آدابِ اختلاط کے تقرر سے کچھ لوگوں نے محسوس کیا کہ اسلام اِن کے ذریعے سے اُن کی سماجی آزادیوں کو محدود کرنا چاہتا ہے۔ اب وہ اپنے رشتہ داروں، عزیزوں اور دوستوں کے گھروں میں آزادی و بے تکلفی کے ساتھ آ جا نہیں سکتے۔ معذور اور مجبور لوگ، جو اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کے گھروں پر انحصار کرتے تھے، اُنھوں نے بھی یہ محسوس کیا کہ اب اُن کی آزادی محدود ہو گئی ہے۔ اِس طرح کے شبہات دور کرنے کے لیے ارشاد ہوا:
لَیۡسَ عَلَی الۡاَعۡمٰی حَرَجٌ وَّ لَا عَلَی الۡاَعۡرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَی الۡمَرِیۡضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمۡ اَنۡ تَاۡکُلُوۡا مِنۡۢ بُیُوۡتِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ اٰبَآئِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ اُمَّہٰتِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ اِخۡوَانِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ اَخَوٰتِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ اَعۡمَامِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ عَمّٰتِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ اَخۡوَالِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ خٰلٰتِکُمۡ اَوۡ مَا مَلَکۡتُمۡ مَّفَاتِحَہٗۤ اَوۡ صَدِیۡقِکُمۡ ؕ لَیۡسَ عَلَیۡکُمۡ جُنَاحٌ اَنۡ تَاۡکُلُوۡا جَمِیۡعًا اَوۡ اَشۡتَاتًا ؕ فَاِذَا دَخَلۡتُمۡ بُیُوۡتًا فَسَلِّمُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمۡ تَحِیَّۃً مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ مُبٰرَکَۃً طَیِّبَۃً ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الۡاٰیٰتِ لَعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ.
(النور24: 61)
”(اللہ اِن ہدایات سے تمھارے لیے کوئی تنگی پیدا نہیں کرنا چاہتا، اِس لیے) نہ اندھے کے لیے کوئی حرج ہے، نہ لنگڑے کے لیے اور نہ مریض کے لیے اور نہ خود تمھارے لیے کہ تم اپنے گھروں سے یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا اپنے زیر تولیت کے گھروں سے یا اپنے دوستوں کے گھروں سے کھاؤ پیو۔ تم پر کوئی گناہ نہیں، چاہے (مرد و عورت) اکٹھے بیٹھ کر کھاؤ یا الگ الگ۔ البتہ، جب گھروں میں داخل ہو تو اپنے لوگوں کو سلام کرو، اللہ کی طرف سے مقرر کی ہوئی ایک بابرکت اور پاکیزہ دعا۔ اللہ تمھارے لیے اِسی طرح اپنی آیتوں کی وضاحت کرتا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو۔“
اِس حوالے سےغامدی صاحب لکھتے ہیں:
” ...وضاحت فرمائی ہے کہ لوگ خود ہوں یا اُن کے مجبور و معذور اعزہ اور احباب جو اُنھی کے گھروں پر گزارہ کرتے ہیں، اِس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ ایک دوسرے کے گھروں میں آئیں جائیں، ملیں جلیں اور مرد و عورت الگ الگ یا اکٹھے بیٹھ کر کھائیں پئیں، نہ اُن کے اپنے گھروں میں کوئی حرج ہے، نہ باپ دادا کے گھروں میں، نہ ماؤں کے گھروں میں، نہ بھائیوں اور بہنوں کے گھروں میں، نہ چچاؤں، پھوپھیوں، ماموؤں اور خالاؤں کے گھروں میں، نہ زیر تولیت افراد کے گھروں میں اور نہ دوستوں کے گھروں میں۔ اتنی بات، البتہ ضروری ہے کہ گھروں میں داخل ہوں تو اپنے لوگوں کو سلام کریں۔ یہ بڑی بابرکت اور پاکیزہ دعا ہے جس سے باہمی تعلقات میں بہتری پیدا ہوتی ہے۔ ملنے جلنے کے جو آداب اُنھیں بتائے گئے ہیں، اُن سے ربط و تعلق کے لوگوں کو سہارے سے محروم کرنا یا اُن کی سوشل آزادیوں پر پابندی لگانا مقصود نہیں ہے۔ وہ اگر سمجھ بوجھ سے کام لیں تو اِن آداب کی رعایت کے ساتھ یہ سارے تعلقات قائم رکھ سکتے ہیں۔ اِس سے مختلف کوئی بات اگر اُنھوں نے سمجھی ہے تو غلط سمجھی ہے۔ اِن میں سے کسی چیز کو بھی ممنوع قرار دینا پیش نظر نہیں ہے۔“ (میزان 470- 471)
یہ رخصتیں بھی دین کے اصول یسر کے تحت دی گئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ توضیحی ہدایات نہ آتیں تو اِن اطلاقی معاملات کو اجتہاد سے طے کیا جاتا، جن میں اختلافِ راے اور افراط و تفریط ممکن تھی، مگر اللہ تعالیٰ نے اپنا فیصلہ دے کر یہ معاملات بھی، از راہ عنایت، خود طے کردیے۔