑھتے ہوئے سنا تو اُن کی تحسین کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ نے اُنھیں قوم داؤد کے سازوں میں سے ایک ساز عطا فرمایا ہے۔ آپ کے فرمان سے اِس امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ اللہ کے ایک جلیل القدر پیغمبر سیدنا داؤد علیہ السلام اور اُن کی قوم کے لوگ اللہ کے حضور میں دعا و مناجات کو گیتوں کی صورت میں گاتے اور سازوں کے ساتھ پیش کرتے تھے۔
11۔صحیح بخاری کی ایک روایت،رقم 7544 سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ غنا سے قرآن پڑھنے کو بہت پسند فرماتے ہیں۔
12۔صحیح ابن حبان کی ایک روایت، رقم 6272 میں یہ واقعہ نقل ہوا ہے کہ نوجوانی کے زمانے میں آپ نے یہ ارادہ کیا کہ آپ ایک رات اُسی طرح گزاریں گے، جیسے قریش کے نوجوان گزارتے ہیں، مگر راستے میں ایک شادی کے گیتوں نے آپ کو متوجہ کر لیا اور آپ آگے جانے کے بجاے وہیں رک گئے، یہاں تک کہ آپ کو نیند نے آ لیا۔ اگلی رات بھی بعینہٖ یہی معاملہ ہوا۔ بعثت کے بعد آپ نے یہ واقعہ سنا کر بتایا کہ دونوں موقعوں پر اللہ نے آپ کی حفاظت فرمائی۔ روایت سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت کے لیے موسیقی کو سبب بنایا۔
13۔صحیح بخاری کی ایک روایت، رقم 3091 میں بیان ہوا ہے کہ ایک موقع پر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے مغنیہ کے گانے سے مسحور ہو کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دو اونٹنیوں کو ذبح کر ڈالا۔ اِس غیر معمولی واقعے کے باوجود نہ قرآنِ مجید نے موسیقی کو حرام ٹھہرایا اور نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موسیقی پر پابندی عائد فرمائی۔
* ہمارے بیش تر علما و فقہا موسیقی کی حرمت کے قائل ہیں۔ فقہ کے معروف مکاتب کا بالعموم اِس بات پر اتفاق ہے کہ موسیقی اور آلات ِموسیقی علی الاطلاق حرام ہیں۔
1۔احناف موسیقی ، آلاتِ موسیقی اور پیشۂ موسیقی کو معصیت سے تعبیر کرتے ہیں۔وہ غنا کی تعلیم و تربیت کو ناجائز ٹھہراتے اور مغنی یا مغنیہ کی شہادت کو ناقابل قبول قرار دیتے ہیں۔
2۔امام شافعی موسیقی کے پیشے کو باطل قرار دیتے ہیں۔ وہ ایسے شخص کی شہادت کو بھی ناقابل قبول قرار دیتے ہیں، جو اپنی لونڈی کا گانا دوسرے لوگوں کوسنوائے۔
3۔امام مالک کی نسبت سے بیان ہوا ہے کہ وہ موسیقی اور اُس کی ہر نوع کو کراہت کے زمرے میں شامل کرتے تھے۔ چنانچہ وہ غنا کے ساتھ تلاوتِ قرآن کو مکروہ سمجھتے تھے۔ وہ اُس مغنی یا مغنیہ کو شہادت کے لیے نااہل گردانتے تھے، جو اپنے شعر و نغمہ کے ذریعے سے دوسرے لوگوں کے لیے اذیت کا باعث ہو۔
4۔امام احمد بن حنبل موسیقی اور آلاتِ موسیقی کو اصلاً حرام سمجھتے ہیں اور اُن کے معاوضے یا کاروبار کو حرام قرار دیتے ہیں۔
*موسیقی کی حرمت کے لیے بالعموم قرآنِ مجید کے چار مقامات کو بنیاد بنایا گیا ہے۔
1۔سورۂ لقمان(31) کی آیت 6 میں ’لَھْوَ الْحَدِیْثِ‘کے الفاظ سے ’’غنا‘‘ کا مفہوم مراد لے کر اِنھیں موسیقی کی حرمت کے لیے بناے استدلال بنایا جاتا ہے۔
2۔ جناب جاوید احمد غامدی کے نزدیک ’لَھْوَ الْحَدِیْثِ‘کی ترکیب کی غنا یا آلاتِ غنا کے مفہوم میں تخصیص درست نہیں ہے۔اِس کے لغوی معنی ’’ کھیل تماشے کی چیز‘‘ یا ’’غافل کر دینے والی بات‘‘ کے ہیں، جو غنا کی تخصیص کو قبول نہیں کرتے ۔ مزید برآں، آیت کے الفاظ اور سیاق و سباق میں ایسا کوئی قرینہ نہیں ہے کہ ’لَھْوَ الْحَدِیْثِ‘کو غنا کے مصداق کا حامل سمجھا جائے۔ چنانچہ اُنھوں نے اِن کا ترجمہ فضولیات کیا ہے۔
3۔’لَھْوَ ‘ کا لفظ سورۂ لقمان کے علاوہ نو (9) مقامات پر آیا ہے۔ اُن میں کسی ایک جگہ پر بھی سیاقِ کلام غنا کی تخصیص کو قبول نہیں کرتا۔
1۔سورۂ بنی اسرائیل (17) کی آیت4 6 میں’بِصَوْتِکَ ‘کے الفاظ میں شیطان کی آواز کے مفہوم کا مصداق غنا کو قرار دے کر موسیقی کی حرمت پر استدلال کیا گیا ہے۔
2۔غامدی صاحب کے نزدیک یہ استدلال درست نہیں ہے۔ آیت کے الفاظ،بیان کے درو بست اور کلام کے سیاق و سباق میں اِس تخصیص کے لیے کوئی قرینہ نہیں ہے ۔
3۔ اُن کے نزدیک یہاں شیطان کی آواز سے وہ شور و غوغا مرادہے، جو شیطان کے اٹھائے ہوئے لیڈر، رہنما، دانش ور اور مذہبی پیشوا حق اور اہل حق کے خلاف ہمیشہ برپا کیے رہتے ہیں۔
1۔ بعض مفسرین اور فقہا نے سورۂ فرقان(25) کی آیت72 کے لفظ ’الزُّوْر ‘سے غنا مراد لیا ہے اور اِس بنا پر موسیقی کو باطل قرار دیا ہے۔
2۔جناب جاوید احمد غامدی کے نزیک ’الزُّوْر ‘کے معروف اور مستعمل معنی باطل اور جھوٹ کے ہیں۔ نہ زبان و بیان کی رو سےاِس کےمعنی غنا ہو سکتے ہیں اور نہ سیاقِ کلام کی روشنی میں اِس سے غنا مراد لیا جا سکتا ہے۔
3۔ اِس کے معنی جھوٹ اور باطل کے ہیں۔اِس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اپنے فرماں بردار بندوں کی صفات بیان فرمائی ہیں اور بتایا ہے کہ وہ کسی جھوٹ اور باطل میں شریک نہیں ہوتے۔
1۔ سورۂ نجم (53) کی آیت72 کے الفاظ ’وَاَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ ‘ سے بھی موسیقی کا مفہوم لیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر سید ابو الاعلیٰ مودودی نے ان کا ترجمہ ’’اور گا بجا کر اُنھیں ٹالتے ہو‘‘ کیا ہے۔ اِس بنا پر موسیقی کو ایک باطل چیز قرار دیا گیاہے ۔
2۔استاذِ گرامی کے نزدیک اِس آیت کے مذکورہ الفاظ کو ’غنا‘کے معنی پر محمول کرنا درست نہیں ہے۔ زبان اور سیاق و سباق، دونوں اِسے قبول کرنے میں مانع ہیں۔
3۔ اِس کے معنی غافل ہونے، مدہوش ہونے، بے اعتنائی برتنے کے ہیں، اِن کے علاوہ یہاں کوئی اور معنی نہیں لیے جا سکتے۔
*موسیقی کی حرمت کے لیے چند روایتوں کو بھی بنیاد بنایا گیا ہے۔
1۔بخاری، رقم5590 میں بیان ہوا ہے کہ ایک زمانہ آئے گا کہ لوگ زنا ، ریشم، شراب اور سازوں کو حلال تصور کریں گے۔ اِس میں’’حلال کر لیں گے‘‘(یستحلون) کے الفاظ دلیل ہیں کہ یہ چیزیں شریعت میں حرام ہیں۔
2۔جناب جاوید احمد غامدی کے نزدیک اِس روایت سے موسیقی کی علی الاطلاق حرمت مراد نہیں ہے۔یہ آلاتِ موسیقی کے ایسے استعمال کی حرمت کو بیان کر رہی ہے، جب اُنھیں شرک اور فواحش کے اظہار اور اُن کی ترغیب و ترویج کے لیے استعمال کیا جائے۔
1۔بعض روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ گھنٹی شیطان کے سازوں میں سے ایک سازہے۔ فرشتے مسافروں کی اُس جماعت کے ہم راہ نہیں ہوتے، جس میں گھنٹیاں بج رہی ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگِ بدر کے موقع پر حکم دیا کہ اونٹوں کی گردنوں میں لٹکی ہوئی گھنٹیوں کو کاٹ دیا جائے۔ اِن روایتوں سے آلاتِ موسیقی کی حرمت کا حکم اخذ کیا جاتا ہے۔
2۔غامدی صاحب کے نزدیک اِن روایتوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گھنٹی سے ناپسندیدگی کے وجوہ بیان نہیں ہوئے۔ اِنھیں اگر دیگر روایتوں کی روشنی میں جاننے کی کوشش کی جائے تو دومختلف پہلو سامنے آتے ہیں۔
i۔گھنٹی کی آواز کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور فرشتوں کی ناپسندیدگی کا باعث اُس کا تسبیح و تقدیس میں خلل انداز ہونا ہو سکتا ہے۔
ii۔ جہاں تک بدر کے موقع پر اونٹوں کی گھنٹیوں کو کاٹ دینے کے حکم کاتعلق ہے تو عین ممکن ہے کہ اِس کی وجہ کوئی جنگی ضرورت ہو۔
1۔مسند احمد، رقم 4535 سے بھی موسیقی کی حرمت پر استدلال کیا جاتا ہے۔ اِس میں بیان ہوا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے راہ چلتے ہوئے بانسری کی آواز سنی تو اپنی انگلیوں سے کان بندکر لیے اور راستہ بدل لیا۔ اِس کے بعد اُنھوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔
2۔غامدی صاحب کے نزدیک اِس روایت سےبانسری یا دیگر آلاتِ موسیقی کی حرمت کا حکم اخذ کرنا درست نہیں ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ متعدد روایتوں سے واضح ہے کہ کئی موقعوں پر آپ کے سامنے ساز بجاے گئے، مگر آپ نے نہ کان میں انگلیاں ڈالیں اور نہ ساز بجانے سے منع فرمایا۔ مذکورہ واقعے میں غالب امکان یہی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا اُس وقت کیا ہو گا، جب کسی سفر کے دوران میں بانسری کی آواز آپ کے ذکر اذکار میں مخل ہوئی ہو گی۔
____________