ڈاکٹر یٰسین مظہر صدیقی نے اپنی تحقیقی کتب، خاص طور پر”رسول اکرم اور خواتین: ایک سماجی مطالعہ“ میں عرب دور کی معاشرت کی ضروری تفصیلات مہیا کر دی ہیں۔ ابن حجر عسقلانی کے حوالے سے ڈاکٹر صدیقی صراحت کرتے ہیں کہ حجاب کے حکم کے بعد بھی خواتین کی بیرونی سرگرمیوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی تھی۔یہ اِسی وجہ سے تھا کہ حجاب کا حکم عام عورتوں کے لیے تھا ہی نہیں۔ یہ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ دین اُنھیں گھروں میں محدود رہنے کا حکم دے اور اُن کی بیرونی سرگرمیوں میں کوئی کمی واقع نہ ہو۔ فرق، البتہ ازواج مطہرات کے طرزِ زندگی پر پڑا تھا۔ روایات میں بہ صراحت ذکر کیا جاتا ہے کہ ازواجِ مطہرات نے کسی سے ملاقات کی یا کسی نے ازواجِ مطہرات کو دیکھا یا ازواج کسی سفر پر نکلیں تو یہ آیتِ حجاب سے پہلے کا واقعہ ہے، لیکن عام خواتین کے معاملے میں ایسی صراحت کا کوئی التزام نہیں ملتا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خواتین کے تعامل کے واقعات کے تحت ڈاکٹر صدیقی لکھتے ہیں:
’’...رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُن (انصاری خواتین) کے گھروں میں بکثرت جایا کرتے تھے۔ ان کے علاوہ ان کی خواتین مطہرات سے بھی ملتے، ان سے کلام و گفتگو فرماتے تھے، ان کے ساتھ کھاتے پیتے، ان کی میزبانی اور مدارات قبول فرماتے تھے۔ دوپہر سر پر آ جاتی تو ان ہی کے گھروں میں قیلولہ فرماتے تھے۔ رات چھا جاتی تو کبھی کبھی شب بسری بھی فرماتے تھے۔ خواتین انصار اور خاتونان مدینہ مہر و محبت کی پتلیاں تھیں اور اسلامی عقیدت اور نبوی محبت سے سرشار بھی۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر دباتی تھیں، بالوں میں چمپی کرتی تھیں اور دوسری خدمات انجام دیتی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود مسعود اور پاکیزہ جسم اطہر کا گلاب جیسا پسینہ جمع کر لیتی تھیں، موئے مبارک ہاتھ آ جاتے تو سنبھال کر تبرک جان کر سینت لیتی تھیں۔‘‘
(رسول اکرم اور خواتین : ایک سماجی مطالعہ 23)
اِس حوالے سے درج ذیل روایات پیش کی جاتی ہیں:
عن اسماء بنت ابي بكر رضي اللّٰه عنهما قالت: تزوجني الزبير وما له في الارض من مال ولا مملوك ولا شيء غير ناضح وغير فرسه فكنت أعلف فرسه وأستقي الماء وأخرز غربه وأعجن ولم أكن أحسن أخبز وكان يخبز جارات لي من الانصار وكن نسوة صدق وكنت أنقل النوى من أرض الزبير التي أقطعہ رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم على رأسي وهي مني على ثلثي فرسخ فجئت يومًا والنوى على رأسي فلقيت رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم ومعه نفر من الانصار فدعاني ثم قال:”اخ اخ“. ليحملني خلفه فاستحييت أن أسير مع الرجال وذكرت الزبير وغيرته وكان أغير الناس فعرف رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم أني قد استحييت فمضي فجئت الزبير فقلت لقيتني رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم وعلي رأسي النوى ومعه نفر من أصحابه فأناخ لاركب فاستحييت منه وعرفت غيرتك، فقال: واللّٰه لحملك النوى كان أشد علي من ركوبك معه. (بخاری، رقم 5224)
”حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ زبیر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے شادی کی تو اُن کے پاس ایک اونٹ اور اُن کے گھوڑے کے سوا روے زمین پر کوئی مال، کوئی غلام، کوئی چیز نہیں تھی۔ میں ہی اُن کا گھوڑا چراتی، پانی پلاتی، اُن کا ڈول سیتی اور آٹا گوندھتی۔ میں اچھی طرح روٹی نہیں پکا سکتی تھی۔ انصار کی کچھ لڑکیاں میری روٹی پکا جاتی تھیں۔ یہ بڑی سچی اور باوفا عورتیں تھیں۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی وہ زمین جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنھیں دی تھی، اُس سے میں اپنے سر پر کھجور کی گٹھلیاں گھر لایا کرتی تھی۔ یہ زمین میرے گھر سے دو میل دور تھی۔ ایک روز میں آ رہی تھی اور گٹھلیاں میرے سر پر تھیں کہ راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہو گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قبیلۂ انصار کے کئی آدمی تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا: پھر (اپنے اونٹ کو بٹھانے کے لیے) کہا: اخ اخ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ مجھے اپنی سواری پر اپنے پیچھے سوار کر لیں، لیکن مجھے مردوں کے ساتھ چلنے میں شرم آئی اور زبیر رضی اللہ عنہ کی غیرت کا بھی خیال آیا۔ زبیر رضی اللہ عنہ بڑے ہی باغیرت تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سمجھ گئے کہ میں شرم محسوس کر رہی ہوں، اِس لیے آپ آگے بڑھ گئے۔ پھر میں زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور اُن سے واقعے کا ذکر کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہو گئی تھی۔ میرے سر پر گٹھلیاں تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے چند صحابہ بھی تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا اونٹ مجھے بٹھانے کے لیے بٹھایا، لیکن مجھے اِس سے شرم آئی اور تمھاری غیرت کا بھی خیال آیا۔ اِس پر زبیر نے کہا کہ اللہ کی قسم، مجھ کو تو اِس سے بڑا رنج ہوا کہ تو گٹھلیاں لانے کے لیے نکلی۔ اگر تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہو جاتی تو اتنی غیرت کی بات نہ تھی، (کیونکہ اسماء رضی اللہ عنہا آپ کی سالی اور بھاوج، دونوں ہوتی تھیں)۔“
روایات میں بیان ہوا ہے کہ حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے ہاں آپ کثرت سے تشریف لے جاتے تھے اور وہ آپ کی مدارات کرتی تھیں:
كان رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم يدخل على أم حرام بنت ملحان، وكانت تحت عبادة بن الصامت، فدخل عليها يومًا فأطعمته، وجعلت تفلي رأسه.
(بخاری،رقم 7001)
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے، وہ عبادہ بن صامت کے نکاح میں تھیں۔ ایک دن آپ اُن کے یہاں گئے تو اُنھوں نے آپ کے سامنے کھانے کی چیز پیش کی اور آپ کا سر جھاڑنے لگیں۔“
عن أنس رضي اللّٰه عنه، دخل النبي صلى اللّٰه عليه وسلم على أم سليم فأتته بتمر وسمن، قال:”أعيدوا سمنكم في سقائه، وتمركم في وعائه، فإني صائم.“ ثم قام إلى ناحية من البيت فصلى غير المكتوبة، فدعا لأم سليم وأهل بيتها.
(بخاری،رقم 1982)
”حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لے گئے۔ اُنھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجور اور گھی پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ گھی اُس کے برتن میں رکھ دو اور یہ کھجوریں بھی اُس کے برتن میں رکھ دو، کیونکہ میں تو روزے سے ہوں، پھر آپ نے گھر کے ایک کنارے میں کھڑے ہو کر نفل نماز پڑھی اور ام سلیم رضی اللہ عنہا اور اُن کے گھر والوں کے لیے دعا کی۔“
حدثنا جابر بن عبد اللّٰه أن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم دخل على أم السائب أو أم المسيب فقال:”ما لك يا أم السائب أو يا أم المسيب تزفزفين؟“ قالت: الحمى لا بارك اللّٰه فيها، فقال: ”لا تسبي الحمى فإنها تذهب خطايا بني آدم كما يذهب الكير خبث الحديد“.
(مسلم،رقم 2575)
”حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سائب یا ام مسیب رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لے گئے۔ (آپ بخار سے کانپ رہی تھیں تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے پوچھا: کیا ہوا، کیوں کانپ رہی ہو؟ عرض کی: بخار ہے۔ اور ساتھ ہی کہا: اللہ پاک اِس میں برکت نہ دے۔ اِس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اُن کی اصلاح کرتے ہوئے) فرمایا: بخار کو بُرا نہ کہو، کیونکہ یہ بنی آدم کے گناہوں کو ایسا مٹاتا ہے، جیسے بھٹی لوہے کے زنگ کو ختم کرتی ہے۔“
عن هشام، قال: سمعت أنس بن مالك رضي اللّٰه عنه، قال: جاءت امرأة من الأنصار إلى النبي صلى اللّٰه عليه وسلم فخلا بها، فقال: ”واللّٰه، إنكن لأحب الناس إلي.“
(بخاری، رقم 5234)
”حضرت ہشام سے روایت ہے کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ قبیلۂ انصار کی ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے ایک طرف ہو کر اُس سے تنہائی میں گفتگو کی، اُس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ، مجھے سب لوگوں سے زیادہ عزیز ہو۔“
عن جابر أن النبى صلى اللّٰه عليه وسلم دخل على أم مبشر الأنصارية فى نخل لها فقال لها النبى صلى اللّٰه عليه وسلم: ”من غرس هذا النخل، أمسلم أم كافر؟“ فقالت بل مسلم. فقال : ”لا يغرس مسلم غرسا ولا يزرع زرعا فيأكل منه إنسان ولا دابة ولا شىء إلا كانت له صدقة“.
(مسلم، رقم 4051)
”حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ام مبشر نامی ایک انصاری عورت کے پاس اُس کے نخلستان میں تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے دریافت فرمایا: یہ کھجور کے درخت کس نے لگائے ہیں، کیا وہ مسلمان تھا یا کافر؟اس نے جواب دیا: وہ مسلمان تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان بھی پودا لگاتا ہے یا کوئی پیداوار کاشت کرتا ہے، پھر اُس سے کوئی انسان یا کوئی حیوان، جان دار یا کوئی چیز کھاتی ہے تو وہ اُس کے لیے صدقہ بنتا ہے۔“
عن جابر قال: شهدت الصلاة مع رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه و سلم في يوم عيد فبدأ بالصلاة قبل الخطبة بغير أذان ولا إقامۃ فلما قضى الصلاة قام متوكئًا على بلال فحمد اللّٰه وأثنى عليه ووعظ الناس وذكرهم وحثهم على طاعته ثم مال ومضى إلى النساء ومعه بلال فأمرهن بتقوى اللّٰه و وعظهن و ذكرهن وحمد اللّٰه وأثنى عليه ثم حثهن على طاعته ثم قال: ”تصدقن فإن أكثركن حطب جهنم.“ فقالت امرأة من سفلة النساء سفعاء الخدين: بم يا رسول اللّٰه؟ قال: ”تكثرن الشكاة وتكفرن العشير“، فجعلن ينزعن قلائدهن وأقرطهن وخواتيمهن يقذفنه في ثوب بلال يتصدقن به.
(نسائی، رقم 1575)
”حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں عید کے دن نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا، آپ نے خطبہ سے پہلے بغیر اذان اور بغیر اقامت کے نماز پڑھی، پھر جب نماز پوری کر لی تو آپ بلال رضی اللہ عنہ پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے، اور آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، لوگوں کو نصیحتیں کیں، اور اُنھیں (آخرت کی) یاد دلائی، اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ابھارا، پھر آپ مڑے اور عورتوں کی طرف چلے، بلال رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے، آپ نے اُنھیں (بھی) اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حکم دیا، اور اُنھیں نصیحت کی اور (آخرت کی) یاد دلائی، اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر اُنھیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ابھارا، پھر فرمایا: تم صدقہ کیا کرو، کیونکہ عورتیں ہی زیادہ تر جہنم کا ایندھن ہوں گی، تو ایک عام درجہ کی ہلکے کالے رنگ کے گالوں والی عورت نے پوچھا: کس سبب سے، اللہ کے رسول؟ آپ نے فرمایا: (کیونکہ) تم شکوے اور گلے بہت کرتی ہو، اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔ عورتوں نے یہ سنا تو وہ اپنے ہار، بالیاں اور انگوٹھیاں اتار اتار کر بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں، وہ یہ صدقے کے طور پر دے رہی تھیں۔“
صحابہ و صحابیات کے سماجی تعامل کے حوالے سے ڈاکٹر صدیقی لکھتے ہیں:
”شادی بیاہ اور ولیمہ کے مواقع پر دعوتوں کا ایک اسلامی طریقہ تھا اور اِسی طرح عقیقہ وغیرہ کی معاشرتی دعوتیں تھیں، جن میں صحابیات اور صحابہ کا اجتماعی اختلاط ہوتا تھا۔ بنفس نفیس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض ولیموں پر اپنے گھروں یا خیموں میں دونوں کو جمع کیا تھا اور حضرت زینب بنت جحش سے شادی کے موقع پر ایسی مبارک دعوت کی تھی جس کا ذکر آیاتِ الٰہی میں آیا ہے۔“
(رسول اکرم اور خواتین : ایک سماجی مطالعہ 169)
اس سلسلے میں درج ذیل روایات پیش کی جاتی ہیں:
عن سهل قال: لما عرس ابو اسيد الساعدي، دعا النبي صلى اللّٰه عليه وسلم واصحابه، فما صنع لهم طعامًا ولا قربه اليهم الا امرأته ام اسيد، بلت تمرات في تور من حجارة من الليل. فلما فرغ النبي صلى اللّٰه عليه وسلم من الطعام، اماثته له فسقته، تتحفه بذلك.
(بخاری، رقم5182)
”حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ابو اسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے شادی کی تو انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو دعوت دی، اِس موقع پر کھانا اُن کی دلہن ام اسید ہی نے تیار کیا تھا اور اُنھوں نے ہی مردوں کے سامنے کھانا رکھا۔ اُنھوں نے پتھر کے ایک بڑے پیالے میں رات کے وقت کھجوریں بھگو دیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے فارغ ہوئے تو انھوں نے ہی اِس کا شربت بنایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تحفے کے طور پر پینے کے لیے پیش کیا۔“
حضرت ام شریک کا ذکرآتا ہے کہ وہ ایک فیاض خاتون تھیں، جو اکثر کھانے کی دعوت دیتیں اور اُن کے ہاں صحابہ کا بہ کثرت آنا جانا ہوتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ آپ نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو اُن کی طلاق کے بعد عدت کا وقت گزارنے کے لیے ام شریک کا گھر تجویز نہیں کیا کہ اُنھیں وہاں مشکل پیش آئے گی۔ چنانچہ اُنھیں ایک نابینا صحابی، عبد اللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے ہاں ٹھیرنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ روایت یہ ہے:
عن فاطمة بنت قيس أن أبا عمرو بن حفص طلقها البتة وهو غائب، فأرسل إليها وكيله بشعير فسخطته، فقال: واللّٰه ما لك علينا من شيء، فجاءت رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم، فذكرت ذلك له، فقال:”ليس لك عليه نفقة“. فأمرها أن تعتد في بيت أم شريك، ثم قال: ”تلك امرأة يغشاها أصحابي، اعتدي عند ابن أم مكتوم، فإنه رجل أعمى تضعين ثيابك، فإذا حللت فآذنيني.“
(مسلم، رقم 1480)
”فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابو عمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے اُنھیں طلاق بتہ (حتمی، تیسری طلاق) دے دی، اور وہ خود غیرحاضر تھے، اُن کے وکیل نے اُن کی طرف سے کچھ جَو (وغیرہ) بھیجے تو وہ اِس پر ناراض ہوئیں، اُس (وکیل) نے کہا: اللہ کی قسم، تمھارا ہم پر کوئی حق نہیں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور یہ بات آپ کو بتائی۔ آپ نے فرمایا: اب تمھارا خرچ اِس کے ذمے نہیں۔ اور آپ نے اُنھیں حکم دیا کہ وہ ام شریک رضی اللہ عنہا کے گھر میں عدت گزاریں، پھر فرمایا: اُس عورت کے پاس میرے صحابہ آتے جاتے ہیں، تم ابن مکتوم رضی اللہ عنہ کے ہاں عدت گزار لو، وہ نابینا آدمی ہیں، تم اپنے (اوڑھنے کے) کپڑے بھی اتار سکتی ہو۔ تم جب (عدت کی بندش سے) آزاد ہو جاؤ تو مجھے بتانا۔“
مرد و خواتین کے سماجی تعامل کے سلسلے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے متعلق ایک اثر بھی یہاں پیش کیا جاتا ہے:
عن زيد بن اسلم عن ابيه قال خرجت مع عمر بن الخطاب رضي اللّٰه عنه الى السوق فلحقت عمر امرأة شابة فقالت: يا امير المؤمنين، هلك زوجي وترك صبية صغارا واللّٰه ما ينضجون كراعًا ولا لهم زرع ولا ضرع وخشيت ان تأكلهم الضبع وانا بنت خفاف بن ايماء الغفاري وقد شهد أبي الحديبية مع النبي صلى اللّٰه عليه وسلم فوقف معها عمر ولم يمض، ثم قال: مرحبا بنسب قريب، ثم انصرف الى بعير ظهیر كان مربوطًا في الدار فحمل عليه غرارتين ملأهما طعامًا وحمل بينهما نفقةً وثيابًا ثم ناولها بخطامه ثم قال: اقتاديه فلن يفنى حتى يأتيكم اللّٰه بخيرٍ. فقال رجل: يا أمير المؤمنين، اكثرت لها، قال عمر: ثكلتك امك واللّٰه إني لارى أبا هذه وأخاها قد حاصرا حصنًا زمانًا فافتتحاه ثم أصبحنا نستفيء سهمانهما فيه.
(بخاری، رقم 4160)
”حضرت زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بازار کے لیے نکلا تو حضرت عمررضی اللہ عنہ سے ایک نوجوان عورت نے ملاقات کی اور عرض کی: امیرالمومنین، میرے شوہر کی وفات ہو گئی ہے اور چند چھوٹی چھوٹی بچیاں چھوڑ گئے ہیں۔ اللہ کی قسم ، اب نہ اُن کے پاس بکری کے پائے ہیں کہ اُن کو پکا لیں، نہ کھیتی ہے، نہ دودھ کے جانور ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ فقر و فاقہ سے ہلاک نہ ہو جائیں۔ میں خفاف بن ایماء غفاری رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہوں۔ میرے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوۂ حدیبیہ میں شریک تھے۔ یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ اُن کے پاس تھوڑی دیر کے لیے کھڑے ہو گئے، آگے نہیں بڑھے۔ پھر فرمایا: مرحبا، تمھارا خاندانی تعلق تو بہت قریبی ہے۔ پھر آپ ایک بہت قوی اونٹ کی طرف مڑے، جو گھر میں بندھا ہوا تھا اور اُس پر دو بورے غلے سے بھرے ہوئے رکھ دیے۔ اُن دونوں بوروں کے درمیان روپیہ اور دوسری ضرورت کی چیزیں اور کپڑے رکھ دیے اور اُس کی نکیل اُن کے ہاتھ میں تھما کر فرمایا: اِسے لے جاؤ، یہ ختم نہ ہو گا کہ اِس سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ تجھے اِس سے بہتر دے گا۔ ایک صاحب نے اِس پر کہا: اے امیر المومنین، آپ نے اِسے بہت دے دیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تیری ماں تجھے روئے، اللہ کی قسم، اِس عورت کے والد اور اِس کے بھائی جیسے اب بھی میری نظروں کے سامنے ہیں کہ ایک مدت تک ایک قلعہ کے محاصرے میں وہ شریک رہے، آخر اُسے فتح کر لیا۔ پھر ہم صبح کو اُن دونوں کا حصہ مالِ غنیمت سے وصول کر رہے تھے۔“
اپنے اہل تعلق مرد و خواتین کی بیماری میں مرد و عورت، دونوں ایک دوسرے کی عیادت کیا کرتے تھے۔ امام بخاری نے”کتاب المرضی “میں ایک باب’ باب عيادة النساء الرجال‘ (عورتوں کا مردوں کی عیادت کرنا) باندھا ہے، جس میں ذکر ہے:
وعادت أم الدرداء رجلًا من أهل المسجد من الانصار.
(بخاری 14/ 256)
”ام درداء ایک انصاری صحابی کی عیادت کیا کرتی تھیں، جو مسجد میں رہتے تھے۔“
جنگوں کے دوران میں خواتین زخمی ہونے والے مردوں کی دیکھ بھال کرتیں اور اُنھیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتیں۔
اِس سلسلے کی روایات درج ذیل ہیں:
عن الربيع بنت معوذ، قالت: كنا مع النبي صلى اللّٰه عليه وسلم، نسقي ونداوي الجرحى، ونرد القتلى الى المدينة.
(بخاری ،رقم2882)
”حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (غزوہ میں) شریک ہوتی تھیں، مسلمان فوجیوں کو پانی پلاتی تھیں، زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں اور جو لوگ شہید ہو جاتے، اُنھیں اٹھا کر مدینے لاتی تھیں۔“
عن أم عطية الأنصارية، قالت: غزوت مع رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم، سبع غزوات، أخلفهم في رحالهم، فأصنع لهم الطعام، وأداوي الجرحى، وأقوم على المرضى.
(مسلم ،رقم1812)
”حضرت ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے اُنھوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزوات میں شریک رہی۔ میں مردوں کے ٹھیرنے کی جگہ میں رہتی اور اُن کا کھانا پکاتی اور زخمیوں کی دوا کرتی اور بیماروں کی خدمت کرتی۔“
ڈاکٹر صدیقی رفیدہ یا کعیبہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ وہ مستقل جراح و طبیب نبوی تھیں۔ مسجد کے صحن میں اُن کا خیمہ مستقل طور پر لگا رہتا تھا، جہاں وہ مردوں کا علاج بھی کیا کرتی تھیں اور آپ اُن سے مسلسل ملاقاتیں فرماتے تھے۔
روایت یہ ہے:
عن محمود بن لبيد، قال: لما أصيب أكحل سعد يوم الخندق، فثقل، حولوه عند امرأة يقال لها: رفيدة، وكانت تداوي الجرحى، فكان النبي صلى اللّٰه عليه وسلم، إذا مر به، يقول: ”كيف أمسيت؟“، وإذا أصبح: ”كيف أصبحت؟“، فيخبره.
(الادب المفرد، رقم 1129)
”حضرت محمود بن لبید کہتے ہیں کہ جب غزوۂ خندق کے دن سعد بن معاذ کی کلائی زخمی ہوگئی اور اُن کی حالت بگڑ گئی تو اُنھیں ایک عورت کے پاس لے جایا گیا جسے رُفیدہ کہا جاتا تھا، اور وہ زخمیوں کا علاج کرتی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی اُن کے پاس سے گزرتے تو پوچھتے: تم نے شام کیسے گزاری؟ اور صبح پوچھتے: تم نے صبح کیسے گزاری؟ تو سعد بن معاذ اُنھیں اپنی حالت بتاتے۔“
معاش اور کاروبار کے سلسلے میں مرد اور خواتین کے تعامل کے بارے میں ڈاکٹر صدیقی لکھتے ہیں:
”تجارت و کاروبار سے لے کر مزدوری اور بازار میں خرید و فروخت سے لے کر گھر گھر جا کر اشیا کی خرید و فروخت تک، کسب معاش کے تقریباً ہر شعبہ میں خواتین کی بھرپور شمولیت کا تذکرہ متعدد روایات میں بیان ہوا ہے۔ حضرت شفاء رضی اللہ عنہا کو آپ نے بازار کی نگران افسر کے طور پر تعینات کیا تھا۔“
(رسول اکرم اور خواتین : ایک سماجی مطالعہ 156)
ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
” ...متعدد مردوں نے خاتون تاجرات سے مضاربت، اجرت اور اشتراک کی بنیاد پر کاروبار کیا اور ان کے گماشتے تک بننے کی جرأت کی۔ باغات، کھیتوں اور اموال میں دونوں کے شانہ بشانہ کام کرنے اور زرعی پیداوار بڑھانے کے کاموں میں حصہ لینے کا پکا ثبوت ہے۔‘‘ ( رسول اکرم اور خواتین : ایک سماجی مطالعہ 170)
اس سلسلے کی ایک روایت یہ ہے:
عن أبي بلج يحيى بن أبي سليم، قال: رأيت سمراء بنت نهيك، وكانت قد أدركت النبي صلى اللّٰه عليه وسلم، عليها درع غليظ، وخمار غليظ، بيدها سوط تؤدب الناس، وتأمر بالمعروف، وتنهى عن المنكر.
(المعجم الكبير ، رقم 785)
”حضرت ابوبلج یحییٰ بن ا بو سلیم بیان کرتے ہیں کہ میں نے سمراء بنت نہیک کو دیکھا ، جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پا چکی تھیں کہ اُن کے جسم پر ایک موٹا زرع اور دوپٹا تھا اور اُن کے ہاتھوں میں ایک کوڑا تھا۔ وہ لوگوں کو ادب سکھا رہی تھیں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کر رہی تھیں ۔“
ڈاکٹر صدیقی لکھتے ہیں کہ گانے بجانے والی عورتوں کا ایک ایسا طبقہ بھی تھا جو لوگوں کو اپنے گانے سے لطف اندوز کرتا اور پیسے کماتا تھا۔ اُن کے علاوہ میت پر ماتم و نوحہ کر کے پیسے کمانے والیاں بھی تھیں۔ اِس طبقے کاخاتمہ کر دیا گیا، کیونکہ نوحہ گری کی مذمت کی گئی ہے، مگر گانے بجانے والیوں کا طبقہ بدستور قائم رہا۔ اُن میں سے بعض خواتین نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کئی بار اپنے فن کا مظاہرہ بھی کیا۔ تاہم، جن صحابہ کے مزاج میں سختی تھی، جیسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ، اُن کے سامنے وہ گانے بجانے سے جھجکتی تھیں۔
مرد و خواتین کے یہ سماجی روابط اتنے عام تھے کہ بعض اوقات کوئی ناپسندیدہ صورت حال بھی پیش آ جاتی تھی۔ ایسی ہی ایک صورت جب پیش آئی تو تنبیہ بھی کی گئی:
أن نفرًا من بني هاشم دخلوا على أسماء بنت عميس، فدخل أبو بكر الصديق - وهي تحته يومئذٍ - فرآهم فكره ذلك، فذكر ذلك لرسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم، وقال: لم أر إلا خيرًا! فقال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم:”إن اللّٰه قد برأها من ذلك“. ثم قام رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم على المنبر، فقال: ”لا يدخلن رجل بعد يومي هذا على مغيبة إلا ومعه رجل أو اثنان.“
(مسلم،رقم 2173)
”بنو ہاشم کے کچھ لوگ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے گھر گئے، پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی آگئے، حضرت اسماء رضی اللہ عنہا اُس وقت اُن کے نکاح میں تھیں۔ اُنھوں نے اُن لوگوں کو دیکھا تو اُنھیں ناگوار گزرا۔ اُنھوں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی، ساتھ ہی کہا: میں نے خیر کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے (بھی) اُنھیں (حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو) اِس سے بری قرار دیا ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: آج کے بعد کوئی شخص کسی ایسی عورت کے پاس نہ جائے جس کا خاوند گھر پر نہ ہو، الاّ یہ کہ اُس کے ساتھ ایک یا دو لوگ ہوں۔“
درج ذیل روایت دورِ رسالت کے آخرکی ہے۔ اِس میں صراحت ہے کہ ایک خاتون نے حج کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سوال کیے۔ اِس موقع پر اُس کا چہرہ ڈھانپا ہوا نہیں تھا۔ فضل بن عباس اُسے بار بار دیکھ رہے تھے۔ آپ اُن کا منہ بار بار پھیر رہے تھے، مگر آپ نے خاتون کو چہرہ ڈھانپنے کا حکم نہیں دیا۔روایت یہ ہے:
عن عبد اللّٰه بن عباس رضي اللّٰه عنهما، قال: كان الفضل رديف رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم، فجاءت امرأة من خشعم، فجعل الفضل ينظر إليها وتنظر إليه، وجعل النبي صلى اللّٰه عليه وسلم يصرف وجه الفضل إلى الشق الآخر فقالت: يا رسول اللّٰه، إن فريضة اللّٰه على عباده في الحج، أدركت أبي شيخًا كبيرًا لا يثبت على الراحلة، أفأحج عنه؟ قال:”نعم“. وذلك في حجة الوداع.
(بخاری، رقم 1513)
”حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: حجۃ الوداع میں اُن کے بھائی فضل بن عباس رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر بیٹھے تھے کہ اِسی دوران میں خشعم قبیلے کی ایک عورت آئی۔ فضل بن عباس رضی اللہ عنہ اُس کی طرف اور وہ فضل کی طرف دیکھنے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کا چہرہ دوسری جانب کر دیا۔ اُس نے عرض کیا: یا رسول اللہ، اللہ کے بندوں پر حج فرض ہے اور میرے والد بہت بوڑھے ہو گئے ہیں اور سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے، تو کیا میں اُن کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ “
ڈاکٹر صدیقی نے اپنی کتاب کا اختتام درج ذیل عبارت پر کیا ہے:
” ...سیرت و حدیث اور تاریخی واقعات، بلکہ قرآنی آیات سے بھی یہ حقیقت ثابت ہوتی ہے کہ اسلامی حدود و شرعی قیود کے ساتھ مرد و زن کے ارتباط اور صنفی اختلاط کی پوری اجازت تھی اور نہ صرف اجازت تھی، بلکہ وہ ایک سماجی روایت بھی تھی جسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام کی متواتر سنت کا پشتہ حاصل تھا۔ مرد و زن کے اختلاط و ارتباط کا اصل اصول اور صحیح طریقہ یہی طریق نبوی اور انداز صحابہ تھا، نہ بعد کے خود پسند اور دقت پرست علماو فقہا کا طریقہ اور نہ ہی جدت طراز اور اباحت پسند سماجی دانشوروں کا بے محابا اور بے سلیقہ فکر و عمل۔ دنیاوی فلاح و مسرت اور اخروی بہبود و نجات صرف سنت نبوی اور تعامل صحابہ میں ہے۔“
(رسول اکرم اور خواتین: ایک سماجی مطالعہ205)
_________