عورتوں کا نماز اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالس میں بیٹھ کر دین سیکھنے کے لیے مسجد میں جانا عہدِ رسالت کا عمومی عمل تھا۔ بعض صحابہ کے ہاں اِس معاملے میں کچھ حساسیت پائی جاتی تھی، اُنھیں اپنی عورتوں کا مسجد میں جانا پسند نہ تھا۔تاہم، اپنے اِس ذوق کی بنا پر وہ اپنی عورتوں کو مسجد جانے سے روک نہیں سکتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنھیں خبردار کیا کہ وہ خواتین کو مسجد میں آنے سے مت روکیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
إذا استأذنكم نساؤكم إلى المساجد فأذنوا لهن.
(مسلم، رقم 1019)
”جب تمھاری خواتین مسجد میں جانے کے لیے تم سے اجازت مانگیں تو اُنھیں مسجد کے لیے جانے دو۔“
عن ابن عمر قال: كانت امرأة لعمر تشهد صلاة الصبح والعشاء في الجماعة في المسجد، فقيل لها: لم تخرجين وقد تعلمين أن عمر يكره ذلك ويغار؟ قالت: وما يمنعه أن ينهاني؟ قال: يمنعه قول رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم:”لا تمنعوا إماء اللّٰه مساجد اللّٰه.“
(بخاری، رقم 900)
”حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ایک بیوی تھیں جو صبح اور عشا کی نماز جماعت سے پڑھنے کے لیے مسجد میں آیا کرتی تھیں۔ اُن سے کہا گیا کہ باوجود اِس علم کے کہ عمر رضی اللہ عنہ اِس بات کو پسند نہیں کرتے اور وہ غیرت محسوس کرتے ہیں، پھر آپ مسجد میں کیوں جاتی ہیں؟ اِس پر اُنھوں نے جواب دیا: پھر وہ مجھے منع کیوں نہیں کر دیتے؟ لوگوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُس حدیث کی وجہ سے کہ اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں میں آنے سے مت روکو۔“
عہدِ رسالت میں عیدین کی نماز کے لیے خواتین کو شمولیت کی تاکید کی جاتی تھی، حتیٰ کہ حائضہ خواتین کو بھی عید گاہ میں بلایا جاتا تھا۔ وہ نماز تو ادا نہ کرتیں، مگر دعا وغیرہ میں شامل ہوتیں۔ اِس سلسلے میں درج ذیل روایات پیش کی جاتی ہیں:
عن أم عطية، قالت: قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم:”أخرجوا العواتق، وذوات الخدور ليشهدن العيد، ودعوة المسلمين، وليجتنبن الحيض مصلى الناس.“
(ابن ماجہ، رقم 1308)
”ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنواری اور پردہ نشیں عورتوں کو عید گاہ لے جاؤ تاکہ وہ عید میں اور مسلمانوں کی دعا میں حاضر ہوں، البتہ حائضہ عورتیں نماز کی جگہ سے الگ بیٹھیں۔“
عن محمد ، عن أم عطية ، قالت: أمرنا تعني النبي صلى اللّٰه عليه وسلم أن نخرج في العيدين: العواتق وذوات الخدور، وأمر الحيض أن يعتزلن مصلى المسلمين.
(مسلم، رقم 2054)
”محمد (بن سیرین) نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، اُنھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عیدین میں بالغہ اور پردہ نشین عورتوں کو لے جایا کریں اور آپ نے حیض والی عورتوں کو حکم دیا کہ وہ مسلمانوں کی نماز کی جگہ سے ہٹ کر بیٹھیں۔“
روایت میں ’عواتق‘ ،یعنی بالغ لڑکیوں یا کنواریوں کے ساتھ پردہ نشین خواتین کا ذکر یہ بتاتا ہے کہ سب خواتین پردہ نشین نہیں تھیں۔ یہ پردہ نشین خواتین غالباً امرا یا طبقۂ اشرافیہ کی بیگمات ہوتی تھیں، جو اپنے گھروں میں رہتیں اور اُنھیں کہیں آنے جانے کی ضرورت عموماً پیش نہ آتی تھی۔ اُنھیں بھی عید کے اِس موقع پر گھروں سے بلا لیا جاتا تھا۔
جن اہلِ علم نے عورتوں کے مسجد اور عید گاہ میں جانے کو مکروہ ٹھیرایا ہے، اُس کی وجہ اُن کے نزدیک خوفِ فتنہ ہے، جو مردوں اور عورتوں کے اختلاط سے پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ اندیشہ، جیسا کہ پیش تر گزرا، ہمہ وقت اور ہمہ گیر نہیں ہوتا۔ حادثے کہیں بھی ہو جاتے ہیں، اُن کی وجہ سے حکم میں تبدیلی نہیں کی جاتی۔ یہ مسائل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی تھے، بلکہ ایسے حادثات پیش بھی آئے، مگر آپ نے خواتین کو مسجد یا عید گاہ میں آنے سے نہیں روکا۔ قرآن مجید ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ گھر سے باہر نکلنے والی خواتین کو مدینے کے منافقین اور اشرار ستاتے تھے۔ فجر کی نماز کو جاتی ایک خاتون کے ساتھ زنا بالجبرکا واقعہ پیش آیا تھا۔ اُس مجرم کو ڈھونڈ کر سزا دی گئی تھی، مگر اُس حادثے کی وجہ سے خواتین پر مسجد آنے یا اندھیرے کی نمازوں میں مسجد آنے پر بھی کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی تھی۔
حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے خواتین پر پابندی عائد کرنے کی ممانعت کی حدیث سنائی۔ اُن کے بیٹے بلال نے اِس پر اصرار کیا کہ وہ اپنی خواتین کو مسجد میں جانے سے ضرور روکیں گے۔ اِس پر ابن عمر رضی اللہ عنہ اُن سے سخت ناراض ہوئے اور اُنھیں ڈانٹا۔روایت یہ ہے:
عن بلال بن عبد اللّٰه بن عمر، عن أبيه قال: قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم:”لا تمنعوا النساء حظوظهن من المساجد إذا استأذنُوكم“. فقال بلال: واللّٰه لنمنعهن! فقال له عبد اللّٰه: أقول: قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم، وتقول أنت: لنمنعهن.
(مسلم، رقم 442)
”حضرت بلال بن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اپنے والد گرامی سے بیان کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: جب تم ميں سے کسی کی بيوی مسجد جانے کی اجازت طلب کرے تو وہ اُسے نہ روکے۔ حضرت بلال نے کہا: اللہ کی قسم، ہم اُنھيں ضرور منع کریں گے! اِس پر عبد اللہ بن عمر نے اُن سے فرمایا: ميں اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حديث بيان کر رہا ہوں اور تم کہہ رہے ہو کہ ہم اُنھیں ضرور روکیں گے۔“
عہدِ رسالت میں مرد و خواتین کا اختلاط آداب کی اُسی رعایت کے ساتھ جاری تھا جن کی ہدایت سورۂ نور میں آئی ہے۔ اِسی ذیل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی چند ہدایات جاری فرمائیں۔
آپ نے ہدایت کی کہ آنے جانے کے راستوں میں مردو زن ایک دوسرے میں ضم نہ ہو جائیں، الگ الگ اپنی اپنی قطار میں رہیں۔ نمازوں میں اُن کی صفیں الگ الگ ہوں۔ اِس میں یہ ترتیب اختیار کی گئی کہ مردوں کی صفیں آگے اور خواتین کی اُن سے پیچھے رکھی گئیں۔ مسجد میں داخل ہونے اور نکلنے میں سہولت کے پیش نظر عورتوں کے لیے یہی مناسب تھا کہ وہ پچھلی صفوں میں رہیں۔
جدید دور کے مہذب سماجوں میں بھی مردوزن کے اختلاط کے مقامات پر اُنھیں ایک دوسرے سے فاصلے پر رکھنے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اُن کے بیت الخلا الگ ہوتے ہیں، کاؤنٹرز کے سامنے اُن کی قطاریں بھی بعض جگہ الگ بنائی جاتی ہیں، سفر کے لیے اُن کی نشستیں بھی بعض جگہ الگ رکھی جاتی ہیں۔ مرد و زن میں حد فاصل کا اہتمام خود اِس بات کی دلیل ہے کہ مرد و زن کا اختلاط روا ہے، اِسی لیے آداب اور قوانین بنانے کی ضرورت درپیش ہے اور اِسی لیے قرآن مجید نے بھی اختلاط کے آداب بتائے ہیں۔ عہدِ رسالت کے معاشرے میں سماجی سرگرمیوں سے عورت غائب ہوتی تو آدابِ اختلاط کے بیان کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔