ازواجِ مطہرات کو گھروں میں بٹھا دینے کے حکم کا مقتضا تھا کہ اُنھیں اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے بھی گھر سے باہر نہ نکلنا پڑے۔ اُن کی معاشی ضروریات تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوری کرتے ہی تھے، آپ کے بعد اُن کی دیکھ بھال کی ذمہ داری امت کو سونپ دی گئی۔اپنے بعد امت کو اُن کی ذمہ داری سونپنے کے معاملے میں آپ نے بڑے اہتمام کے ساتھ کام لیا۔آپ کا ارشاد ہے:
أذكركم اللّٰه في أهل بيتي، أذكركم اللّٰه في أهل بيتي، أذكركم اللّٰه في أهل بيتي .
(مسلم،رقم6225)
”میں تمھیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ یاد دلاتا ہوں۔ میں تمھیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ یاد دلاتا ہوں۔ میں تمھیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ یاد دلاتا ہوں۔“
آپ کے بعد خلفا بڑے اہتمام اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ امہات المومنین کی ضروریات کو پورا کیا کرتے تھے۔
ازواجِ مطہرات کے معاشی انتظام کے اِس خصوصی بندوبست کا یہ معاملہ بھی عام خواتین سے متعلق نہیں۔ پردہ نشین خواتین کے معاش کے بندوبست کی کوئی خصوصی ذمہ داری معاشرے پر نہیں ڈالی گئی۔
ازواجِ مطہرات کے خصوصی حجاب ہی کا تقاضا تھا کہ اُن کا حج بھی لوگوں سے علیحدہ کرایا جاتا تھا، جب کہ عام خواتین مردوں کے ساتھ ہی حج کے مناسک ادا کرتی تھیں۔
صحیح بخاری کی روایت ہے:
عن أم سلمة رضي اللّٰه عنها زوج النبي صلى اللّٰه عليه وسلم، قالت: شكوت إلى رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم أني أشتكي، فقال: ”طوفي من وراء الناس وأنت راكبة“، فطفت ورسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم حينئذ يصلي إلى جنب البيت وهو يقرأ:”وَالطُّوْرِ وَكِتَابٍ مَّسْطْوْرٍ.“
(رقم 1619)
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے بیمار ہونے کی شکایت کی (کہ میں پیدل طواف نہیں کر سکتی) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سواری پر چڑھ کر اور لوگوں سے علیحدہ رہ کر طواف کر لو۔ چنانچہ میں نے عام لوگوں سے الگ رہ کر طواف کیا۔ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم ’وَالطُّوْرِ، وَكِتَابٍ مَّسْطُوْرٍ‘ قراءت کر رہے تھے۔“
صحیح بخاری کی ایک اور روایت ہے:
إذ منع ابن هشام النساء الطواف مع الرجال، قال: كيف يمنعهن وقد طاف نساء النبي صلى اللّٰه عليه وسلم مع الرجال؟ قلت: أبعد الحجاب أو قبل، قال: إي لعمري، لقد أدركته بعد الحجاب، قلت: كيف يخالطن الرجال؟ قال: لم يكن يخالطن، كانت عائشة رضي اللّٰه عنها تطوف حجرة من الرجال لا تخالطهم، فقالت امرأة: انطلقي نستلم يا أم المؤمنين، قالت: انطلقي عنك وأبت. كن يخرجن متنكرات بالليل فيطفن مع الرجال، ولكنهن كن إذا دخلن البيت قمن حتى يدخلن وأخرج الرجال، وكنت آتي عائشة أنا وعبيد بن عمير وهي مجاورة في جوف ثبير، قلت: وما حجابها، قال: هي في قبة تركية لها غشاء وما بيننا وبينها غير ذلك، ورأيت عليها درعًا موردًا. (رقم 1618)
”جب ابن ہشام (جب وہ ہشام بن عبدالملک کی طرف سے مکہ کا حاکم تھا) نے عورتوں کو مردوں کے ساتھ طواف کرنے سے منع کر دیا تو عطا نے اُس سے کہا کہ تم کس دلیل پر عورتوں کو اِس سے منع کر رہے ہو، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک بیویوں نے مردوں کے ساتھ طواف کیا تھا؟ ابن جریج نے پوچھا: یہ پردہ (کی آیت نازل ہونے) کے بعد کا واقعہ ہے یا اُس سے پہلے کا؟ اُنھوں نے کہا: میری عمر کی قسم! میں نے اُنھیں پردہ (کی آیت نازل ہونے) کے بعد دیکھا۔ اِس پر ابن جریج نے پوچھا کہ پھر مرد عورت مل جل جاتے تھے۔ اُنھوں نے فرمایا کہ اختلاط نہیں ہوتا تھا، عائشہ رضی اللہ عنہا مردوں سے الگ رہ کر ایک الگ کونے میں طواف کرتی تھیں، اُن کے ساتھ مل کر نہیں کرتی تھیں۔ (وقرہ نامی) ایک عورت نے اُن سے کہا:ام المومنین، چلیے (حجر اسود کو) بوسہ دیں تو آپ نے انکار کر دیا اور کہا: تم جا کر چوم لو، میں نہیں چومتی۔ ازواج مطہرات رات میں پردہ کر کے نکلتی تھیں تاکہ پہچانی نہ جائیں اور مردوں کے ساتھ طواف کرتی تھیں۔ البتہ عورتیں جب کعبہ کے اندر جانا چاہتیں تو اندر جانے سے پہلے باہر کھڑی ہو جاتیں اور مرد باہر آ جاتے (تو وہ اندر جاتیں)۔ میں اور عبید بن عمیر عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں اُس وقت حاضر ہوئے جب آپ ثبیر (پہاڑ) پر ٹھیری ہوئی تھیں، (جو مزدلفہ میں ہے)۔ ابن جریج نے کہا کہ میں نے عطا سے پوچھا کہ اُس وقت پردہ کس چیز سے کیا تھا؟ عطا نے بتایا کہ ایک ترکی قبہ میں ٹھیری ہوئی تھیں۔ اُس پر پردہ پڑا ہوا تھا۔ ہمارے اور اُن کے درمیان اُس کے سوا اور کوئی چیز حائل نہ تھی۔ اُس وقت میں نے دیکھا کہ اُن کے بدن پر ایک گلابی رنگ کا کرتا تھا۔“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو اپنے ساتھ حج کرانے کے بعد گھروں میں ٹکے رہنے کی تلقین کی تھی۔ اِسی سبب سے حضرت زینب بنت جحش اور حضرت سودہ رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کبھی سفر بھی نہیں کیا۔ ازواجِ مطہرات حج پر بھی نہیں جاتی تھیں اور جو جانا چاہتیں، اُنھیں حضرت عمر جانے کی اجازت نہ دیتے تھے، البتہ اپنی زندگی کے آخری برس میں اُنھوں نے اِس کی اجازت دی اور جب دی تو ازواج کے پروٹوکولز کا یہ عالم تھا:
أن عمر رضي اللّٰه عنه أذن لأزواج النبي صلى اللّٰه عليه وسلم في الحج وبعث معهن عثمان، وابن عوف فنادى عثمان رضي اللّٰه عنه بالناس: لا يدن منهن أحد ولا ينظر إليهن إلا مد البصر وهن في الهوادج على الإبلِ وأنزلهن صدر الشعب، ونزل عبد الرحمن وعثمان رضي اللّٰه عنهما بذنبه فلم يصعد إليهن أحد.
(السنن الكبرىٰ 5/373 )
”حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ازواجِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حج کی اجازت دی تو حضرت عثمان اور عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما کو اُن کے ساتھ بھیجا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں اعلان کیا کہ کوئی اِن کے قریب نہ جائے اور نہ اُن کی طرف دیکھے، سواے دور سے، جب کہ وہ اونٹوں پر ہودج میں تھیں۔ اُنھوں نے اُنھیں وادی کے ابتدائی حصے میں اتارا۔ عبد الرحمٰن اور عثمان رضی اللہ عنہما وادی کے اختتامی حصے میں ٹھیرے، اور کوئی ان کے قریب نہ گیا۔“
اِس سارے معاملے سے یہ واضح ہے کہ ازواجِ مطہرات کے خصوصی احکام ایک مکمل پیکج تھا۔ یہ خصوصی پروٹوکولز تھے، جو اُن کی رضامندی کے حصول کے بعد اُن پر لاگو کیے گئے۔ اِس خصوصی ایثار اور ذمہ داری کے بدلے میں اُنھیں دہرے اجر کا مژدہ سنایا گیا اور اِس نازک ذمہ داری میں کسی فاحشہ کے ارتکاب پر دہری سزا کی وعید بھی سنائی گئی۔ اُن کے گھروں میں محدود رہنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی سے نکاح نہ کرنے کی وجہ سے اُن کے معاش کا بندوبست بھی کیا گیا۔
ازواجِ مطہرات کے اِن احکام کی یہ نوعیت تمام تر اختصاصی ہے۔ عام خواتین اِن کی مخاطب ہیں، نہ مکلف۔ اِن احکام سے مسلمان عورت کا سماجی دائرہ متعین نہیں ہوتا۔ عام خواتین کا سماجی دائرہ مردوں کے سماجی دائرے کی طرح اُن کا تمدن، اُن کی ضروریات، اُن کے اذواق اور رجحانات سے طے ہوتا ہے۔ دین نے اِس بارے میں اخلاقی تقاضوں کی پاس داری کے علاوہ کوئی مطالبہ نہیں کیا۔
ازواجِ مطہرات عام مسلمان خواتین کے لیے اپنی اخلاقی حیثیت اور خدا اور رسول کی تابع داری کے معاملے میں نمونۂ عمل ہیں، لیکن اپنے مخصوص احکام میں اُن کے لیے نمونہ نہیں ہیں۔ ایسے ہی، جیسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ دین و اخلاق میں عام مسلمانوں کے لیے نمونۂ عمل ہے، لیکن آپ کی منصبی حیثیت کے خصوصی معاملات محل تقلید نہیں ہیں، مثلاً اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلانِ ہجرت کرنا، اُس کی طرف سے کفار ومشرکین پر جنگ مسلط کرنا، اُنھیں عذاب و عقاب کی وعید سنانا وغیرہ۔
خصوصی پروٹوکولز کا معاملہ خصوصی لوگوں کے ساتھ اُن کی منصبی ذمہ داریوں کے پیشِ نظر کیا جاتا ہے۔ ہر سماج میں سرکاری سطح پر سربراہان اور نازک ذمہ داریوں پر فائز عہدے داروں کے لیے خصوصی پروٹوکولز اختیار کیے جاتے ہیں۔ اِن کا مقصد اُن کی حفاظت کے علاوہ اُن کے منصب کا ضروری احترام اور تاثر قائم کرنا بھی ہوتا ہے۔ اِس لحاظ سے سماج کے یہ نمایاں لوگ عام لوگوں کی طرح نہیں ہوتے، کیونکہ اُن کی ایک ایک حرکت اُن کے وسیع دائرۂ اختیار میں لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔ اُن پر اُن کے حامی و مخالف، سب کی نظر ہوتی ہے، اِس وجہ سے اُنھیں غیر معمولی احتیاط سے کام لینا پڑتا ہے، اِسی لیے اُن کے لیے پروٹوکولز وضع کرنے پڑتے ہیں۔ عام لوگ اُنھیں اختیار نہیں کرتے اور نہ ایسا کرنے کی اُنھیں اجازت ہوتی ہے۔
پروٹوکولز کا یہی معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے گھرانے کے لیے بہت اہم ہو گیا تھا۔ آپ کے مخالفین اور منافقین کی ریشہ دوانیوں کے پیشِ نظر یہاں آپ کے سیاسی اقتدار اور نیک نامی کے خطرے میں پڑنے کا مسئلہ ہی نہ تھا، کوئی معمولی رخنہ اندازی اور بے احتیاطی آپ اور آپ کے گھرانے کی اخلاقی ساکھ کو اگر متاثر کر دیتی تو نبوی مشن کی بساط ہی لپیٹ دی جاتی۔ اِسی بنا پر ازواجِ مطہرات کے خصوصی پروٹوکولز مقرر کیے گئے۔ یہ عام خواتین سے متعلق نہیں ہیں۔