سورۂ احزاب اور سورۂ نور سے عورتوں کے مکمل حجاب کے استدلالات پر درج ذیل اعتراضات وارد ہوتے ہیں:
سورۂ احزاب کی آیت جلباب اور سورۂ نور کی آیت 31 ،دونوں جگہ اگر عورتوں کے مکمل پردے کا حکم دیا گیا ہے تو ایک ہی حکم کو دہرانے کی ضرورت نہیں تھی۔
سورۂ نور میں اِخفاے زینت سے استثنا اگر صرف چادر یا ظاہری لباس کا ہے تو وہ آیتِ جلباب سے از خود متبادر تھا، اُسے بھی دہرانے کی ضرورت نہیں تھی۔ نیز ایسے بدیہی استثنا بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
’اِلاَّ مَا ظَھَرَمِنْھَا ‘کا استثنا اظہارِ زینت کے باب میں دیا گیا ہے، یعنی اعضاے زینت اپنی زینتوں سمیت ظاہر رکھے جا سکتے ہیں۔ جسم کے مکمل حجاب میں اِن اعضا کو چھپانے کا استدلال درست نہیں ہو سکتا۔
آیتِ حجاب کی رو سے گھر میں داخل ہونے والے مردوں سے عام عورتوں کو بھی اگر حجاب میں رہنا ہے تو سورۂ نور میں مردوزن کے اختلاط کے موقع پر غض بصر اور حفظِ فروج کا اہتمام اور زینتوں کو ڈھانپنے کی ہدایات دینے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اگر یہ کہا جائے کہ سورۂ نور کی ہدایات مردوزن کی ناگزیر یا اتفاقی ملاقات کے ذیل میں دی گئی ہیں تو آیت کے الفاظ میں ایسی کوئی صراحت یا تقیید نہیں۔ اِس کے برعکس، اجازت طلبی اور تعارف کرانے کی ہدایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ باقاعدہ اجازت کے بعد معمول کی ملاقات کے لیے بیان کردہ آداب ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امام ابن تیمیہ کو یہ راے اختیار کرنا پڑی کہ سورۂ احزاب میں پردے کے حکم سے سورۂ نور کے آدابِ اختلاط کے احکام منسوخ ہو گئے ہیں، لیکن یہ درست نہیں ہو سکتا، اِس لیے کہ آیتِ جلباب میں مسلمان عورتوں کو گھر سے باہر نکلتے وقت چادریں اوڑھنے کی ہدایت اُن کی سماجی حیثیت کے اظہار کے لیے دی گئی تھی تاکہ اوباش اُن کو ہراساں کرنے کی جرأت نہ کریں، جب کہ سورۂ نور (24) کی آیت 30 اور 31 مردوزن کے عام اختلاط کے آداب بیان کرتی ہے۔ نیز سورۂ احزاب پہلے نازل ہوئی ہے، جب کہ سورۂ نور بعد میں۔ پہلے نازل ہونے والا حکم بعد والے حکم کو منسوخ نہیں کر سکتا، دوسرے یہ کہ خود اِن احکام میں ایسی کوئی لسانی دلالت یا قرینہ یا عقلی تقاضا موجود نہیں، جو ایک کو دوسرے کا ناسخ ثابت کر سکے۔
سورۂ نور میں ستر کی حفاظت کی ہدایت (يَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ)حفظِ فروج کی ہدایت کے تحت آ چکی تھی ۔ اِس میں عورت کا سینہ بھی شامل ہے۔ اِس کے بعد عورتوں کو اپنے گریبانوں پر آنچل ڈالنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ ہدایت اِخفاے زینت کے ذیل میں آئی ہے (وَ لَا یُبۡدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنۡہَا وَ لۡیَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوۡبِہِنَّ)۔ یہاں گریبان کی زینت کو خصوصیت سے ڈھانپنے کا مفہوم متبادر ہے۔ تاہم، اگر اِس سے گریبان ڈھانپنے کا مطلَق حکم مراد لیا جائے، یعنی گریبان پر زینت کی گئی ہو یا نہ کی گئی ہو، ہر دو صورتوں میں اِسے ڈھانپا جائے تو یہ دوبارہ حفظِ فروج کی ہدایت قرار پاتی ہے، جو پہلے دی جا چکی ہے۔ یوں تکرار لازم آتی ہے۔ کسی وجہ سے اگر بغیر زینت کے بھی گریبان کو ڈھانپنے کا حکم مستقل طور پر بیان کرنے کی ضرورت تھی تو اُسے حفظِ فروج کی ہدایت کے متصل بعد آنا چاہیے تھا، نہ کہ اِخفاے زینت کی ہدایت کے ذیل میں۔
سورۂ نور میں عورتوں کو اپنی چھپی ہوئی زینتیں اپنے جن متعلقین کے سامنے ظاہر کرنے کی اجازت دی گئی ہے اُن میں شوہر بھی شامل ہے۔ چھپی ہوئی زینت سے اگر ستر کے اعضا مراد لیے جائیں تو شوہر کے لیے بھی عورت کا اُتنا ستر دیکھنا ہی جائز قرار پاتا ہے، جتنا دیگر محرم مردوں کے لیے روا ہے۔ یہ بداہتاً غلط مفہوم ہے۔ چنانچہ زینت کے معاملے کو ستر کے معاملے پر قیاس کرنا درست نہیں ہے۔
نماز اور حالت احرام میں مردوں کی موجودگی کے باوجود عورت کے چہرے اور ہاتھوں کو کھلا رکھنے کی تاکید کی گئی ہے، مگر عام حالات میں مردوں کی موجودگی میں اُنھیں ڈھانپ کر رکھنے کو شریعت کا حکم قرار دیا گیا ہے۔ یہ ایک تضاد ہے، لہٰذا درست بات یہی ہے کہ عورت کے چہرے اور ہاتھوں کے لیے پردے کا کوئی حکم نہیں دیا گیا۔ سورۂ نور (24) کی آیت 31 میں ’اِلاَّ مَا ظَھَرَ‘کے تحت اِن اعضا کو اپنی زینتوں سمیت کھلا رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔