قرآن میں زینتوں کی حلت

 زینتوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ وہ اُس کے مومن بندوں کے لیے پیدا کی گئی ہیں اور دنیا  اور آخرت، دونوں میں اُنھی کے لیے مختص ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اِن پر نہ کوئی پابندی عائد کی ہے اور نہ اِن سے بے اعتنائی کی ترغیب دی ہے۔ اِس کے برعکس،  اُن مذہبی پیشواؤں کو تنبیہ فرمائی ہے،جو اِنھیں حرام قرار دے کر لوگوں کو اِن سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔ اِس تنبیہ کے ساتھ اللہ نے وہ اصولی رہنمائی بھی ارشاد فرمائی ہے، جس پر اسباب حسن و جمال کے حلال و حرام کا انحصار ہے۔ یہ تنبیہ و تہدید اور اصولی رہنمائی سورۂ اعراف (7) کی آیت31- 32 میں مذکور ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:

یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ خُذُوۡا زِیۡنَتَکُمۡ عِنۡدَ کُلِّ مَسۡجِدٍ وَّ کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا وَ لَا تُسۡرِفُوۡا ۚ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الۡمُسۡرِفِیۡنَ. قُلۡ مَنۡ حَرَّمَ زِیۡنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیۡۤ اَخۡرَجَ لِعِبَادِہٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزۡقِ ؕ قُلۡ ہِیَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا خَالِصَۃً یَّوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ.

’’آدم کے بیٹو، ہر مسجد کی حاضری کے وقت اپنی زینت کے ساتھ آؤ، اور کھاؤ پیو، مگر حد سے آگے نہ بڑھو۔ اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اِن سے پوچھو، (اے پیغمبر)، اللہ کی اُس زینت کو کس نے حرام کر دیا، جو اُس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی تھی اور کھانے کی پاکیزہ چیزوں کو کس نے ممنوع ٹھیرایا ہے؟ اِن سے کہو، وہ دنیا کی زندگی میں بھی ایمان والوں کے لیے ہیں، (لیکن خدا نے منکروں کو بھی اُن میں شریک کر دیا ہے) اور قیامت کے دن تو خاص اُنھی کے لیے ہوں گی، (منکروں کا اُن میں کوئی حصہ نہ ہو گا)۔ ہم اُن لوگوں کے لیے جو جاننا چاہیں، اپنی آیتوں کی اِسی طرح تفصیل کرتے ہیں۔‘‘

 اِس سے پہلے آیت 28 میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے اُن کاموں کی شناعت واضح کی ہے، جو وہ مذہب کے نام پر کرتے تھے۔ اِن میں سب سے نمایاں کام بیت اللہ کا برہنہ طواف تھا۔ مرد اور عورتیں، دونوں عبادت کی آڑ میں اِس عریانی کا ارتکاب کرتے تھے۔ بدن کی زینتــــ لباس ــــ کو اتارنے کا حکم دیا جاتا تھا۔دلیل یہ تھی کہ یہ دنیا داری کی آلایش ہے، اِس لیے اِس سے پاک ہو کر بیت اللہ میں داخل ہونا چاہیے۔ بے حیائی کے اِس ناپاک کام کو اللہ کے حکم اوراپنے آبا و اجدادکی سنت کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اِس بے حیائی کی اپنی طرف نسبت کی سختی سے تردید فرمائی ہے اور پوری تنبیہ و تہدید کے ساتھ فرمایا ہے کہ اللہ پرایسی بے سند اور بے دلیل بات کی تہمت کیوں لگاتے ہو؟

اِس پس منظر میں حکم فرمایا ہے کہ اللہ کی عبادت گاہ میں آنے کے لیے بدن کی زینت، یعنی لباس سے آراستہ ہو کر آؤ۔ گویا اِس معاملے میں نہ بے حیائی کی کوئی گنجایش ہے کہ برہنہ ہو جاؤ اور نہ رہبانیت کی کہ اِس بد ذوقی اور بے زینتی کو اللہ سے منسوب کرنے لگو۔مزید واضح فرمایا ہے کہ بدن کی زینت کے ساتھ غذا کی زینت پر بھی کوئی پابندی نہیں ہے۔ یعنی خور و نوش کے جو طیبات زندگی کی سلامتی اور لذتِ کام و دہن کے لیے گھر در میں استعمال کرتے ہوں، وہ مسجدوں میں بھی استعمال کر سکتے ہو۔جس طرح لباس دین داری کے خلاف نہیں ہے، اُسی طرح کھانے پینے میں اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانا بھی دین داری کے خلاف نہیں ہے۔

 اِس معاملے میں جو ممانعت ہے، وہ اسراف کی ہے۔ــــ اللہ کی نعمتوں کے معاملے میں عدل و قسط پر قائم نہ رہتے ہوئے حدِ اعتدال سے تجاوز کرنا اسراف ہے۔ ــــچنانچہ جس طرح اللہ کی نعمتوں سے بے پروائی برتنا غیر اخلاقی رویہ ہے، اُسی طرح اُنھیں فضول طریقے سے ضائع کر دینا بھی خلافِ اخلاق ہے۔ نعمت کو مسترد کرنا یا اُس کا بے مصرف استعمال کرنا، دونوں رویے نعمت کی ناقدری کا اظہار ہیں۔  فیضانِ الٰہی کے بارے میں ایسی بد تہذیبی اور ایسی بے باکی کو ہرگز گوارا نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ کا دین فطرت کے توازن پر قائم ہے، لہٰذاوہ اِس معاملے میں کسی عدمِ توازن اور کسی افراط و تفریط کو تزکیۂ نفس کے خلاف ہونے کی وجہ سے رد کرتا ہے۔

مسجد وں میں حاضری کی باطل اور خود ساختہ پابندیوں کی تردید کے بعد زینت کی تمام چیزوں کے بارے میں اصولی ہدایت ارشاد فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نےاِس میں واضح کر دیا ہے کہ کسی چیز کو حرام قرار دینا کس کا حق ہے اور زینتوں کے بارے میں اُس کا اصولی حکم کیا ہے۔

اِس حکم کی تفہیم کے لیے ضروری نکات درجِ ذیل ہیں:

زینت کا مفہوم

 زینت عربی زبان کا معروف لفظ ہے۔ ’زانہ‘ اور ’زینہ‘کے معنی کسی چیز کے حسن کو ظاہر کرنے، اُسے سجانے سنوارنے اور خوش نما صورت میں پیش کرنے کے ہیں۔ استاذِ گرامی نے اِس کے معنی کی وضاحت میں لکھا ہے:

’’زینت کا لفظ عربی زبان میں اُن چیزوں کے لیے آتا ہے، جن سے انسان اپنی حس جمالیات کی تسکین کے لیے کسی چیز کو سجاتا بناتا ہے۔ چنانچہ لباس، زیورات وغیرہ بدن کی زینت ہیں؛ پردے، صوفے، قالین، غالیچے، تماثیل، تصویریں اور دوسرا فرنیچر گھروں کی زینت ہے؛ باغات، عمارتیں اور اِس نوعیت کی دوسری چیزیں شہروں کی زینت ہیں؛ غنا اور موسیقی آواز کی زینت ہے؛ شاعری کلام کی زینت ہے۔‘‘(البیان 2/ 148)

یہاں یہ لفظ اپنے اِسی عام مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ آگے ’خَالِصَۃً یَّوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ‘ (اور قیامت کے دن تو اہل ایمان کے لیےخاص ہوں گی)کے الفاظ سے اِسی کی تصدیق ہوتی ہے۔[3]

زینت کی اللہ سے نسبت

 آیت میں’زِیۡنَۃَ اللّٰہِ‘ (اللہ کی زینت) کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی اللہ نے زینت کو اپنی نسبت سے بیان کیا ہے۔ اِس سے واضح ہے کہ کسی چیز کا دل کش ہونا، بہترین ساخت پر ظاہر ہونا اور اپنے وصف کی خوبی اور کمال کا مظہر ہونا اللہ کی قدرت اور مشیت پر منحصر ہے۔ انسانوں کے اندر اِس جمال و کمال کا شعور بھی پروردگار ہی کی عطا ہے۔ چنانچہ زینتوں کی مختلف پہلوؤں سے اُس ذاتِ پاک سے نسبت کا تقاضا ہے کہ اُنھیں اللہ کی نعمت کے طور پر قبول کرناچاہیے، باعثِ عزت و افتخار سمجھنا چاہیے  اور اُن سے فیض یاب ہونے پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

دنیا میں زینتوں کا معاملہ

فرمایا ہے کہ ’ہِیَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا‘ (وہ دنیا کی زندگی میں بھی ایمان والوں کے لیے ہیں)۔یعنی اللہ نے دنیا میں یہ زینتیں اصلاًاپنے مومن بندوں کے لیے پیدا کی ہیں۔ اِس ارشادسے دو باتیں سامنے آتی ہیں: ایک یہ کہ اہل ایمان کو اِن کی تمنا کرنی چاہیے اور اِن کے حصول کے لیے تمام جائز طریقے اختیار کرنے چاہییں۔ دوسرے یہ کہ چونکہ یہ اہل ایمان کے لیے پیدا کی گئی ہیں، اِس لیے اِن میں دین و ایمان کے خلاف کسی چیز کی موجودگی کا کوئی تصور نہیں رکھنا چاہیے۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں:

’’...اللہ نے تو دنیا کی ساری زینتیں اور پاکیزہ چیزیں بندوں ہی کے لیے پیدا کی ہیں، اِس لیے اللہ کا منشا تو بہر حال یہ نہیں ہو سکتا کہ اِنھیں بندوں کے لیے حرام کر دے۔ اب اگر کوئی مذہب یا کوئی نظامِ اخلاق و معاشرت ایسا ہے، جو اِنھیں حرام، یا قابلِ نفرت، یا ارتقاے روحانی میں سدِّ راہ قرار دیتا ہے تو اُس کا یہ فعل خود ہی اِس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہے۔ یہ بھی اُن حجتوں میں سے ایک اہم حجت ہے، جو قرآن نے مذاہبِ باطلہ کے رد میں پیش کی ہیں، اور اِس کو سمجھ لینا قرآن کے طرزِ استدلال کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔ ‘‘ (تفہیم القرآن 2/ 23)

آخرت میں زینتوں کا معاملہ

 مزید فرمایا ہے: ’خَالِصَۃً یَّوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ‘ (اور قیامت کے دن تو اہل ایمان کے لیےخاص ہوں گی)۔ یعنی زینت کی یہ چیزیں آخرت میں صرف اہل ایمان کے لیے مختص ہوں گی۔ پوری بات کا مطلب یہ ہے کہ مختلف نعمتوں کی صورت میں زینت کی چیزیں اصلاً اہل ایمان کا حق ہیں۔ دنیا کی زندگی میں تو اللہ تعالیٰ نے اِن میں منکرین کو بھی شریک کر دیا ہے، مگر یومِ آخرت کے بعد یہ پوری طرح مومنوں کے لیے خاص ہو جائیں گی۔ استاذِ گرامی نے اِس کی تفسیر میں لکھا ہے:

’’... اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانا نہ ایمان کے منافی ہے، نہ دین داری کے، نہ تقویٰ کے۔ اللہ نے تو یہ چیزیں پیدا ہی اہل ایمان کے لیے کی ہیں، لہٰذا اصلاً اُنھی کا حق ہیں۔ اُس کے منکروں کو تو یہ اُن کے طفیل اور اُس مہلت کی وجہ سے ملتی ہیں، جو دنیا کی آزمایش کے لیے اُنھیں دی گئی ہے۔ چنانچہ آخرت میں یہ تمام تر اہل ایمان کے لیے خاص ہوں گی، منکروں کے لیے اِن میں کوئی حصہ نہیں ہوگا، وہ ہمیشہ کے لیے اِن سے محروم کر دیے جائیں گے۔ قرآن کا یہ اعلان، اگر غور کیجیے تو ایک حیرت انگیز اعلان ہے۔ عام مذہبی تصورات اور صوفیانہ مذاہب کی تعلیمات کے برخلاف قرآن دینی زندگی کا ایک بالکل ہی دوسرا تصور پیش کرتا ہے۔ تقرب الٰہی اور وصول الی اللہ کے لیے دنیا کی زینتوں سے دستِ برداری کی تلقین کے بجاے وہ ایمان والوں کو ترغیب دیتا ہے کہ اسراف و تبذیر سے بچ کر اور حدود الٰہی کے اندر رہ کر زینت کی سب چیزیں وہ بغیر کسی تردد کے استعمال کریں اور خدا کی اِن نعمتوں پر اُس کا شکر بجا لائیں۔‘‘ (البیان 2/ 148- 149)

جنت سراپا زینت

’خَالِصَۃً یَّوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ‘ (اور قیامت کے دن تو اہل ایمان کے لیےخاص ہوں گی) کے اِس بیان اور قرآنِ مجید کے دیگر مقامات سے واضح ہے کہ جنت سراپا زینت ہو گی۔ اُس میں دنیا والی نعمتیں اپنی اعلیٰ ترین صورت میں ہوں گی۔ یعنی اُس میں ریشم و اطلس کے پہناووں،سونے کے کنگنوں، موتیوں کے ہاروں کی صورت میں بدن کی زینتیں ہوں گی؛ محلات و باغات کی صورت میں رہن سہن کی زینتیں ہوں گی؛ پاکیزہ شراب و شباب کی صورت میں تفریح طبع کی زینتیں ہوں گی۔

حلال کو حرام قرار دینے والوں کو تنبیہ

آیت 32 کے الفاظ ’قُلۡ مَنۡ حَرَّمَ‘ (اِن سے پوچھو، کس نے حرام کر دیا؟)  کےاسلوب   سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ایسی جسارت ہر گز گوارا نہیں ہے  کہ  لوگ اُن چیزوں کو حرام ٹھہرائیں، جسے اُس نے حلال ٹھہرایا ہے۔یہ دین سازی ہے اور اللہ نے اِس  کا اختیار کسی کو نہیں دیا ہے۔  چنانچہ اُس نے اُن مذہبی پیشواؤں  کو سخت تنبیہ فرمائی ہے،  جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور مذہب کے نام پر اُس کی حلال کی  ہوئی زینتوں  کو حرام قرار دیتے ہیں۔ استاذِگرامی لکھتے ہیں:

’’...دین کی صوفیانہ تعبیر اور صوفیانہ مذاہب تو (زینت کی) اِن سب چیزوں کو مایا کا جال سمجھتے اور بالعموم حرام یا مکروہ یاقابل ترک اور ارتقاے روحانی میں سد راہ قرار دیتے ہیں، مگر قرآن کا نقطۂ نظر یہ نہیں ہے۔ اُس نے اِس آیت میں نہایت سخت تنبیہ اور تہدید کے انداز میں پوچھا ہے کہ کون ہے، جو رزق کے طیبات اور زینت کی اُن چیزوں کو حرام قرار دینے کی جسارت کرتا ہے، جو خدا نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں؟ یہ آخری الفاظ بہ طورِ دلیل ہیں کہ خدا کا کوئی کام عبث نہیں ہوتا۔ اُس نے یہ چیزیں پیدا کی ہیں تو اِسی لیے پیدا کی ہیں کہ حدودِالٰہی کے اندر رہ کر اُس کے بندے اِنھیں استعمال کریں۔ اِن کا وجود ہی اِس بات کی شہادت ہے کہ اِن کے استعمال پر کوئی ناروا پابندی عائد نہیں کی جا سکتی۔‘‘ (البیان 2/ 148)

____________