تعارف

اللہ تعالیٰ نےانسان کو حس جمالیات سے فیض یاب کرنے کے ساتھ اُس کی تسکین کے اسباب بھی پیدا کیے ہیں۔ یہ اسباب انفس و آفاق، دونوں میں ودیعت ہیں۔ انسان اپنے حسن نظر، حسن بیان اورحسن صوت و سماعت کی بنا پر اِنھیں بروے کار لاتا اور  لطف و نشاط کا سامان کرتا ہے۔ بدن کی آرایش، گھر کی زیبایش، ماحول کی تزئین، گفتگو کی لطافت، کلام کی غنائیت، آواز کا ترنم،  اِسی کی مختلف صورتیں ہیں۔  اِن کی حقیقت اللہ کی زینتوں کی ہے، جو اُس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں۔ یہ اللہ کی نعمتیں ہیں اور ہر لحاظ سے جائز اور حلال ہیں۔ قرآنِ مجید نے اِن پر نہ کوئی پابندی عائد کی ہے اور نہ اِن سے بے اعتنائی کی ترغیب دی ہے۔ اِس کے برعکس،  اُن مذہبی پیشواؤں کو تنبیہ فرمائی ہے،جو اِنھیں حرام قرار دے کر لوگوں کو اِن سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔ ارشاد فرمایا ہے:

قُلۡ مَنۡ حَرَّمَ زِیۡنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیۡۤ اَخۡرَجَ لِعِبَادِہٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزۡقِ ؕ قُلۡ ہِیَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا خَالِصَۃً یَّوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ.

(الاعراف 7: 32)

’’اِن سے پوچھو، (اے پیغمبر)، اللہ کی اُس زینت کو کس نے حرام کر دیا، جو اُس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی تھی اور کھانے کی پاکیزہ چیزوں کو کس نے ممنوع ٹھیرایا ہے؟ اِن سے کہو، وہ دنیا کی زندگی میں بھی ایمان والوں کے لیے ہیں، (لیکن خدا نے منکروں کو بھی اُن میں شریک کر دیا ہے) اور قیامت کے دن تو خاص اُنھی کے لیے ہوں گی، (منکروں کا اُن میں کوئی حصہ نہ ہو گا)۔‘‘

موسیقی آواز کی زینت ہے۔ انسان جب آواز کے زیر وبم کو توازن و تناسب، الحان و آہنگ اورسوز و گداز سے آراستہ کرتا ہے تو موسیقی پیدا ہوتی ہے۔ یہ شاعری ا ور مصوری کی زینتوں کی طرح ہے اور بالکل جائز ہے۔لوگ اِسے لطف و تسکین اور حظ و نشاط کے لیے استعمال کر سکتے اور چاہیں تو اِس کی تاثیرسے فائدہ اٹھا کرتعلیم و تربیت اور ابلاغ و دعوت  کو موثر بنا سکتےہیں۔

ہمارے ہاں عام طور پر یہ تصور پایا جاتا ہے کہ قرآن و حدیث نے موسیقی کو حرام ٹھہرایا ہے۔ استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کے نزدیک یہ تصور درست نہیں ہے۔ اُن کا موقف یہ ہے کہ قرآنِ مجید اِس کی حرمت کے ذکر سے خالی ہے۔ احادیث سے بھی یہ بات پوری طرح مبرہن ہے کہ موسیقی حلال ہے، شریعت نے اِسے ہرگز حرام قرار نہیں دیا ہے۔ روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے متعدد موقعوں پر غنا اور آلاتِ غنا کا مظاہرہ ہوا، مگر آپ نے اُن سے منع نہیں فرمایا۔ بعض موقعوں پر آپ نے اُنھیں سنا، سنوایا اور بعض مواقع کے لیے اُن کے استعمال کو ضروری ٹھہرایا۔ اِن روایتوں سے یہ بھی واضح ہے کہ آپ نےدو پہلوؤں سے موسیقی کے بارے میں متنبہ رہنے کی ہدایت فرمائی ہے: ایک پہلو اِس کی غنائیت کی سحر انگیزی ہے اور دوسرا اِس میں استعمال ہونے والے اشعار کے مضامین ہیں ۔ موسیقی کے استعمال میں اگر اِن کا دھیان نہ رہے تو یہ نفس کو آلودہ کر سکتی اور انسان کے لیے کوتاہیوں اور برائیوں کے دروازے کھولنے کا باعث بن سکتی ہے۔

زیرِ نظر تصنیف استاذِ گرامی کے اِسی موقف کا بیان ہے۔یہ تین ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب کا عنوان ’’حلال و حرام ــــــ بنیادی  مباحث‘‘ ہے۔ اِس کی نوعیت کتاب کے مقدمے کی ہے۔  اِس میں حلال و حرام کے حوالے سے دین کی اصولی رہنمائی کو واضح کیا ہے اور بتایا ہے کہ شریعت نے کن چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے اور کس وجہ سےحرام ٹھہرایا ہے اور جن چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے، کیا اُن میں غنا اور موسیقی بھی شامل ہیں ۔ دوسرا باب ”غنا اور موسیقی کی حلت “کے زیرِ عنوان ہے۔ اِس میں پہلے یہ واضح کیا ہے کہ موسیقی آواز کی زینت ہے اور سورۂ اعراف میں مذکور زینتوں کی حلت کا حکم  دیگر زینتوں کے ساتھ موسیقی کی زینت کو بھی شامل ہے۔ اِس کے بعد اُن حدیثوں کی شرح و وضاحت کی ہے، جو اِس امر کی شہادت دیتی ہیں کہ شریعت میں غنا اور آلاتِ غنا کا استعمال ممنوع نہیں ہے۔ تیسرے باب میں علما و فقہا کے اِس موقف کا جائزہ لیا ہے کہ اِسلام میں موسیقی حرام ہے۔ اِس ضمن میں اُن کے دلائل کو بیان کر کے اُن کا محاکمہ کیا گیا ہے۔ اِس باب کا عنوان ’’موسیقی کی حرمت کے موقف کا جائزہ“ہے۔

____________