مدینہ کے اشرار اور منافقین کی ریشہ دوانیوں اور ایذارسانیوں کا خصوصی ہدف نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کا گھرانا تھا۔ اُن کی پوری کوشش تھی کہ ازواجِ مطہرات سے متعلق کوئی اسکینڈل کھڑا کریں تاکہ عام مسلمان آپ سے برگشتہ اور بدگمان ہو جائیں اور یوں نبوی مشن کو زک پہنچائیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت کا واقعہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ بولے بیٹے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی مطلقہ، حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے آپ کے نکاح کے خلاف پراپیگنڈا اِسی مہم کے شاخسانے تھے۔
مولانا امین احسن اصلاحی اِن حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اِس پوری سورہ پر تدبر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس دور میں منافقین کی ریشہ دوانیاں جس طرح عام مسلمانوں کو اسلام اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بدگمان و برگشتہ کرنے کے لیے بہت بڑھ گئی تھیں، اُسی طرح منافقات کے ذریعے سے اُنھوں نے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گھریلو زندگی کے سکون کو درہم برہم کرنے کے لیے بھی بڑی خطرناک مہم چلا رکھی تھی۔ منافق عورتیں امہات المومنین رضی اللہ عنہن کے گھروں میں جاتیں اور نہایت ہم دردانہ انداز میں اُن سے کہتیں کہ آپ لوگ شریف اور معزز گھرانوں کی بیٹیاں ہیں، لیکن آپ لوگوں کی زندگی ہر راحت و لذت سے محروم بالکل قیدیوں کی طرح گزر رہی ہے۔ اگر آپ دوسرے گھروں میں ہوتیں تو آپ کی زندگی ’بیگمات‘ کی طرح نہایت عیش و آرام اور ٹھاٹ باٹ کے ساتھ گزرتی۔ ساتھ ہی وہ یہ وسوسہ اندازی بھی کرتیں کہ اگر یہ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) آپ کو طلاق دے دیں تو بڑے بڑے رئیس اور سردار آپ لوگوں سے نکاح کریں گے اور آپ لوگوں کی زندگیاں قابل رشک ہو جائیں گی۔ آگے کی آیات سے یہ بات بھی سامنے آئے گی کہ منافقین کو بھی جب کبھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں جانے اور آپ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن سے بات کرنے کا موقع ملتا تو وہ اِس موقع سے فائدہ اٹھا کر اُن کے اندر کچھ نہ کچھ وسوسہ اندازی کی ضرور کوشش کرتے۔ اِن کوششوں سے اُن کا اصلی مقصد تو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گھریلو زندگی کے اندر کوئی اُس طرح کا فتنہ کھڑا کرنا تھا، جس طرح کا فتنہ اُنھوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے متعلق کھڑا کر دیا تھا جس کی تفصیلات سورۂ نور میں آپ پڑھ چکے ہیں، ورنہ ادنیٰ درجے میں یہ فائدہ تو اُن کو بدیہی طور پر نظر آتا تھا کہ اِس سے ازواج نبی (رضی اللہ عنہن) کے اندر بے اطمینانی پیدا ہوگی اور کیا عجب کہ اِس طرح کوئی ایسی شکل نکل آئے کہ وہ آپ کی ازواج کے ساتھ نکاح کرنے کا جو مذموم ارادہ رکھتے ہیں، وہ پورا ہو جائے۔‘‘ (تدبرقرآن6/ 216)
اللہ تعالیٰ نے منافقین کے اِس فتنے کا سدِ باب کرنے کے لیے ازواجِ مطہرات کے خصوصی پروٹوکولز مقرر کیے، لیکن اِنھیں مقرر کرنے سے پہلے اُن سے اُن کی رضامندی معلوم کی گئی۔ یہ اِس لیے کہ اِنھیں اختیار کرنے کی صورت میں ازواج مطہرات کو اپنے کچھ بنیادی حقوق کا ایثار کرنا پڑتا۔اِس حوالے سے غامدی صاحب لکھتے ہیں:
’’...پہلے ازواج مطہرات کو یہ اختیار دے دیا کہ وہ چاہیں تو دنیا کے عیش اور اُس کی زینتوں کی طلب میں حضور سے الگ ہو جائیں اور چاہیں تو اللہ و رسول اور قیامت کے فوزو فلاح کی طلب گار بن کر پورے شعور کے ساتھ ایک مرتبہ پھر یہ فیصلہ کر لیں کہ اُنھیں اب ہمیشہ کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی رہنا ہے۔ اِس کے بعد فرمایا کہ وہ اگر حضور کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کرتی ہیں تو اُنھیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ آپ کی رفاقت سے جو مرتبہ اُنھیں حاصل ہوا ہے، اُس کے لحاظ سے اُن کی ذمہ داری بھی بہت بڑی ہے۔ وہ پھر عام عورتیں نہیں ہیں۔ اُن کی حیثیت مسلمانوں کی ماؤں کی ہے ۔ اِس لیے وہ اگر صدق دل سے اللہ و رسول کی فرماں برداری اور عمل صالح کریں گی تو جس طرح اُن کی جزا دہری ہے، اُسی طرح اگر اُن سے کوئی جرم صادر ہوا تو اُس کی سزا بھی دوسروں کی نسبت سے دہری ہو گی۔‘‘ (میزان 473)
اِس سلسلے میں ارشاد ہوا ہے:
یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ اِنۡ کُنۡـتُنَّ تُرِدۡنَ الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا وَ زِیۡنَتَہَا فَتَعَالَیۡنَ اُمَتِّعۡکُنَّ وَ اُسَرِّحۡکُنَّ سَرَاحًا جَمِیۡلًا وَ اِنۡ کُنۡـتُنَّ تُرِدۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ الدَّارَ الۡاٰخِرَۃَ فَاِنَّ اللّٰہَ اَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنٰتِ مِنۡکُنَّ اَجۡرًا عَظِیۡمًا یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنۡ یَّاۡتِ مِنۡکُنَّ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ یُّضٰعَفۡ لَہَا الۡعَذَابُ ضِعۡفَیۡنِ ؕ وَ کَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرًا .
(الاحزاب33: 28-30)
’’(اِس طرف سے مایوس ہو کر اب یہ منافقین تمھارے گھروں میں فتنے اٹھانا چاہتے ہیں، اِس لیے)، اے نبی، اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اُس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمھیں دے دلا کر خوش اسلوبی کے ساتھ رخصت کر دوں۔اور اگر تم اللہ اور اُس کے رسول اور آخرت کے گھر کو چاہتی ہو تو اِن سب چیزوں سے بے نیاز ہو کر اُسی کے لیے سرگرم رہو، اِس لیے کہ اللہ نے تم میں سے خوبی کے ساتھ نباہ کرنے والیوں کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔ نبی کی بیویو، تم میں سے جو کسی کھلی بے حیائی کا ارتکاب کرے گی، اُس کے لیے دہرا عذاب ہے اور یہ اللہ کے لیے آسان سی بات ہے۔‘‘
ازواجِ مطہرات کے باطن کی پاکیزگی میں کوئی شبہ نہیں تھا۔ اُن پر عائد ہونے والی زائد پابندیوں کا مقصد یہ بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ اُنھیں لوگوں کی نگاہ میں بھی ہر طرح کی اخلاقی نجاست اور داغِ تہمت سے بالکل پاک دیکھنا چاہتا ہے۔ یہ اُن کے مقام و مرتبہ کا تقاضا ہے۔ اِس کے لیے اُنھیں جن باتوں کا پابند کیا گیا ،وہ غامدی صاحب کے الفاظ میں درج ذیل ہیں:
’’اول یہ کہ وہ اگر خدا سے ڈرنے والی ہیں تو ہر آنے والے سے بات کرنے میں نرمی اور تواضع اختیار نہ کیا کریں۔ عام حالات میں تو گفتگو کا پسندیدہ طریقہ یہی ہے کہ آدمی تواضع اختیار کرے، لیکن جو حالات اُنھیں درپیش ہیں، اُن میں اشرار و منافقین مروت اور شرافت کے لہجے سے دلیر ہوتے اور غلط فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اِس سے اُنھیں یہ توقع پیدا ہو جاتی ہے کہ جو وسوسہ اندازی وہ اُن کے دلوں میں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اُس میں انھیں کامیابی حاصل ہو جائے گی۔ اِس لیے ایسے لوگوں سے اگر بات کرنے کی نوبت آئے تو بالکل صاف اور سادہ انداز میں اور اِس طرح بات کرنی چاہیے کہ اگر وہ اپنے دل میں کوئی برا ارادہ لے کر آئے ہیں تو اُنھیں اچھی طرح اندازہ ہو جائے کہ یہاں اُن کے لیے کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے:
یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسۡتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیۡتُنَّ فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِالۡقَوۡلِ فَیَطۡمَعَ الَّذِیۡ فِیۡ قَلۡبِہٖ مَرَضٌ وَّ قُلۡنَ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا.
(32: 33)
’’نبی کی بیویو، تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ اگر تم خدا سے ڈرو تو (اِن لوگوں کے ساتھ) نرمی کا لہجہ اختیار نہ کرو کہ جس کے دل میں بیماری ہے، وہ کسی طمع خام میں مبتلا ہو جائے اور معروف کے مطابق بات کرو۔‘‘
دوم یہ کہ اپنے مقام و مرتبہ کی حفاظت کے لیے وہ گھروں میں ٹک کر رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جس ذمہ داری پر اُنھیں فائز کیا ہے، اُن کے سب انداز اور رویے بھی اُس کے مطابق ہونے چاہییں۔ لہٰذا کسی ضرورت سے باہر نکلنا ناگزیر ہو تو اُس میں بھی زمانۂ جاہلیت کی بیگمات کے طریقے پر اپنی زیب و زینت کی نمایش کرتے ہوئے باہر نکلنا جائز نہیں ہے۔ اُن کی حیثیت اور ذمہ داری، دونوں کا تقاضا ہے کہ اپنے گھروں میں رہ کر شب و روز نماز اور زکوٰۃ کا اہتمام رکھیں اور ہر معاملے میں پوری وفاداری کے ساتھ اللہ اور رسول کی اطاعت میں سرگرم ہوں۔ تاہم، کسی مجبوری سے باہر نکلنا ہی پڑے تو اسلامی تہذیب کا بہترین نمونہ بن کر نکلیں اور کسی منافق کے لیے انگلی رکھنے کا کوئی موقع نہ پیدا ہونے دیں:
وَ قَرۡنَ فِیۡ بُیُوۡتِکُنَّ وَ لَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاہِلِیَّۃِ الۡاُوۡلٰی وَ اَقِمۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتِیۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ اَطِعۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ ؕ اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ لِیُذۡہِبَ عَنۡکُمُ الرِّجۡسَ اَہۡلَ الۡبَیۡتِ وَ یُطَہِّرَکُمۡ تَطۡہِیۡرًا.
(33:33)
”تم اپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور اگلی جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو۔ اور نماز کا اہتمام رکھو اور زکوٰۃ دیتی رہو اور اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت پر قائم رہو۔ اللہ تو یہی چاہتا ہے، اِس گھر کی بیبیو کہ تم سے (وہ) گندگی دور کرے (جو یہ منافق تم پر تھوپنا چاہتے ہیں) اور تمھیں پوری طرح پاک کر دے۔‘‘
سوم یہ کہ اللہ کی آیات اور ایمان و اخلاق کی جو تعلیم اُن کے گھروں میں دی جا رہی ہے، دوسری باتوں کے بجاے وہ اپنے ملنے والوں سے اُس کا چرچا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اُنھیں جس کام کے لیے منتخب فرمایا ہے، وہ یہی ہے۔ اُن کا مقصد زندگی اب دنیا اور اُس کا عیش و عشرت نہیں، بلکہ اِسی علم و حکمت کا فروغ ہونا چاہیے۔
وَ اذۡکُرۡنَ مَا یُتۡلٰی فِیۡ بُیُوۡتِکُنَّ مِنۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ وَ الۡحِکۡمَۃِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ لَطِیۡفًا خَبِیۡرًا.
(33 :34)
’’اور تمھارے گھروں میں اللہ کی آیتوں اور اُس کی حکمت کی جو تعلیم دی جاتی ہے، اُس کا چرچا کرو۔ بے شک، اللہ بڑا ہی باریک بین اور خبر رکھنے والا ہے۔‘‘‘‘(میزان 473- 474)
ان آیات کے سیاق و سباق سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس کے بعد بھی اشرار اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اِسی سورہ میں آگے بڑی سخت تنبیہ کے ساتھ چند مزید ہدایات کیں۔
غامدی صاحب لکھتے ہیں:
”فرمایا ہے کہ اب کوئی مسلمان بن بلائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں داخل نہ ہو سکے گا۔ لوگوں کو کھانے کی دعوت بھی دی جائے گی تو وہ وقت کے وقت آئیں گے اور کھانا کھانے کے فوراً بعد منتشر ہو جائیں گے، باتوں میں لگے ہوئے وہاں بیٹھے نہ رہیں گے۔
آپ کی ازواج مطہرات لوگوں سے پردے میں ہوں گی اور قریبی اعزہ اور میل جول کی عورتوں کے سوا کوئی اُن کے سامنے نہ آئے گا۔ جس کو کوئی چیز لینا ہو گی، وہ بھی پردے کے پیچھے ہی سے لے گا۔
پیغمبر کی بیویاں مسلمانوں کی مائیں ہیں۔ جو منافقین اُن سے نکاح کے ارمان اپنے دلوں میں رکھتے ہیں، اُن پر واضح ہو جانا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی ازواج مطہرات سے کسی کا نکاح نہیں ہو سکتا۔ اُن کی یہ حرمت ہمیشہ کے لیے قائم کر دی گئی ہے۔ لہٰذا ہر صاحب ایمان کے دل میں احترام و عقیدت کا وہی جذبہ اُن کے لیے ہونا چاہیے جو وہ اپنی ماں کے لیے اپنے دل میں رکھتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لوگوں کی یہ باتیں باعث اذیت رہی ہیں۔ اب وہ متنبہ ہو جائیں کہ اللہ کے رسول کو اذیت پہنچانا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ یہ بڑی ہی سنگین بات ہے۔ یہاں تو ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص اپنی کسی نازیبا سے نازیبا حرکت کے لیے بھی کوئی عذر تراش لے، لیکن وہ پروردگار جو دلوں کے بھید تک سے واقف ہے، یہ باتیں اُس کے حضور میں کسی کے کام نہ آ سکیں گی۔‘‘
(میزان 474- 475)
اِس سے متعلق اصل ہدایات یہ ہیں:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَدۡخُلُوۡا بُیُوۡتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنۡ یُّؤۡذَنَ لَکُمۡ اِلٰی طَعَامٍ غَیۡرَ نٰظِرِیۡنَ اِنٰىہُ ۙ وَ لٰکِنۡ اِذَا دُعِیۡتُمۡ فَادۡخُلُوۡا فَاِذَا طَعِمۡتُمۡ فَانۡتَشِرُوۡا وَ لَا مُسۡتَاۡنِسِیۡنَ لِحَدِیۡثٍ ؕ اِنَّ ذٰلِکُمۡ کَانَ یُؤۡذِی النَّبِیَّ فَیَسۡتَحۡیٖ مِنۡکُمۡ ۫ وَ اللّٰہُ لَا یَسۡتَحۡیٖ مِنَ الۡحَقِّ ؕ وَ اِذَا سَاَلۡتُمُوۡہُنَّ مَتَاعًا فَسۡـَٔلُوۡہُنَّ مِنۡ وَّرَآءِ حِجَابٍ ؕ ذٰلِکُمۡ اَطۡہَرُ لِقُلُوۡبِکُمۡ وَ قُلُوۡبِہِنَّ ؕ وَ مَا کَانَ لَکُمۡ اَنۡ تُؤۡذُوۡا رَسُوۡلَ اللّٰہِ وَ لَاۤ اَنۡ تَنۡکِحُوۡۤا اَزۡوَاجَہٗ مِنۡۢ بَعۡدِہٖۤ اَبَدًا ؕ اِنَّ ذٰلِکُمۡ کَانَ عِنۡدَ اللّٰہِ عَظِیۡمًا اِنۡ تُبۡدُوۡا شَیۡئًا اَوۡ تُخۡفُوۡہُ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا لَا جُنَاحَ عَلَیۡہِنَّ فِیۡۤ اٰبَآئِہِنَّ وَ لَاۤ اَبۡنَآئِہِنَّ وَ لَاۤ اِخۡوَانِہِنَّ وَ لَاۤ اَبۡنَآءِ اِخۡوَانِہِنَّ وَ لَاۤ اَبۡنَآءِ اَخَوٰتِہِنَّ وَ لَا نِسَآئِہِنَّ وَ لَا مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُنَّ ۚ وَ اتَّقِیۡنَ اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدًا. (الاحزاب 33: 53- 55)
’’(یہ منافقین اپنی شرارتوں سے باز نہیں آرہے، اِس لیے) ایمان والو، تم اب نبی کے گھروں میں نہ جایا کرو، الاّ یہ کہ تم کو کسی کھانے پر آنے کی اجازت دی جائے، جب بھی اِس طرح کہ اُس کی تیاری کے منتظر نہ رہو۔ ہاں جب تم کو بلایا جائے تو (وقت کے وقت) داخل ہو، پھر جب کھانا کھا لو تو منتشر ہو جاؤ اور باتوں میں لگے ہوئے بیٹھے نہ رہو۔ اِس سے پیغمبر کو اذیت ہوتی ہے، مگر وہ تمھارا لحاظ کرتے ہیں اور اللہ حق بات کہنے میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا۔ اور تمھیں جب نبی کی بیویوں سے کوئی چیز مانگنی ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگو۔ یہ تمھارے دلوں کے لیے بھی زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے اور اُن کے دلوں کے لیے بھی۔ تمھارے لیے جائز نہیں کہ تم اللہ کے رسول کو تکلیف پہنچاؤ اور نہ یہ جائز ہے کہ اُس کے بعد تم اُس کی بیویوں سے کبھی نکاح کرو۔ اللہ کے نزدیک یہ بڑی سنگین بات ہے۔ تم کسی چیز کو ظاہر کرو یا اُس کو چھپاؤ، اللہ کے لیے برابر ہے، اِس لیے کہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔ نبی کی بیویوں پر اپنے باپوں کے سامنے ہونے میں، البتہ کوئی گناہ نہیں ہے اور نہ اپنے بیٹوں کے، نہ اپنے بھائیوں کے، نہ اپنے بھتیجوں کے، نہ اپنے بھانجوں کے، نہ اپنے میل جول کی عورتوں کے اور نہ اپنے غلاموں کے سامنے ہونے میں کوئی گناہ ہے۔ تم اللہ سے ڈرتی رہو، (بیبیو)۔ بے شک،اللہ ہر چیز پر نگاہ رکھنے والا ہے۔‘‘
ازواجِ مطہرات اور اُن کے ہاں وارد ہونے والے اجنبی مردوں کے درمیان حجاب قائم کرنے کا حکم، گھروں میں ایک آڑ قائم کر لینے کی ہدایت تھی تاکہ ازواج مطہرات اجنبی ملاقاتیوں سے بالکل اوجھل ہو جائیں۔ اِس کی ضرورت اِس لیے بھی تھی کہ اُس وقت کے سادہ تمدن میں گھروں میں الگ مردانہ بیٹھک کا رواج نہ تھا۔ یہ حجاب محض چہرے یا بدن پرنہیں تھا۔’مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ‘ کے الفاظ اِسی پر دلالت کرتے ہیں۔
علامہ ابن عثیمین اِس کو یوں واضح کرتے ہیں:
وكلمة’من‘ ۔ [23] تدل على أن هذا الستر لا بد أن ينفصل، وأنه غير ستر الوجه أو البدن بالثياب، بل هو ستر آخر: حجاب، وحجاب أمهات المؤمنين غير حجاب نساء المؤمنين؛ لأن حجاب نساء المؤمنين يصح أن يكون متصلاً بالبدن كالخمار والملحفة، وما أشبههما، أما حجاب أمهات المؤمنين فإنه حجاب آخر منفصل يحول بين الرجل وبين رؤية أمهات المؤمنين؛ ولهذا قال تعالىٰ: ”مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ“ فتدل على أن هذا الحجاب منفصل عن المستتر به.
(تفسیر العثیمین1 / 430)
’’لفظ ’مِنْ‘ اِس پر دلالت کرتا ہے کہ یہ پردہ (جسم سے) الگ ہونا چاہیے اور یہ کہ اِس سے مراد چہرے یا بدن کو کپڑے سے ڈھانپنا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک زائد پردہ، یعنی حجاب ہے۔ امہات المومنین کا حجاب عام مسلمان خواتین کے حجاب سے مختلف ہے، کیونکہ عام خواتین کا حجاب اُن کے بدن کے ساتھ متصل بھی ہو سکتا ہے، جیسے اوڑھنی اور بڑی چادر وغیرہ، جب کہ امہات المومنین کا حجاب ایک مستقل اور الگ حجاب ہے جو غیر محرم کے اور امہات المومنین کے مابین حائل ہو، جس سے وہ ان کو دیکھ نہ سکے، اِسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ‘۔ یہ اِس پر دلالت کرتا ہے کہ یہ حجاب اُس شخص سے منفصل ہے جو اُس کی اوٹ میں ہے۔“[24]