مولانا امین احسن اصلاحی کے مطابق، آیتِ جلباب میں مسلم عورتوں کونا محرم مردوں کی موجودگی میں اُن کے پورے جسم کے حجاب کا مستقل حکم دیا گیا ہے۔ اِس حکم کا محرک اگرچہ منافقین کی فتنہ پردازی اور شر انگیزی کی ایک مخصوص صورت حال تھی، مگر محض اِس سبب سے یہ حکم ایک وقتی تدبیر تک محدود نہیں ہو جاتا۔
مولانا لکھتے ہیں:
” ...احکام جتنے بھی نازل ہوئے ہیں، سب محرکات کے تحت ہی نازل ہوئے ہیں، لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ محرکات نہ ہوں تو وہ احکام کالعدم ہو جائیں۔ دوسرے یہ کہ جن حالات میں یہ حکم دیا گیا تھا، کیا کوئی ذی ہوش یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس زمانے میں حالات کل کی نسبت ہزار درجہ زیادہ خراب ہیں، البتہ حیا اور عفت کے وہ تصورات معدوم ہو گئے جن کی تعلیم قرآن نے دی تھی۔‘‘ (تدبر قرآن 6/270)
مولانا کی یہ بات درست ہے کہ احکام محرکات اور اسباب کی بنا ہی پروارد ہوتے ہیں، اور محض اپنے محرک یا سبب کی وجہ سے اُن کی تخصیص نہیں کی جاتی۔ تاہم، احکام کی تعمیم کے لیے ضروری ہے کہ وہ جس حقیقت یا علت پر مبنی ہوں، وہ تعمیم قبول کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ مثلاً ظہار کی آیات کا محرک ایک عورت کا شکوہ تھا، مگر اُس کے جواب میں ملنے والے حکم کی حقیقت یا علت میاں بیوی کے رشتوں میں خود ساختہ حرمت پیدا کرنے کی نفی ہے۔ اِس لیے یہ حکم اِس جیسی دیگر صورتوں کے لیے بھی عام ہو جاتا ہے اور محض اپنے محرک، یعنی ایک عورت کو درپیش مسئلے تک محدود نہیں رہتا۔
لیکن آیتِ جلباب میں چادر اوڑھنے کی ایسی کوئی حقیقت یا علت بیان نہیں ہوئی اور نہ مفہوم ہوتی ہے، جو اِسے عام حالات اور عام خواتین کے لیے عام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ اِس کی علت عورتوں کی پہچان کرانا بیان ہوئی ہے تاکہ اُن کو اوباشوں کی اذیت رسانی کے عمل سے محفوظ کرنے کا انتظام کیا جائے۔ یہ پہچان، ظاہر ہے کہ اُن کی خاندانی حیثیت کا اظہار تھا، جو لونڈیوں اور آبروباختہ عورتوں کو حاصل نہ تھی۔ مدینے کے اوباشوں کا عذر یہ نہیں تھا کہ رات کے اندھیرے میں چادر کے بغیر عورتوں کو دیکھ کر اُن کے جذبات بھڑک اٹھتے ہیں، جس کی روک تھام کے لیے عورتوں کے چادر اوڑھنے کی پابندی عائد کی گئی۔ چادر اوڑھنے کی یہ تدبیر اِس لیے اختیار کی گئی کہ اوباش جان لیں کہ یہ باحیا خاندانی خواتین ہیں، جن کو چھیڑنے اور ستانے کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
عورتوں کے پردے کے حکم کے اثبات میں جتنی علتیں بیان کی جاتی ہیں، اُن میں سے کوئی بھی اِس ہدایت کےموقع پر بیان نہیں ہوئی، جیسے پاکیزگی کا حصول، مردوں کو عورتوں کے حسن و جمال کے فتنے سے بچانا، مسلمان عورت کی پہچان قائم کرنا وغیرہ۔ چادر اوڑھنے کی ہدایت کا مقصد اگر عصمت و عزت کی حفاظت ہوتا تو اِس کے لیے 5یا 6 ہجری تک کے غیرمعمولی حالات درپیش ہونے کا انتظار نہ کیا جاتا، پہلے دن سے اُنھیں بتایا جاتا کہ باہرنکلتے ہوئے لباس کے کیا آداب ملحوظ رکھیں جائیں۔
جلباب اوڑھنے کی ایک عمومی علت جو آیتِ جلباب سے مفہوم ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ خاتون کا لباس ایسا ہونا چاہیے جس سے اوباشوں کو عورت کے حلیے ہی سے یہ پیغام ملے کہ وہ ایک معزز خاتون ہے، اُسے ہلکے کردار کی عورت نہ سمجھا جائے۔ خاتون کا پروقار لباس کیا ہو؟ اِس کا فیصلہ عورت اور اُس کا کلچر کرسکتے ہیں، اِس کے لیے کسی ایک طرز کے لباس یا لباس میں کسی خاص ہیئت کے اختیار کر لینے پر اصرار نہیں کیا جا سکتا۔
دورِ رسالت میں مسلمان خواتین پہلے ہی سے باوقار لباس پہنتی تھیں۔ گھروں سے باہر نکلتے وقت چادر لینے کا رواج بھی پہلے سے موجود تھا، یعنی ایسا نہیں تھا کہ عورتیں لباس کے معاملے میں کسی کوتاہی کی مرتکب تھیں اور اُنھیں اِس پر توجہ دلاتے ہوئے چادر اوڑھنے کا حکم دیا گیا ۔ آیتِ جلباب کی مخاطَب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیاں اور بیویاں بھی ہیں، جن کے بارے میں تصور نہیں کیا جا سکتا کہ اُن کے لباس میں ایسی کوئی کمی تھی، جس کی طرف اُنھیں بھی متوجہ کیا گیا اور چادر اوڑھنے کی تلقین کی گئی۔’جَلَابِیۡبِہِنَّ‘، (اپنی چادروں) کے الفاظ ہی سے واضح ہے کہ اُن خواتین کی چادریں اُن کے پاس پہلے سے موجود تھیں اور وہ گھروں سے باہر نکلتے وقت اُنھیں اوڑھتی بھی تھیں۔ چادر اوڑھنے کے اِسی رواج کو اُن خاص حالات میں مسلمان خواتین کی سماجی حیثیت کے اظہار کی باقاعدہ امتیازی علامت بنا دیا گیا۔ یہ بھی ممکن تھا کہ اِس کے لیے کوئی اور علامت مقرر کر دی جاتی، مگر آسانی سے دستیاب چادر جو پہلے ہی حیا اور وقار کی ایک نشانی سمجھی جاتی تھی، اِسی کو اِس مقصد کے لیے بہ طور خاص مقرر کر دیا گیا۔ چنانچہ جو خواتین رات کے اندھیرے کی وجہ سے چادر اوڑھنے کا لحاظ نہیں کرتی تھیں، وہ بھی اب کرنے لگیں، کیونکہ اب یہ اُن کی امتیازی علامت تھی۔
آیتِ جلباب کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ خواتین کے لیے چادر اوڑھنے کا یہ معاملہ شرعی تقاضے کی حیثیت سے نہیں دیا گیا تھا، اِسی لیے اِس ہدایت کے ساتھ تقویٰ کی تلقین اور ثواب اور عذاب کی نوعیت کی چیزیں بھی وابستہ نہیں کی گئیں۔ اِسے ایک تدبیر کے طور پر بیان کرنے پر اکتفا کیا گیا ہے۔