ترمذی کی مذکورہ بالا روایت”عورت (سراپا) پردہ ہے“ کی رو سے بعض اہلِ علم عورت کی آواز کو بھی اُس کے سراپا میں شمار کرتے ہوئے نامحرم مردوں سے عورت کی آواز کے پردے پر استدلال کرتے ہیں۔ عورت کی آواز کےپردے کے اثبات میں سورۂ نور (24) کی آیت 31 میں پاؤں کے زیور کی آواز کو پوشیدہ رکھنے کی ہدایت سے بھی استدلال کیا جاتا ہے۔ یہ استدلال امام ابو بکر جصاص کے مطابق یوں ہے کہ عورتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اُنھوں نے جھنکار والی پازیب پہن رکھی ہو تو اپنے پاؤں زور سے مار کر نہ چلیں تاکہ اُس کی آواز زیادہ پیدا نہ ہو۔ عورت کی آواز میں زیور کی آواز سے زیادہ کشش ہوتی ہے، اِس لیے غیر محرم مردوں تک وہ بھی نہیں پہنچنی چاہیے۔
اِس استدلال میں کئی مسائل ہیں۔ جھنکار والی پازیب پہن کر چلنے سے اُس کی معمول کی آواز لا محالہ پیدا ہوتی ہے۔ مقصود اگر یہ ہوتا ہے کہ اُس کی آواز پیدا ہی نہ ہو، جو مردوں کے کانوں تک پہنچ سکے تو ایسے زیور پہننے کی ممانعت کی جاتی، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ ممانعت صرف زور سے پاؤں مار کر اُن سے غیر معمولی آواز پیدا کرنے کی ہے۔ قیاس ہو سکتا ہے تو یہ کہ عورت کی معمول کی آواز مردوں کے کانوں تک پہنچنے کی ممانعت نہیں، البتہ خلافِ معمول بلند آواز نہیں نکالنی چاہیے، جو مردوں کو غیر معمولی طور پر متوجہ کرنے کا باعث بنے۔ اِس صورت میں یہ آدابِ محفل کی نوعیت کی ایک ہدایت ہے۔ اِس سے آواز کے پردے کا استدلال قائم نہیں ہوتا۔
عورت کی آواز کو زیور کی آواز پر قیاس کرنا بھی درست نہیں۔ زیورعورت کے وجود کا حصہ نہیں، زینت کی ایک چیز ہے اور زیور کی آواز بھی زینت ہے۔ عورت کی آواز زینت نہیں ہے، اُس کے وجود کا حصہ ہے۔ زینت وجود سے الگ اور اُس پر اضافی چیز ہوتی ہے، اِس لیے ایک کو دوسرے پر قیاس کرنے کے لیے کوئی قدرِ مشترک نہیں ہے۔ رہی یہ بات کہ عورت کی آواز میں مردوں کے لیے کشش ہوتی ہے تو یہ معمول کی کشش اُس کے چہرے، بلکہ اُس کے پورے وجود میں ہوتی ہے۔ یہ ایسے ہی ہے، جیسے عورت کے لیے مرد کے چہرے، اُس کی آواز، بلکہ اُس کے پورے وجود میں کشش ہوتی ہے، لیکن مردوں کو اپنی اِن چیزوں میں سے کسی چیز کو عورتوں سے چھپانے کی ہدایت نہیں کی گئی۔ معمول کی اِس باہمی کشش کو حد ادب میں رکھنے کے لیے غض بصر اور حفظِ فروج کی ہدایات دی گئی ہیں۔ اِس کشش کو کسی فتنے کا پیش خیمہ سمجھ کر شریعت میں اضافہ نہیں کیا جا سکتا۔ کسی فتنے کا اندیشہ اگر قوی ہو تو معاشرے کا فرض ہے کہ اپنا کردار ادا کرے۔ وعظ و نصیحت سے تربیت کی جائے، ورنہ قانون اور نظم اجتماعی کی طاقت سے فسادِ طبیعت کو حدود کا پابند بنایا جائے، مگرایسے خدشات کے پیشِ نظر عورتوں پر کوئی اضافی پابندیاں عائد نہیں کی جا سکتیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور صحابہ رضون اللہ علیہم اجمعین کی سوانح میں عورت کی آواز کے پردے کا تصور یا اُس کی کوئی مثال، بلکہ کوئی شائبہ بھی نہیں پایا جاتا۔ عہد ِرسالت کی خواتین اجتماعی عبادات، جہاد اور روز مرہ کی سماجی اور معاشی سرگرمیوں میں حصہ لیتی تھیں، مردوں سے معاملات طے کرتی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے کے بعد مدینہ کے طرزِ معاشرت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔
اِس کی تفصیل ایک مستقل ضمیمے میں بیان کی گئی ہے۔
عورت کے مکمل حجاب اور اُس کی آواز کا پردہ، البتہ بعض عجمی معاشروں کے طبقۂ اشرافیہ میں رائج رہا ہے۔ غالباً، اُسی کے زیرِ اثر عورت کی آواز کا پردہ تجویز کر دیا گیا۔