سورۂ نور (24) کی آیت 31 کے الفاظ ’اِلاَّ مَا ظَھَرَ‘کے بارے میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی راے کی متعدد توجیہات کی گئی ہیں۔ اُن میں ایک یہ ہے کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے چہرے اور ہاتھوں کا ذکر ’وَ لَا یُبۡدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ‘کی وضاحت میں بیان کیا تھا، نہ کہ ’اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنۡہَا‘کے استثنا کی وضاحت میں، یعنی اُن کا مطلب تھا کہ اِن اعضا کی زینت کو چھپایا جائے، یہ مطلب نہیں تھا کہ اِنھیں کھلا رکھا جا سکتا ہے۔ ابن کثیر اِسے نقل کرتے ہیں:
وَهَذَا يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ تَفْسِيرًا لِلزِّينَةِ الَّتِي نُهِينَ عَنْ إِبْدَائِهَا، كَمَا قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ السَّبيعي، عَنْ أَبِي الأحْوَص، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ فِي قَوْلِهِ: ”وَلا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ“: الزِّينَةُ القُرْط والدُّمْلُج وَالْخَلْخَالُ وَالْقِلَادَةُ.
(تفسير القرآن العظیم 6/ 45)
”ایک احتمال یہ بھی ہے کہ یہ اُس زینت کی وضاحت ہو جس کے ظاہر کرنے سے اُنھیں منع کیا گیا ہے، جیسا کہ ابو اسحاق سبیعی نے ابو الاحوص سے روایت کی ہے کہ عبداللہ بن عباس نے اللہ کے اِس فرمان’وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ‘ کے بارے میں کہا: زینت سے مراد کانوں کی بالیاں، بازوؤں کے کنگن، پازیب اور ہار ہیں۔“
یہ توجیہ ایک احتمال کے طو پر بیان کی گئی ہے۔ اہلِ علم نے اِسے قبول نہیں کیا۔
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے موقف کی ایک دوسری توجیہ یہ ہے کہ اُن کی راے سورۂ احزاب کی آیتِ حجاب سے پہلے خواتین کے حالات کے تناظر میں پیش کی گئی تھی۔
یہ راے کسی طرح درست نہیں ہو سکتی، اِس لیے کہ اُن کی راے سورۂ نور کی آیت کی وضاحت میں نقل ہوئی ہے اور سورۂ نور سورۂ احزاب کے بعد نازل ہوئی تھی۔ اُن کی راے سورۂ احزاب کے بعد کے دور میں سورۂ نور کی مذکورہ آیت کی وضاحت کرتی ہے۔