عورتوں کے لیے بغیر محرم کے سفر کی ممانعت شرعی حکم نہیں، حالات کے تقاضے کے پیشِ نظر آپ کی طرف سے خیر خواہی کی نصیحت تھی۔ اُس زمانے کا سفر اکیلے مرد کے لیے بھی پرامن نہ تھا، چہ جائیکہ عورتوں کو اکیلے سفر پر بھیجا جاتا۔ چنانچہ مرد بھی کسی ہم راہ کے ساتھ یا ایک جماعت بنا کر سفر کیا کرتے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے زمانۂ امن کی پیشین گوئی فرمائی تھی جس میں عورتیں بھی اکیلے سفر کریں گی اور اُنھیں کوئی خطرہ نہ ہوگا۔ اِس روایت کے راوی عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا تھا کہ وہ زندہ رہے تو وہ زمانہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔ عدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ وقت اُن کی زندگی میں آ گیا اور اُنھوں نے وہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ روایت یہ ہے:
عن عدی بن حاتم ، قال: بينا أنا عند النبي صلى اللّٰه عليه وسلم إذ أتاه رجل فشكا إليه الفاقة، ثم أتاه آخر فشكا إليه قطع السبيل ، فقال : ”ي ا عدي، هل رأيت الحيرة؟ “ قلت: لم أرها وقد أنبئت عنها، قال:”فإن طالت بك حياة لترين الظعينة ترتحل من الحيرة حتى تطوف بالكعبة لا تخاف أحدًا إلا اللّٰه“... قال عدي: فرأيت الظعينة ترتحل من الحيرة حتى تطوف بالكعبة لا تخاف إلا اللّٰه.
(بخاری،رقم 3595)
”عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک صاحب آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فقرو فاقہ کی شکایت کی، پھر دوسرے صاحب آئے اور راستوں کی بدامنی کی شکایت کی، اِس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عدی، تم نے مقام حیرہ دیکھا ہے (جو کوفہ کے پاس ایک بستی ہے)؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے دیکھا تو نہیں، البتہ اُس کا نام میں نے سنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمھاری زندگی کچھ اور لمبی ہوئی تو تم دیکھو گے کہ ہودج میں ایک عورت اکیلی حیرہ سے سفر کرے گی اور (مکہ پہنچ کر) کعبہ کا طواف کرے گی اور اللہ کے سوا اُسے کسی کا بھی خوف نہ ہو گا۔... عدی بن حاتم (کی زندگی لمبی ہوئی اور انھوں ) نے بیان کیا کہ میں نے ہودج میں بیٹھی ہوئی ایک اکیلی عورت کو تو خود دیکھ لیا کہ حیرہ سے سفر کے لیے نکلی اور (مکہ پہنچ کر) اُس نے کعبہ کا طواف کیا اور اُسے اللہ کے سوا اور کسی سے خطرہ نہ تھا۔“
اِس سے واضح ہے کہ عورت کا محرم کے ساتھ سفر کرنا شرعی حکم نہیں، انتظامی مسئلہ ہے۔