ازواجِ مطہرات کے خصوصی احکام کی تعمیم کے استدلال کا جائزہ

ازواجِ مطہرات کو دیے گئے خصوصی احکام کی تعمیم کا موقف صحابہ، تابعین اور متقدمین علما کے ہاں نہیں پایا جاتا۔ یہ متاخرین اہل علم کی طرف سے سامنے آیا۔ سب سے پہلے چوتھی صدی ہجری میں امام ابو بکر الجصاص (متوفیٰ: 370 ھ) نے اِسے بیان کیا۔ امام ابن العربی (متوفیٰ: 543 ھ) اور اُن کے بعد امام قرطبی (متوفیٰ: 671ھ) نے اِسے اپنایا۔ دور حاضر میں مولانا مودودی نے ازواجِ مطہرات کے خصوصی احکام کی تعمیم کا موقف ایک منظم استدلال کے ساتھ پیش کیا۔ دورِ جدید اہلِ علم کی اکثریت کے ہاں اب یہی موقف مقبول ہے۔

جصاص سورۂ احزاب (33) کی آیت 32 کے تحت لکھتے ہیں کہ فتنے کے جس اندیشے سے ازواجِ مطہرات کو اجنبی مردوں سے نرم لہجے میں بات کرنے کی ممانعت کی گئی تھی، شہوت انگیزی کا وہ فتنہ عام مردوں اور عورتوں کے درمیان مکالمے میں بھی موجود ہوتا ہے۔ اِس بنا پر ازواجِ مطہرات کو نا محرم مردوں سے اجتناب سے متعلق دیے گئے احکام تمام مسلم عورتوں پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔ اُن کے لیے بھی مردوں سے نرم لہجے میں گفتگو کرنا جائز نہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

وفيه الدلالة على أن ذلك حكم سائر النساء في نهيهن عن إلانة القول للرجال على وجه يوجب الطمع فيهن ويستدل به على رغبتهن فيهم.

(احكام القرآن 5/ 229)

”اِس میں اِس بات کی دلیل ہے کہ یہ حکم تمام عورتوں کے لیے ہے کہ وہ مردوں سے اِس انداز میں نرم لہجے میں بات نہ کریں جو اُن کے دل میں اُن کی طرف رغبت پیدا کرے اور جس سے اُن پر مردوں کی طرف مائل ہونے کا گمان کیا جائے۔“

سورۂ احزاب کی آیتِ حجاب میں اللہ تعالیٰ نے مسلمان مردوں پر پابندی عائد کی تھی کہ اُنھیں ازواجِ مطہرات سے کوئی چیز طلب کرنی ہو تو حجاب کے پیچھے سے طلب کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں اُن کے سامنے نہیں آئیں گی اور نہ وہ اُن کے حرم میں داخل ہو سکتے ہیں۔

ابن العربی اِس آیت کی رو سے استدلال کرتے ہیں کہ عورتوں کا تمام بدن ستر ہے۔ اُن کے جسم کا کوئی حصہ بھی بغیر ضرورت کے کسی پر ظاہر نہیں ہونا چاہیے۔ وہ لکھتے ہیں:

وهذا يدل على أن اللّٰه أذن في مساءلتهن من وراء حجاب في حاجة تعرض أو مسألة يستفتى فيها والمرأة كلها عورة بدنها وصوتها فلا يجوز لها كشف ذالك إلا لضرورة أو لحاجة كالشهادة عليها أو داء يكون ببدنها أو سؤالها عما يعن ويعرض عندها.

(احکام القرآن 3/616)

”یہ اِس بات پر دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی ضرورت پیش آنے پر یا کسی مسئلے میں عورتوں کی راے لینے کے لیے پردے کے پیچھے رہتے ہوئے اُن سے کوئی بات پوچھنے کی اجازت دی ہے۔ عورت کا پورا جسم اور اُس کی آواز پوشیدہ ہونی چاہیے اور اُس کے لیے جسم کو کھولنا جائز نہیں، سواے اِس کے کہ کوئی ضرورت پیش آ جائے، جیسا کہ اُسے اپنے متعلق گواہی دینی ہو یا اُس کے جسم میں کوئی بیماری ہو یا عورت کے سامنے پیش آنے والے کسی واقعے کے متعلق اُس سے استفسار کرنا ہو۔“

امام قرطبی اِسی استدلال کو قدرے تفصیل سے دہراتے ہیں:

في هذه الآية دليل على أن اللّٰه أذن في مساءلتهن من وراء حجاب في حاجة تعرض أو مسألة يستفتين فيها ويدخل في ذالك جميع النساء بالمعنى وبما تضمنته أصول الشريعة من أن المرأة كلها عورة بدنها وصوتها كما تقدم فلا يجوز كشف ذالك إلا لحاجة كالشهادة عليها أو داء يكون ببدنها أو سؤالها عما يعرض وتعن عندها.

(الجامع لاحکام القرآن17/208)

”یہ آیت اِس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی ضرورت پیش آنے پر یا کسی مسئلے میں امہات المومنین کی راے لینے کے لیے پردے کے پیچھے رہتے ہوئے اُن سے کوئی بات پوچھنے کی اجازت دی ہے۔ علت کی رو سے اِس حکم میں باقی تمام عورتیں بھی داخل ہیں۔ نیز، جیسا کہ گزر چکا، شریعت کے اصولوں کا مقتضا بھی یہی ہے کہ عورت کا پورا جسم اور اُس کی آواز پوشیدہ ہونی چاہیے۔ چنانچہ عورت کے لیے جسم کو کھولنا جائز نہیں، سواے اِس کے کہ کوئی ضرورت ہو، جیسا کہ اسے اپنے متعلق گواہی دینی ہو یا اُس کے جسم میں کوئی بیماری ہو یا عورت کے سامنے پیش آنے والے کسی واقعے کے متعلق اُس سے استفسار کرنا ہو۔“

ازواجِ مطہرات کے پردے کی تعمیم ایک فقہی قاعدے کی رو سے بھی کی گئی ہے۔ اِس کے مطابق مخاطب کی تخصیص سے حکم کی تخصیص لازم نہیں آتی۔ حکم کا تقاضا ہو تو اُسے عام سمجھا جا سکتا ہے۔ سورۂ احزاب میں ازواجِ مطہرات کو پردے کے جو احکام دیے گئے ہیں، وہ محض اِس وجہ سے ازواجِ مطہرات کے ساتھ خاص نہیں ہو جاتے کہ وہ اُن کی مخاطب تھیں۔

اِس حوالے سے ابنِ کثیر لکھتے ہیں کہ عام مسلمان خواتین تبعاً اُن احکام کی مخاطب اور مکلف ہیں جو ازواجِ مطہرات کو دیے گئے ہیں۔

یہی موقف مولانا مودودی کے ہاں زیادہ وضاحت سے پیش کیا گیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

”ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو مخاطب کرنے کی غرض صرف یہ ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کے گھر سے اس پاکیزہ طرز زندگی کی ابتدا ہوگی تو باقی سارے مسلمان گھرانوں کی خواتین خود اس کی تقلید کریں گی، کیونکہ یہی گھر ان کے لیے نمونہ کی حیثیت رکھتا تھا۔“ (تفہیم القرآن 4/ 88)

اِسی نکتے کو محور بنا کر مولانا امین احسن اصلاحی ازواجِ مطہرات کے پردے کے معاملے میں کی جانے والی غیر معمولی سختی کا جواز پیش کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

’’خطاب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو خاص طور پر پیش نظر رکھنے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ شروع شروع میں معاشرتی اصلاح کا یہ مشکل قدم آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں ہی سے اٹھایا گیا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ تمام امت کی خواتین کے لیے نمونہ ہونے کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج اور آپ کے اہل بیت پر ان ہدایات و احکام کی ذمہ داری زیادہ قوت اور شدت کے ساتھ عائد ہوتی تھی۔‘‘

(قرآن میں پردے کے احکام7)

اِس موقف پر اعتراض یہ ہے کہ بات اِتنی نہیں کہ متعلقہ آیات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو مخاطب کیا گیا ہے، بلکہ دیگر عورتوں کو خارج کرتے ہوئے مخاطب کیا گیا ہے، یعنی یوں کہا گیا ہے کہ اے نبی کی بیویو، تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو، اِس لیے یہ احکام تمھیں دیے جا رہے ہیں۔ اِس کا واضح مطلب ہے کہ یہ احکام دیگر خواتین کے لیے نہیں ہیں۔

مولانا مودودی آیت کے اِس طرز تخاطب کا وزن محسوس کرتے ہیں۔ چنانچہ اِس نکتے کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’” لَسۡتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ‘ (تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو) کا اندازِ بیان بالکل اس طرح کا ہے جیسے کسی شریف بچے سے کہا جائے کہ تم کوئی عام بچوں کی طرح تو ہو نہیں کہ بازاروں میں پھرو اور بے ہودہ حرکات کرو، تمھیں تمیز سے رہنا چاہیے۔“(پردہ 193)

مولانا کی یہ توجیہ درست نہیں، اِس لیے کہ آیت میں لفظ ’النِسَآء‘ آیا ہے، جو دیگر عورتوں کو بیان کر رہا ہے، نہ کہ صرف آبرو باختہ یا آوارہ عورتوں کو۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ علم میں یہ بحث بھی پیدا ہوئی کہ اِس آیت کی رو سے ازواجِ مطہرات تمام خواتین سے افضل ہیں تو کیا اُن میں حضرت مریم علیہا السلام بھی شامل ہیں۔

آیت میں مذکور ’النِسَآء‘ سے غیر پارسا یا آوارہ عورتیں مراد لینے کی یہ غلط فہمی، غالباً اِسی آیت کے اُس ٹکڑے سے پیدا ہوئی ہے کہ’لَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاہِلِیَّۃِ الۡاُوۡلٰی‘ (اور اگلی جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو)۔ آیت میں ’تبرُّج‘،’النساء‘ سے متعلق نہیں ہے، اِس لیے یہ ٹکڑا ’لَسۡتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ‘ (تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو) کی تفسیر یا توضیح نہیں ہے، بلکہ الگ تبصرہ ہے، یعنی ازواجِ مطہرات کی طرف سے اُس قسم کے رویے کا مظاہرہ بھی نہیں ہونا چاہیے جو نمایش کی شوقین عورتوں کا طریقہ ہے۔

یہاں یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ ’لَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاہِلِیَّۃِ الۡاُوۡلٰی‘ (اور اگلی جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو) کی مخاطب ازواجِ مطہرات ہیں، مگر خطاب کا رخ بد خصلت منافق مردوں اور عورتوں کی طرف ہے، جو ازواجِ مطہرات کو ٹھاٹ کی زندگی گزارنے کا لالچ دیتے اور اِس کے لیے امرا کی طرف سے نکاح کے پیغام پہنچاتے تھے۔ اِس طرح وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے میں رخنہ اندازی کی کوشش کرتے تھے۔

قرآن مجید کا یہ معروف اسلوب ہے کہ بعض اوقات براہِ راست مخاطب، درحقیقت مخاطب نہیں ہوتا، خطاب کا رخ کسی اور کی طرف ہوتا ہے، یعنی کہا کسی کو جاتا ہے اور سنانا کسی کو مقصود ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں اِس کی بیسیوں مثالیں موجود ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ آپ قرآن مجید کے بارے میں کسی شک کا شکار نہ ہوں، آپ مشرک نہ بن جائیں، مگر ظاہر ہے کہ خطاب کا رخ منکرین اور مشرکین کی طرف ہے۔

درج ذیل آیات ملاحظہ کیجیے:

الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِيْنَ. (آل عمران 3: 60)

”تمھارے پروردگار کی طرف سے یہی حق ہے، لہٰذا تم کسی شبہے میں نہ رہو۔“

وَاَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفًا وَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ.

(یونس 10: 105)

”اور (مجھے) حکم دیا گیا ہے کہ اپنا رخ یک سوئی کے ساتھ سیدھا اِسی دین کی طرف کر لو اور ہرگز مشرکوں میں سے نہ ہو۔“

ازواجِ مطہرات سے یہ کسی طرح متوقع نہیں تھا کہ وہ ایسی طرزِ بود و باش کی خواہش مند رہی ہوں ، جس پر تنبیہ کی ضرورت پیش آگئی ہو۔

سورۂ احزاب میں ازواجِ مطہرات کو پردے کے احکام کے ساتھ کچھ عام احکام بھی دیے گئے ہیں۔ مولانا مودودی اور مولانا اصلاحی، دونوں یہ استدلال کرتے ہیں کہ اِس بات کی کوئی معقول وجہ نہیں کہ اِس مجموعۂ احکام میں سے نماز، تلاوت قرآن اور ذکر اللہ جیسے احکام کو تو عام مان لیا جائے اور اُن کے ساتھ حجاب کے احکام کو ازواجِ مطہرات کے ساتھ خاص تصور کیا جائے۔

دوسرے یہ کہ اِس مجموعۂ احکام کا مقصد ازواجِ مطہرات کی طہارتِ نفس بیان ہوا ہے۔ یہ عام مسلمان خواتین سے بھی مطلوب ہے۔ اِس بنا پر یہ احکام عام خواتین پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔مولانا مودودی لکھتے ہیں:

” ...آگے ان آیات میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اسے پڑھ کر دیکھ لیجیے۔ کون سی بات ایسی ہے جو حضور کی ازواج کے لیے خاص ہو اور باقی مسلمان عورتوں کے لیے مطلوب نہ ہو؟ کیا اللہ تعالیٰ کا منشا یہی ہو سکتا تھا کہ صرف ازواج مطہرات ہی گندگی سے پاک ہوں، اور وہی اللہ و رسول کی اطاعت کریں، اور وہی نمازیں پڑھیں اور زکوٰۃ دیں؟ اگر یہ منشا نہیں ہو سکتا تو پھر گھروں میں چین سے بیٹھنے اور تبرج جاہلیت سے پرہیز کرنے اور غیر مردوں کے ساتھ دبی زبان سے بات نہ کرنے کا حکم ان کے لیے کیسے خاص ہو سکتا ہے اور باقی مسلمان عورتیں اس سے مستثنیٰ کیسے ہو سکتی ہیں؟ کیا کوئی معقول دلیل ایسی ہے جس کی بنا پر ایک ہی سلسلۂ کلام کے مجموعی احکام میں سے بعض کو عام اور بعض کو خاص قرار دیا جائے؟ “

(تفہیم القرآن 4/ 88)

عام اور خاص احکام کے ایک مجموعہ کے خاص احکام کو عام قرار دینے کے لیے یہ استدلال قوی نہیں کہ اِس میں عام احکام بھی موجود ہیں، اِس لیے اِس کے خاص احکام بھی عام ہیں یا عام ہونے چاہییں۔ اِسی مجموعۂ احکام میں ایسے خاص احکام بھی ہیں جن کی تعمیم ممکن ہی نہیں۔ وہ یہ ہیں:

ا۔ ازواجِ مطہرات امت کی مائیں ہیں۔

ب۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی اُن سے نکاح کرنا جائز نہیں۔

ج۔ اُن کے لیے دہرے اجر اور دہری سزا کا قانون ہے۔

د۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ازدواجی معاملات میں اُن کے درمیان عدل قائم کرنا لازم نہیں۔

ہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن سے رشتۂ نکاح ختم کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔

غرض یہ کہ خاص اور عام احکام کا مجموعہ سب احکام کو عام کر سکتا ہے، یہ استدلال درست نہیں۔

یہ احکام نبی کی بیویوں کے منصبی احکام ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اُن کے خصوصی پروٹوکولز ہیں کہ وہ عام لوگوں سے بات کرنے میں عام عورتوں کی نسبت زیادہ محتاط رویہ اختیار کریں اور نا محرم مردوں سے اوجھل اپنے گھروں میں محدود رہیں۔ اِسی رو میں اُنھیں اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے، نماز، تلاوت قرآن اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ یہ تلقین دین کی اصل روح کے ساتھ متعلق رہنے کی یاد دہانی ہے، جو اُن سے بھی مطلوب ہے۔

یہ ایسے ہی ہے، جیسے کسی صاحبِ منصب کو اُس کے منصبی تقاضوں کے خاص احکام دیتے ہوئے، اُسے امانت و دیانت برتنے کی تلقین بھی کی جائے۔ اِس بنا پر کہ امانت و دیانت کی رعایت ہر شخص سے مطلوب ہے، یہ نہیں سمجھا جا سکتا کہ اب اُس کی منصبی ذمہ داریوں کے احکام میں دوسرے لوگ بھی شریک ہیں۔

ازواجِ نبی کو دی گئی اِن خصوصی ہدایات کو عام خواتین کے لیے لائق پیروی سمجھنے کا یہ نتیجہ ہے کہ اِن ہدایات کی نوعیت سمجھنے میں متعدد سنگین قسم کی غلط فہمیاں لاحق ہو گئیں۔ اِن کے ایسے مفاہیم باور کیے گئے جو عام خواتین کے لیے حسن عمل کی بنا تو بن سکتے ہیں، مگر اُن سے ازواجِ مطہرات کی تنقیص لازم آتی ہے۔

اِن میں سے پہلی غلط فہمی یہ ہے کہ’لَا تَخۡضَعۡنَ بِالۡقَوۡلِ‘ (نرمی کا لہجہ اختیار نہ کرو) سے مردوں کو لبھانے والا نسوانی لہجہ مراد لے لیا گیا، جب کہ یہاں اِس سے مراد وہ نرم لہجہ ہے جو شرفا اور بھلے مانس لوگوں کا بات کرنے کا طریقہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اِس ہدایت کے مقابل معروف طریقے سے بات کرنے کا حکم دیا گیا ہے: ’وَ قُلۡنَ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا‘ ( اور معروف کے مطابق بات کرو) نہ کہ باحیا طریقے سے بات کرنے کا۔

شاہ عبد القادر دہلوی اِس حوالے سے لکھتے ہیں:

”یہ ایک ادب سکھایا کہ کسی مرد سے بات کہو تو اس طرح کہو جیسے ماں کہے بیٹے کو۔ “

(موضح القرآن739)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہونے والے سبھی منافق اور بد نیت نہیں ہوتے تھے اور نہ ہر موقع سختی کا ہوتا ہے۔ بعض صورتوں میں سختی کا لہجہ بد اخلاقی کے مترادف ہوجاتا ہے۔ آیت میں ازواجِ مطہرات کو سختی کا لہجہ اختیار کرنے کی ہدایت نہیں کی گئی، بلکہ معروف کے مطابق دو ٹوک انداز میں بات کرنے کی تاکید کی گئی ہے تاکہ منافقین جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے میں رخنہ اندازی کی امید لے کر آتے تھے، اُنھیں کوئی بات بنانے کا موقع نہ ملے۔

دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ آیت میں مذکور منافقین کی طمع سے مراد وہ شہوانی جذبات مراد لے لیے گئے ہیں جوعورتوں کے لبھانے والے انداز سے مردوں میں پیدا ہو جاتے ہیں، جب کہ آیت میں منافقین کے دلوں کی کیفیت بتانے کے لیے جو لفظ استعمال ہوا ہے، وہ مرض، یعنی بیماری ہے۔ قرآن مجید میں منافقین کے لیے اِس لفظ کے استعمالات اُن کی منافقت اور حسد کی بیماری کے لیے آئے ہیں۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن کی طمع بھی شہوانی نہیں تھی، بلکہ یہ اُن کی سازشوں کی کامیابی کی طمع تھی کہ تہمت طرازی اور رخنہ اندازی کے لیے کوئی بات ہاتھ آئے۔

ازواجِ مطہرات سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ اپنے وقار اور حیثیت سے فروتر کسی ایسے انداز میں لوگوں سے مخاطب ہوتی ہوں گی یا ہو سکتی تھیں جس پر اُن کی تنبیہ کی ضرورت پیش آ گئی۔

ازواجِ مطہرات اور اُن کے ملاقاتیوں کی طہارتِ نفس کا معاملہ بھی خصوصی تھا۔ وہ یوں کہ ازواجِ مطہرات کو امت کی مائیں قرار دے دیا گیا تھا۔ عام مردوں سے اُن کا یہ تعلق حقیقی نسبی رشتہ نہیں تھا، جس کے ساتھ پاکیزہ جذبات فطری طور پروابستہ ہو جاتے ہیں، اِس لیے اِن کے بارے میں عام لوگوں کے جذبات اور خود ازواجِ مطہرات کے احساسات میں اِس درجے کی پاکیزگی پیدا کرنا مقصود تھا کہ وہ لوگوں کے لیے ماؤں جیسی مقدس اور محترم ہستیاں بن جائیں اور وہ خود بھی ایسا ہی محسوس کریں۔

اِس حوالے سےعلامہ ابن عاشورلکھتے ہیں:

والمعنى: ذلك أقوى طهارة لقلوبكم وقلوبهن فإن قلوب الفريقين طاهرة بالتقوى وتعظيم حرمات اللّٰه وحرمة النبي صلى اللّٰه عليه وسلم ولكن لما كانت التقوى لا تصل بهم إلى درجة العصمة أراد اللّٰه أن يزيدهم منها بما يكسب المؤمنين مراتب من الحفظ الإِلهي من الخواطر الشيطانية بقطع أضعف أسبابها وما يقرب أمهات المؤمنين من مرتبة العصمة الثابتة لزوجهن صلى اللّٰه عليه وسلم فإن الطيبات للطيبين بقطع الخواطر الشيطانية عنهن بقطع دابرها ولو بالفرض.

”مراد یہ ہے کہ یہ تمھارے دلوں اور ازواج نبی کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے زیادہ موثر ہے، اِس لیے کہ اگرچہ دونوں کے دل تقویٰ سے بہرہ ور اور اللہ اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمتوں کی تقدیس کے جذبے سے معمور ہیں، لیکن یہ تقویٰ اُنھیں عصمت کے درجے تک نہیں پہنچا سکتا، اِس لیے اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ شیطانی وساوس کے کم زور ترین اسباب کو بھی دور کر کے اہل ایمان کو مزید تقویٰ عطا فرمائے، جس سے اُنھیں شیطانی وساوس سے حفاظت الٰہی کے مزید مراتب حاصل ہو جائیں اور امہات المومنین سے شیطانی وساوس کے بالکل موہوم کو بھی دور کر کے اُنھیں عصمت کے اُس مرتبہ کے قریب تر پہنچا دیا جائے جو اُن کے شوہر کو حاصل ہے، کیونکہ پاکیزہ خواتین پاکیزہ مردوں ہی کے لیے ہیں۔

وأيضًا فإن للناس أوهامًا وظنونًا سُوأَى تتفاوت مراتب نفوس الناس فيها صرامة ووهنًا، ونَفَاقًا وضعفًا، كما وقع في قضية الإِفك المتقدمة في سورة النور فكان شَرع حجاب أمهات المؤمنين قاطعًا لكل تقول وإرجاف بعمد أو بغير عمد.

مزید یہ کہ لوگوں کے دلوں میں کئی طرح کے خیالات اور برے گمان پیدا ہو جاتے ہیں، جس میں لوگوں کے نفوس کے مراتب مختلف ہوتے ہیں اور بعض لوگوں کے دل کم زوری اور نفاق کا زیادہ شکار بن سکتے ہیں، جیسا کہ سورۂ نور میں مذکورہ واقعۂ افک میں ہوا۔ اِس تناظر میں امہات المومنین کے حجاب کی پابندی سے ہر طرح کی الزام تراشی یا کردار کشی کا سد باب ہو گیا، چاہے کوئی عمداً‌ ایسا کرے یا بلاقصد اِس کا شکار ہو جائے۔

ووراء هذه الحِكَم كلها حكمة أخرى سامية وهي زيادة تقرير معنى أمومتهن للمؤمنين في قلوب المؤمنين التي هي أُمومة جَعلية شرعية بحيث إن ذالك المعنى الجعلي الروحي وهو كونهن أمهات يرتد وينعكس إلى باطن النفس وتنقطع عنه الصور الذاتية وهي كونهن فلانة أو فلانة فيصبحْن غير متصوَّرات إلا بعنوان الأمومة فلا يزال ذالك المعنى الروحي ينمى في النفوس، ولا تزال الصور الحسية تتضاءل من القوة المدركة حتى يصبح معنى أمهات المؤمنين معنى قريبًا في النفوس من حقائق المجردات كالملائكة، وهذه حكمة من حكم الحجاب الذي سنه الناس لملوكهم في القدم ليكون ذالك أدخل لطاعتهم في نفوس الرعية .

مذکورہ تمام حکمتوں کے علاوہ ایک اور بڑی اعلیٰ حکمت یہ ملحوظ تھی کہ مسلمانوں کے دلوں میں ازواج نبی کے ماں ہونے کے تصور کو راسخ کردیا جائے، جو دراصل شریعت کا قائم کردہ ایک مصنوعی رشتہ تھا۔ مقصود یہ تھا کہ ازواجِ نبی کے امہات ہونے کا تصور لوگوں کے دلوں میں رچ بس جائے اور وہ ازواج کو اُن کی انفرادی شخصیت کے لحاظ سے دیکھنے کے بجاے کہ وہ فلاں اور فلاں ہیں، صرف اِس نظر سے دیکھیں کہ وہ اُن کی مائیں ہیں۔ یوں یہ روحانی رشتہ دلوں میں مضبوط ہوتا چلا جائے اور ازواج کی حسی شکل و صورت لوگوں کے ذہنوں میں دھندلی ہوتی چلی جائے، تا آنکہ اُن کے دلوں میں امہات المومنین کا تصور اُسی طرح ایک مجرد قسم کا تصور بن جائے، جس طرح فرشتوں کا ہوتا ہے۔ یہی حکمت حجاب کی اُس قدیم رسم میں بھی ملحوظ ہے جو لوگوں نے اپنے بادشاہوں کے لیے مقرر کی تھی تاکہ اُن کی رعیت کے دلوں میں اُن کی اطاعت کا جذبہ زیادہ جاگزیں ہو جائے۔

وبهذه الآية مع الآية التي تقدمتها من قوله :”يٰنِسَآءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ“تحقق معنى الحجاب لأمهات المؤمنين المركبُ من ملازمتهن بيوتهن وعدمِ ظهور شيء من ذواتهن حتى الوجه والكفين، وهو حجاب خاص بهن لا يجب على غيرهن، وكان المسلمون يقتدون بأمهات المؤمنين ورعًا وهم متفاوتون في ذالك على حسب العادات.

(التحریر والتنویر 22/91)

اِس آیت کے ساتھ ایک سابقہ آیت، یعنی ’یٰنِسَآءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ‘(نبی کی بیویو، تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو) کو ملا کر دیکھا جائے تو امہات المومنین کے لیے حجاب کا حکم مکمل ہو جاتا ہے، جو اِن دو ہدایات کا مجموعہ ہے کہ وہ اپنے گھروں کے اندر ہی رہا کریں اور اُن کے بدن کا کوئی حصہ، حتیٰ کہ چہرہ اور ہاتھ بھی لوگوں کو دکھائی نہ دیں۔ یہی وہ حجاب ہے جو امہات کے ساتھ خاص تھا اور اُن کے علاوہ دوسروں پر واجب نہیں، البتہ لوگ تقویٰ کے پہلو سے امہات المومنین کی پیروی کی کوشش کرتے ہیں۔ اِس کی نوعیت اُن کی اپنی اپنی عادات کےلحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔“

ازواجِ مطہرات کے خصوصی حجاب کی نوعیت واضح ہو جانے کے بعد محولہ بالا آیت کی رو سے عام مردوں اور عورتوں کے اختلاط کی ممانعت کا استدلال قائم نہیں رہتا۔ ازواجِ مطہرات کو دیے گئے خصوصی احکام کو عام ماننے سے سورۂ نور میں مر دوزن کے اختلاط کے آداب سے تضاد لازم آتا ہے، جن کے مخاطب عام مومنین اور مومنات ہیں۔ عام خواتین کواپنی ظاہری زینتوں کے ساتھ مردوں کے سامنے آنے کی اجازت ہے، اُنھیں نظروں سے اوجھل ہو جانے کا حکم نہیں دیا گیا۔

یہ واضح ہو جانے کے بعد کہ ازواجِ مطہرات کے حجاب کی نوعیت کیا تھی، مولانا اصلاحی کے درج ذیل اقتباس کی بنیادی غلطی از خود واضح ہو جاتی ہے۔ مولانا اصلاحی اپنی کتاب ”اسلامی معاشرے میں عورت کا مقام“میں آیتِ حجاب کے تحت لکھتے ہیں:

’’اس آیت سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ عورتوں اور مردوں کا آزادانہ اختلاط، ان کا ایک مجلس میں بیٹھ کر خوش گپیاں کرنا، دعوتوں میں باہم مل جل کر کھانا پینا، تفریحات میں ایک ساتھ شریک ہونا اسلام کی تہذیب نہیں ہے۔ یہ آیت بھی اگرچہ ظاہر الفاظ کے لحاظ سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج سے متعلق معلوم ہوتی ہے، لیکن اس میں جو ہدایات دی گئی ہیں، وہ ان ہی سے متعلق نہیں ہیں، بلکہ آگے چل کر آپ دیکھیں گے کہ بعینہٖ یہی ہدایات خود قرآن مجید کے اندر پوری اسلامی سوسائٹی کے لیے نازل ہوئی ہیں۔‘‘ (116)

مولانا اصلاحی کا یہ تاثر کہ ”بعینہٖ یہی ہدایات خود قرآن مجید کے اندر پوری اسلامی سوسائٹی کے لیے نازل ہوئی ہیں“ حقیقت نہیں ہے۔ قرآن مجید میں عام خواتین کے لیے اُنھیں مخاطب کر کے ایسی کوئی ہدایات نازل نہیں ہوئیں جو اُنھیں گھروں میں محدود اور مردوں کی نگاہوں سے اوجھل حجاب میں رہنے کا حکم دیتی ہوں۔ آیتِ جلباب گھر سے باہر کے ایک مسئلے کو موضوع بناتی ہے، جب کہ سورۂ نور (24) کی آیت 31، مولانا کے تاثر کے برعکس، مردوں اور عورتوں کو ایک مجلس میں جمع ہونے کی صورت میں اختلاط کے آداب اور حدود سکھاتی ہے۔ یہی نہیں، بلکہ سورۂ نور ہی میں بتایا گیا ہے کہ اِس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ مرد و زن اپنے باہم مل کر کھانا کھائیں یا الگ الگ۔ارشاد ہوا ہے:

لَیۡسَ عَلَی الۡاَعۡمٰی حَرَجٌ وَّ لَا عَلَی الۡاَعۡرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَی الۡمَرِیۡضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمۡ اَنۡ تَاۡکُلُوۡا مِنۡۢ بُیُوۡتِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ اٰبَآئِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ اُمَّہٰتِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ اِخۡوَانِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ اَخَوٰتِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ اَعۡمَامِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ عَمّٰتِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ اَخۡوَالِکُمۡ اَوۡ بُیُوۡتِ خٰلٰتِکُمۡ اَوۡ مَا مَلَکۡتُمۡ مَّفَاتِحَہٗۤ اَوۡ صَدِیۡقِکُمۡ ؕ لَیۡسَ عَلَیۡکُمۡ جُنَاحٌ اَنۡ تَاۡکُلُوۡا جَمِیۡعًا اَوۡ اَشۡتَاتًا ؕ فَاِذَا دَخَلۡتُمۡ بُیُوۡتًا فَسَلِّمُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمۡ تَحِیَّۃً مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ مُبٰرَکَۃً طَیِّبَۃً ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الۡاٰیٰتِ لَعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ.

(النور 24: 61)

”(اللہ اِن ہدایات سے تمھارے لیے کوئی تنگی پیدا نہیں کرنا چاہتا، اِس لیے) نہ اندھے کے لیے کوئی حرج ہے، نہ لنگڑے کے لیے اور نہ مریض کے لیے اور نہ خود تمھارے لیے کہ تم اپنے گھروں سے یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا اپنے زیر تولیت کے گھروں سے یا اپنے دوستوں کے گھروں سے کھاؤ پیو۔ تم پر کوئی گناہ نہیں، چاہے (مرد و عورت) اکٹھے بیٹھ کر کھاؤ یا الگ الگ۔ البتہ، جب گھروں میں داخل ہو تو اپنے لوگوں کو سلام کرو، اللہ کی طرف سے مقرر کی ہوئی ایک بابرکت اور پاکیزہ دعا۔ اللہ تمھارے لیے اِسی طرح اپنی آیتوں کی وضاحت کرتا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو۔“