شریعت کی حرمتیں

عبادات، تطہیرِ بدن،تطہیرِ خور و نوش اورتطہیر ِاخلاق کے احکام میں جن چیزوں سے منع کیا گیا ہے، وہ خور و نوش اور اخلاقیات کے دائروں سے متعلق ہیں۔یہ وہ آلایشیں ہیں،جو انسانوں کے اعمال و خصائل اور اکل و شرب کو آلودہ کرنے والی ہیں۔ اِنھی کے لیے شریعت میں ’حرام‘  کی اصطلاح مستعمل ہے۔

خور و نوش کے معاملے میں شریعت کا اصول ہے کہ طیبات (پاکیزہ چیزیں)حلال اور خبائث (ناپاک چیزیں) حرام ہیں۔قرآنِ مجید نےطیبات کو حلال اور خبائث کو حرام ٹھہرانے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منصبی فریضے کے طور بیان کیا ہے۔ ارشاد ہے:

یَاۡمُرُہُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَنۡہٰہُمۡ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَیُحِلُّ لَھُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْھِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنْھُمْ اِصْرَھُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْھِمْ. 

(الاعراف 7: 157)

’’وہ (نبی اُمی) اُنھیں بھلائی کا حکم دیتا ہے، برائی سے روکتا ہے، اُن کے لیے پاک چیزیں حلال اور ناپاک چیزیں حرام ٹھیراتا ہے اور اُن کے اوپر سے اُن کے وہ بوجھ اتارتا اور بندشیں دور کرتا ہے جو اب تک اُن پر رہی ہیں۔‘‘[1]

اِن طیبات اور خبائث سے انسان فطری طور پر واقف ہے۔ یعنی وہ اپنی فطرت کی رہنمائی میں کسی تردد کے بغیر یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ کیا چیز طیب اور کیا خبیث ہے۔ چنانچہ شریعت نے اِن کی کوئی جامع و مانع فہرست کبھی پیش نہیں کی۔ اِس معاملے میں عقل و فطرت کی رہنمائی کو کافی سمجھا ہے۔ تاہم اِن میں سے چار (4) چیزوں کے بارے میں خود فیصلہ کر کے اُنھیں حرام قرار دیا ہے ۔ یہ چیزیں مردار، خون، سؤر کاگوشت اور غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ ہیں۔ اِن کی تعیین کا سبب یہ ہے کہ اِن کے بارےمیں یہ اشتباہ پیدا ہو سکتا ہے کہ اِنھیں طیب سمجھ کر کھا لیا جائے یا خبیث سمجھ کر چھوڑ دیا جائے۔[2] اللہ نے بتایا ہے کہ اِنھیں کھانے کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ ارشاد ہے:

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَمَآ اُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ.

(البقرہ 2: 173) 

’’ اُس نے تو تمھارے لیے صرف مردار اور خون اور سؤر کا گوشت اور غیراللہ کے نام کا ذبیحہ حرام ٹھیرایا ہے۔‘‘

قُلْ لَّآ اَجِدُ فِیْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمُہٗٓ اِلَّآ اَنْ یَّکُوْنَ مَیْتَۃً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ ، فَاِنَّہٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُہِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ.

(الانعام 6: 145) 

’’اِن سے کہہ دو، (اے پیغمبر کہ) جو وحی میرے پاس آئی ہے، اُس میں تو میں نہیں دیکھتا کہ کسی کھانے والے پر کوئی چیز حرام کی گئی ہے،جسے وہ کھاتا ہے، سواے اِس کے کہ وہ مردار ہو یا بہایا ہوا خون ہو یا سؤر کا گوشت ہو، اِس لیے کہ یہ ناپاک ہیں، یا خدا کی نافرمانی کرکے کسی جانور کو اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔‘‘

اِن مقامات کے مطالعے سے واضح ہے کہ خور و نوش کی حلت و حرمت کے باب میں خبائث کی اصولی حرمت کے علاوہ شریعت نے فقط چار (4)چیزیں ــــــمردار، خون، سؤر کا گوشت اور غیر اللہ کے نام کا ذبیحہــــــ حرام ٹھہرائی ہیں۔

جہاں تک اخلاقیات کا تعلق ہے تو شریعت نے اِس دائرے کی پانچ (5)چیزوں کو حرام قرار دیا ہے۔ یہ چیزیں فواحش، حق تلفی، ناحق زیادتی، شرک اور بدعت ہیں۔ ارشاد ہے:

قُلۡ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الۡفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنۡہَا وَ مَا بَطَنَ وَ الۡاِثۡمَ وَ الۡبَغۡیَ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ وَ اَنۡ تُشۡرِکُوۡا بِاللّٰہِ مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِہٖ سُلۡطٰنًا وَّ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ. (الاعراف 7: 33)

’’کہہ دو، میرے پروردگار نے تو صرف فواحش کو حرام کیا ہے، خواہ وہ کھلے ہوں یا چھپے اور حق تلفی اور ناحق زیادتی کو حرام کیا ہے اور اِس کو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیراؤ، جس کے لیے اُس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اِس کو کہ تم اللہ پر افترا کرکے کوئی ایسی بات کہو جسے تم نہیں جانتے۔‘‘

 اِن پانچ (5)چیزوں میں سے ’فَوَاحِش‘ سے مراد زنا، اغلام، وطی بہائم اور اِن جیسے جنسی بے راہ روی کے کام ہیں۔ ’’حق تلفی‘‘  سے مراد وہ عمل ہے، جس کے نتیجے میں حق دار حق سے محروم ہو جائے یا  مستحق کا استحقاق مجروح ہو جائے۔ اِس کے تحت وہ تمام اعمال آتے ہیں، جو مخلوق کا حق مارنے اور خالق کے حقوق سے روگردانی پر مبنی ہیں۔’اَلْبَغْی ‘ کا اطلاق اُن جرائم پر ہوتا ہے، جو ظلم و زیادتی اور سرکشی و بغاوت کے زمرے میں آتے ہیں۔ قتل، چوری، مذہبی جبر اور فساد فی الارض اِسی کی مختلف صورتیں ہیں۔ شرک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات یا صفات یا اُس کی تدبیرِ امور میں کسی کو حصہ دار سمجھا جائے۔ یہ حق تلفی اور ناحق زیادتی کی بدترین صورت ہے۔بدعت یہ ہے کہ اللہ اور اُس کے رسول کی سند کے بغیر کسی بات کو دین کی حیثیت سے پیش کیا جائے۔ اِس سے مراد اللہ کے نام پر جھوٹ گھڑکر حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دینا اور ایسی شریعت تصنیف کرنا ہے، جس کا اللہ اور اُس کے دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ قرآنِ مجید میں اِس کے لیےعموماً ’قول علی اللّٰہ ‘اور’افتری علی اللّٰہ‘ کا اسلوب اختیار ہوا ہے۔

خلاصۂ بحث یہ ہے کہ  قرآنِ مجید نے خبائث کی اصولی حرمت کے علاوہ کل نو (9) چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے۔ اِن میں سے پانچ (5) کا تعلق اخلاقیات سے اور چار(4) کا خور و نوش سے ہے۔ اِن دونوں نوعیت کی حرمتوں کا تعین کرتے ہوئے ’اِنَّمَا‘ کا کلمۂ حصر استعمال کیا ہے، جس کے معنی ’صرف‘، ’محض‘ اور ’فقط‘ کے ہیں۔  مطلب یہ ہے کہ  شریعت نے فقط اِنھی چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے، اِن کے علاوہ کسی اور چیز کو حرام قرار نہیں دیا۔