خوشبو کا استعمال آرایش ہی سے متعلق ہے۔ اِس معاملے میں بھی عورتوں کو اُنھی آداب کی روح کا پاس و لحاظ کرنا ضروری ہے، جو سورۂ نور (24) کی آیت 31 میں بیان ہوئے ہیں۔ جس طرح جھنکار والی پازیب پہننے سے منع نہیں کیا گیا، فقط احتیاط کی نصیحت کی گئی کہ اُنھیں پہن کر زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ اُن سے پیدا ہونے والی بلند آواز مردوں کو غیرمعمولی طور پر اُن کی طرف متوجہ کرے، اُسی طرح خوشبو لگانے کی بھی مطلقاً ممانعت نہیں ہے، البتہ یہ نصیحت کی گئی ہے کہ وہ اتنی تیز نہیں ہونی چاہیے کہ مردوں کو دعوتِ توجہ دے۔ اِسی بات کو درج ذیل روایات میں بیان کیا گیا ہے:
عن أبي هريرة، قال: قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: ”طيب الرجال ما ظهر ريحه وخفي لونه، وطيب النساء ما ظهر لونه وخفي ريحه“.
(ترمذی، رقم 2787)
”حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کی مہک پھیلے اور رنگ چھپا ہوا ہو اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر ہو، لیکن مہک چھپی ہوئی ہو۔“
عن أبي موسى، عن النبي صلى اللّٰه عليه وسلم، قال:” كل عين زانية، والمرأة إذا استعطرت فمرت بالمجلس فهي كذا وكذا“، يعني زانية.
(ترمذی، رقم 2786)
”ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بد نظری زنا ہے۔ عورت جب خوشبو لگا کر مجلس کے پاس سے گزرے تو وہ بھی ایسی ایسی ہے، یعنی وہ بھی زانیہ ہے۔“
ظاہر ہے کہ یہ کسی شریف عورت کا کام نہیں کہ وہ تیز خوشبو لگا کر مردوں کی مجلس سے گزرے کہ وہ اُس کی طرف متوجہ ہوں۔
مسجد میں نماز کے لیے آتے ہوئے خاص طور پر خوشبو لگانے سے منع کیا گیا ہے، کیونکہ یہ مسجد کے ماحول اور نماز کے وقار کے منافی ہے۔ وہاں ساری توجہ عبادت کی طرف مبذول رہنی چاہیے۔ اِس بارے میں درج ذیل روایت پیش کی جاتی ہے:
عن زينب امرأة عبد اللّٰه قالت: قال لنا رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: ”إذا شهدت إحداكن المسجد فلا تمس طيبًا.“
(مسلم،رقم 443)
”حضرت زینب زوجہ حضرت عبداللہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا :جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو خوشبو نہ لگائے۔“