انسان کا نصب العین جنت الفردوس ہے اور اِس نصب العین کو پانے کے لیے اللہ کا مقررکردہ طریقہ تزکیۂ نفس ہے۔ بہشتِ بریں کے دروازے اُنھی لوگوں کے لیے کھلنے ہیں، جو اپنے ظاہرو باطن کو ہر لحاظ سے پاکیزہ بنانے کی کوشش کریں گے۔ ارشاد فرمایا ہے:
وَ مَنۡ یَّاۡتِہٖ مُؤۡمِنًا قَدۡ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِکَ لَہُمُ الدَّرَجٰتُ الۡعُلٰی. جَنّٰتُ عَدۡنٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ وَ ذٰلِکَ جَزٰٓؤُا مَنۡ تَزَکّٰی. (طٰہٰ20 : 76-75)
| ’’جو مومن ہو کر اُس کے حضور آئیں گے، جنھوں نے نیک عمل کیے ہوں گے تو یہی لوگ ہیں، جن کے لیے اونچے درجے ہیں۔ ہمیشہ رہنے والے باغ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اُن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہ صلہ ہے اُن کا جو پاکیزگی اختیار کریں۔‘‘ |
یہی تزکیۂ نفس دین کا مقصد ہے۔دین کی صورت میں ایمان و عمل کی تمام ہدایات نفس کی پاکیزگی کے لیے دی گئی ہیں۔ بہ الفاظِ دیگراللہ کے پیغمبر انسانوں کو اُس طریقے کی تعلیم دیتے ہیں، جس کو اختیار کر کے وہ اپنے نفوس کو پاکیزہ بنا سکتے ہیں۔ استاذِ گرامی نے لکھا ہے:
’’اِس دین کا جو مقصد قرآن میں بیان ہوا ہے، وہ قرآن کی اصطلاح میں ’’تزکیہ‘‘ ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو آلایشوں سے پاک کر کے اُس کے فکرو عمل کو صحیح سمت میں نشوونما دی جائے۔ قرآن مجید میں یہ بات جگہ جگہ بیان ہوئی ہے کہ انسان کا نصب العین بہشت بریں اور ’رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً‘ کی بادشاہی ہے اور فوز و فلاح کے اِس مقام تک پہنچنے کی ضمانت اُنھی لوگوں کے لیے ہے جو اِس دنیا میں اپنا تزکیہ کر لیں :
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکیّٰ وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی. بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا، وَالْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی. (الاعلیٰ 87:17-14) | ’’البتہ فلاح پا گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اِس کے لیے اپنے رب کا نام یاد کیا، پھر نماز پڑھی۔ (لوگو، تم کوئی حجت نہیں پاتے)، بلکہ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، دراں حالیکہ آخرت اُس سے بہتر بھی ہے اور پایدار بھی۔‘‘ |
لہٰذا دین میں غایت اور مقصود کی حیثیت تزکیہ ہی کو حاصل ہے۔ اللہ کے نبی اِسی مقصد کے لیے مبعوث ہوئے اور سارا دین اِسی مقصود کو پانے اور اِسی غایت تک پہنچنے میں انسان کی رہنمائی کے لیے نازل ہوا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:
ھُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ، یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیْھِمْ وَ یُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ. ( الجمعہ 62: 2) | ’’اُسی نے امیوں کے اندر ایک رسول اُنھی میں سے اٹھایا ہے، جو اُس کی آیتیں اُنھیں سناتا اور اُن کا تزکیہ کرتا ہے، اور اِس کے لیے اُنھیں قانون اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔‘‘‘‘(میزان 80) |
اِس سے واضح ہے کہ اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے جو دین پیش کیا ہے، وہ اُن کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو پاکیزہ بنانے کی دعوت ہے۔ چنانچہ وہ اپنی حکمت و شریعت کے ذریعے سے یہی کام انجام دیتا ہے اور لوگوں کے عقائد و اعمال کو پاکیزہ بنانے کے طریقوں سے آگاہ کرتا ہے۔
اِس مقصد کے لیے دین نے کچھ مراسم عبودیت اورکچھ حدود و قیود مقرر کیے ہیں۔ یعنی کچھ چیزوں کو کرنے کا حکم دیا ہے اور کچھ چیزوں سے روکا ہے۔ اِنھی کو مجموعی طور پر ’شریعت‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اِن کا استقصا کیا جائے تو درجِ ذیل چار نوعیتیں متعین ہوتی ہیں:
1۔ عبادات،
2۔ تطہیرِ بدن،
3۔ تطہیرِاخلاق ،
4۔ تطہیرِ خورو نوش ۔
تزکیۂ نفس کا پورا عمل اِنھی چار اجزا میں منحصر ہے۔
عبادات کے احکام کچھ مقرر اعمال و اذکار پر مشتمل ہیں، جنھیں طے شدہ طریقوں کے مطابق اور معین الفاظ کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے۔ یہ فرائض اور نوافل کے طور پر مشروع ہیں۔
تطہیرِ بدن کے احکام کچھ رسوم و آداب کی صورت میں ہیں، جن کا اہتمام کرنے کی ہدایت فرمائی ہے۔
تطہیرِ اخلاق کے احکام خیرو شر میں امتیازکی فطری اساس پر مبنی فضائل و رذائل ہیں، جنھیں انسان کی فطرت پانا چاہتی یا جن سے بچنے کا تقاضا کرتی ہے۔
تطہیرِ خور و نوش کے احکام خبیث و طیب میں تفریق کی فطری اساس پر مبنی کھانے پینے کے ممنوعات و مباحات ہیں ۔
اِس تفصیل سے واضح ہے کہ شریعت کی حرمتوں کا مقصد تزکیہ و تطہیر ہے۔