سطور بالا میں یہ بات پوری طرح واضح ہو گئی ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک ازواج ِمطہرات کے لیے پردے کا حکم ایک خصوصی حکم تھا۔ تاریخی روایات سے بھی اِسی کی تائید ہوتی ہے۔ جمہور اہلِ علم بھی اِسی موقف کے قائل رہے ہیں۔
اِس ضمن کی چند منتخب تصریحات یہاں نقل کی جا رہی ہیں۔
تیسری صدی کے ممتاز ادیب اور عالم ابو عثمان الجاحظ (وفات: 255ھ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے اِس خاص معاملے کی وضاحت یوں کرتے ہیں:
فلم يزل الرجال يتحدثون مع النساء في الجاهلية والإسلام، حتَّى ضرب الحجاب على أزواج النبيّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خاصَّة.
(رسائل الجاحظ 2/149)
’’مرد زمانۂ جاہلیت اور اسلام، دونوں میں خواتین کے ساتھ بات چیت کرتے رہے ہیں، یہاں تک کہ خاص طور پر صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج پر حجاب کو لازم کر دیا گیا۔“
مالکی فقیہ قاضی بکر بن العلاء (وفات:344ھ) فرماتے ہیں:
ولما أنزل اللّٰه في أمهات المؤمنين: ”وَاِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ“، فكن لا يجوز للناس كلامُهن إلا من وراء حجاب، خصصن بذالك دون سائرَ الناس من النساء، ولا يجوز أن يرَوْنَهن منتقبات ولا مُنتشِرات.
(احکام القرآن2/318)
’’جب اللہ تعالیٰ نے امہات المومنین کے متعلق یہ آیت نازل فرما دی کہ ’وَاِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْـَٔلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ‘ تو لوگوں کے لیے اُن کےساتھ کلام کرنا جائز نہ رہا، الاّ یہ کہ وہ پردے کے پیچھے رہ کر بات کریں۔ یہ پابندی باقی تمام خواتین کو چھوڑ کر خاص طور پر صرف ازواجِ مطہرات پر لازم کی گئی اور لوگوں کے لیے جائز نہ رہا کہ وہ اُنھیں دیکھیں، چاہے اُنھوں نے چہرے پر نقاب کی ہو یا اُن کے چہرے کھلے ہوں۔“
مفسر ابن جزی (وفات: 741ھ) اِس نقطۂ نظر کے استدلال کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وهذه الآية نزلت في احتجاب أزواج النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم ... قال بعضهم لما نزلت في أمهات المؤمنين”وَاِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْـَٔلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ“ كن لا يجوز للناس كلامهن إلا من وراء حجاب، ولا يجوز أن يراهن متنقبات ولا غير متنقبات، فخصصن بذلك دون سائر النساء.
(تفسیر ابن جزی2/157)
’’یہ آیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے حجاب کے سلسلے میں نازل ہوئی...بعض اہل علم نے کہا کہ جب امہات المومنین کے متعلق یہ ہدایت نازل ہو گئی کہ”تمھیں جب اُن سے کوئی چیز مانگنی ہو تو حجاب کے پیچھے سے مانگا کرو“ تو اِس کے بعد لوگوں کے لیے اُن کے ساتھ حجاب کے بغیر کلام کرنا جائز نہ رہا۔ اِسی طرح اُن کو نقاب کی حالت میں یا بغیر نقاب کے دیکھنا بھی جائز نہ رہا اور باقی تمام خواتین کو چھوڑ کر خاص طور پر ازواجِ مطہرات کے لیے یہ پابندی لازم کر دی گئی۔“
شاہ عبد القادر دہلوی (وفات: 1230ھ) فرماتے ہیں:
’’اِس آیت میں حکم ہوا پردے کا کہ مرد، حضرت کے ازواج کے سامنے نہ جاویں۔ سب مسلمانوں کی عورتوں پر یہ حکم واجب نہیں۔ اگر عورت سامنے ہو کسی مرد کے، سب بدن کپڑوں میں ڈھکا ہوتو گناہ نہیں اور اگر نہ سامنے ہو تو بہتر ہے۔‘‘
(موضح القرآن 552)
نواب صدیق حسن خان (وفات: 1307ھ) اِس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
في (وَاتَّقِيْنَ اللّٰهَ) كل الأمور التي من جملتها الحجاب، قال ابن عباس: نزلت هذه في نساء النبي خاصة يعني وجوب الاحتجاب عليهن لا على سائر نساء الأمة، فإن الحجاب في حقهن مستحب لا واجب ولا فرض.(حسن الاسوۃ 1/205)
’’(اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی کی بیویو)، تمام معاملات میں اللہ سے ڈرو، جن میں سے ایک معاملہ حجاب کا بھی ہے۔ ابنِ عباس نے کہا کہ یہ حکم خاص طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے متعلق نازل ہوا ہے۔ اُن کی مراد یہ ہے کہ آپ کی ازواج پر حجاب واجب تھا، جب کہ امت کی باقی خواتین کا حکم یہ نہیں، کیونکہ اُن کے حق میں حجاب صرف پسندیدہ ہے، نہ واجب ہے اور نہ فرض۔“
ازواج مطہرات کے اُن خصوصی پروٹوکولز ہی کا مقتضا تھا کہ اُن کو حج بھی عام لوگوں سے علیحدہ کرایا جاتا تھا۔
روایات میں بیان ہوا ہے:
كانت عائشة رضي اللّٰه عنها تطوف حجرة من الرجال لا تخالطهم، فقالت امرأة: انطلقي نستلم يا أم المؤمنين، قالت: انطلقي عنك، وأبت. كن يخرجن متنكرات بالليل فيطفن مع الرجال.
(بخاری،رقم 1618)
”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مردوں سے الگ رہ کر ایک الگ کونے میں طواف کرتی تھیں، اُن کے ساتھ مل کر نہیں کرتی تھیں۔ ایک (وقرہ نامی) عورت نے اُن سے کہا: ام المومنین، چلیے (حجر اسود کو) بوسہ دیں تو آپ نے انکار کر دیا اور کہا: تم جاؤ چوم لو، میں نہیں چومتی۔ ازواجِ مطہرات رات میں پردہ کر کے نکلتی تھیں تا کہ پہچانی نہ جائیں اور مردوں کے ساتھ طواف کرتی تھیں۔“
عن أم سلمة رضي اللّٰه عنها زوج النبي صلى اللّٰه عليه وسلم، قالت: شكوت إلى رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم أني أشتكي، فقال: ”طوفي من وراء الناس وأنت راكبة“، فطفت ورسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم حينئذ يصلي إلى جنب البيت وهو يقرأ: ”وَالطُّوْرِ، وَكِتٰبٍ مَّسْطُورٍ“.
(بخاری،رقم 1619)
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے بیمار ہونے کی شکایت کی (کہ میں پیدل طواف نہیں کر سکتی) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سواری پر چڑھ کر اور لوگوں سے علیحدہ رہ کر طواف کر لو۔ چنانچہ میں نے عام لوگوں سے الگ رہ کر طواف کیا۔ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ’وَالطَّوْرِ ، وَكِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ‘ قراءت کر رہے تھے۔“
اندلس کے مالکی عالم قاضی ابن الفرس (وفات :599ھ) لکھتے ہیں:
قال بعضهم: لما أنزل اللّٰه تعالى في أمهات المؤمنين:”وَاِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْـَٔلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ“، خصصن بذالك دون سائر الناس. ولا يجوز أن يرون منتقبات. وكن إذا طفن بالبيت يستترن من الناس فلا يشاركن في الطواف. وأمر عمر أن لا يخرج في جنازة زينب بنت جحش إلا ذو محرم مراعاة للحجاب.
(احکام القرآن3/439)
’’بعض اہل علم نے کہا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے امہات المومنین کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی کہ ’وَاِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْـَٔلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ‘تو یہ پابندی باقی تمام خواتین کو چھوڑ کر خاص طور پر صرف ازواج مطہرات پر لازم کی گئی اور لوگوں کے لیے جائز نہ رہا کہ وہ اُنھیں دیکھیں، چاہے اُن کے چہرے پر نقاب ہو۔ چنانچہ ازواج مطہرات جب بیت اللہ کا طواف کرتی تھیں تو لوگوں سے چھپ کر کرتی تھیں اور لوگوں کے ساتھ طواف میں شریک نہیں ہوتی تھیں۔ سیدنا عمر نے اِسی لیے حجاب کے حکم کی پابندی کرتے ہوئے یہ حکم دیا کہ سیدہ زینب بنت جحش کے جنازے میں صرف اُن کے محرم مرد نکلیں۔“
امام بیہقی نے ایک حدیث کی تشریح امام شافعی (وفات: 204ھ) سے یوں نقل کی ہے:
عظم اللّٰه به أزواج النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم أمهات المؤمنین رحمهن اللّٰه وخصهن به وفرق بینهن وبین النساء إن اتقین ثم تلا الآیات في اختصاصهن بأن جعل علیهن الحجاب من المومنین وهن أمهات المؤمنین ولم یجعل علی امرأة سواهن أن تحتجب ممن یحرم علیه نکاحها.
(السنن الکبریٰ 21/474)
’’اللہ تعالیٰ نے اِس حکم کے ذریعے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج اور امہات المومنین کو تعظیم دی اور اُن میں اور عام خواتین میں فرق کرتے ہوئے خاص طور پر امہات المومنین کے لیے حجاب کا حکم دیا ہے۔ امام شافعی نے امہات المومنین کے خصوصی احکام سے متعلق آیات نقل کی ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ اللہ نے ازواج پر اہلِ ایمان سے حجاب میں رہنے کو لازم کیا ہے، حالاں کہ اُن کا درجہ امہات المومنین کا ہے۔ اُن کے علاوہ کسی اور عورت پر اللہ نے لازم نہیں کیا کہ وہ غیرمحرم مردوں سے حجاب میں رہے۔“
امام ابوجعفر الطحاوی (وفات: 321ھ) ایک حدیث کا محل واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
قد يجوز أن يكون أراد بذلك حجاب أمهات المؤمنين فإنهن قد كن حجبن عن الناس جميعًا إلا من كان منهم ذورحم محرم. فكان لا يجوز لأحد أن يراهن أصلًا إلا من كان بينهن وبينه رحم محرم،وغيرهن من النساء لسن كذالك لأنه لا بأس أن ينظر الرجل من المرأة التي لا رحم بينه وبينها وليست عليه بمحرمۃ إلى وجهها وكفيها.
(شرح معانی الآثار4/332)
’’ممکن ہے کہ اِس سے حجاب کا وہ حکم مراد ہو جو امہات المومنین کے لیے تھا، کیونکہ اُن کو محرم رشتہ داروں کے علاوہ تمام لوگوں سے حجاب میں رہنے کا پابند کیا گیا تھا۔ چنانچہ کسی کے لیے جائز نہیں تھا کہ وہ کسی بھی حالت میں اُن کو دیکھ سکے، سواے اُن کے جو اُن کے محرم رشتہ دار ہوں، جب کہ اُن کے علاوہ عام خواتین کا معاملہ یہ نہیں ہے، اور اِس میں کوئی حرج نہیں کہ آدمی کسی غیر محرم عورت کے چہرے اور ہاتھوں کو دیکھ لے۔“
قال أبو جعفر: فكن أمهات المؤمنين قد خصصن بالحجاب ما لم يجعل فيه سائر الناس مثلهن.
(شرح معانی الآثار 4/334)
’’ابو جعفر کہتے ہیں کہ امہات المومنین پر خاص طور پر حجاب کی پابندی لازم کی گئی، جس میں باقی تمام عورتیں اُن کے مانند نہیں ہیں۔“
صحیح بخاری کے شارح، علامہ ابن بطال (وفات: 449ھ) لکھتے ہیں:
وفيه: أن نساء المؤمنين ليس لزوم الحجاب لهم فرضًا في كل حال كلزومه لأزواج النبي، ولو لزم جميع النساء فرضًا لأمر النبي الخثعمية بالاستتار، ولما صرف وجه الفضل عن وجهها، بل كان يأمره بصرف بصره، ويعلمه أن ذالك فرضه، فصرف وجهه وقت خوف الفتنة وتركه قبل ذالك الوقت. وهذا الحديث يدل أن ستر المؤمنات وجوههن عن غير ذوى محارمهن سنة، لإجماعهم أن المرأة أن تبدي وجهها في الصلاة، ويراه منها الغرباء، وأن قوله:”قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ“على الفرض في غير الوجه، وأن غض البصر عن جميع المحرمات وكل ما يخشى منه الفتنة واجب.
(شرح صحیح البخاری 9/11)
’’اِس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ عام مسلمان خواتین پر حجاب ہر حالت میں فرض نہیں ہے، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج پر تھا۔ اگر سب خواتین پر حجاب فرض ہوتا تو آپ بنو خثعم کی خاتون کو اپنا چہرہ چھپانے کی ہدایت فرماتے اور صرف فضل بن عباس کے چہرے کو اُس خاتون کے چہرے کی طرف سے نہ پھیرتے۔ آپ نے خاتون کو چہرہ چھپانے کے بجاے فضل سے کہا کہ وہ اپنی نگاہ دوسری طرف کر لیں اور اُن کو بتایا کہ یہ اُن کی ذمہ داری ہے (نہ کہ خاتون کی ذمہ داری)۔ چنانچہ آپ نے فضل کا چہرہ اُسی وقت پھیرا جب فتنے کا خوف محسوس کیا، جب کہ اِس سے پہلے ایسا نہیں کیا۔ یہ حدیث اِس پر بھی دلالت کرتی ہےکہ مومن عورتوں کے لیے غیر محرموں سے اپنے چہرے کو چھپانا (فرض نہیں، بلکہ) سنت ہے، کیونکہ فقہا کا اِس پر اجماع ہے کہ عورت نماز میں اپنے چہرے کو ننگا رکھے گی اور غیر محرم بھی اُس کو اِس حالت میں دیکھ سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ کے اِس ارشاد ’قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ‘ سے مراد یہ ہے کہ چہرے کے علاوہ باقی جسم سے نگاہوں کو نیچا رکھنا فرض ہے اور یہ کہ تمام حرام چیزوں اور ہر ایسی چیز سے نگاہ کو نیچا رکھنا واجب ہے جس میں فتنے کا خوف ہو۔“
ایک اور حدیث کے ذیل میں ابن بطال لکھتے ہیں:
وفيه: أن الحجاب ليس بفرض على نساء المؤمنين، وإنما هو خاص لأزواج النبي، كذالك ذكره اللّٰه في كتابه بقوله:”وَاِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْـَٔلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ“.
(شرح صحیح البخاری 6/35)
’’اِس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عام مسلمان خواتین پر حجاب فرض نہیں ہے، بلکہ یہ پابندی صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اِس آیت میں یہی بات بیان فرمائی ہے کہ ’وَاِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْـَٔلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ‘۔“
ابن بطال امام طبری سے نقل کرتے ہیں :
قال الطبري: في حديث عائشة فرض الحجاب على أزواج النبي لقول عمر للنبي: أحجب نساءك وقال في حديث آخر: يا رسول اللّٰه، لو حجبت أمهات المؤمنين فإنه يدخل عليهن البر والفاجر. فنزلت آيه الحجاب. قال غيره: ويدل على صحة ذالك قول الفقهاء أن إحرام المرأة في وجهها وكفيها، وإجماعهم أن لها أن تبرز وجهها للإشهاد عليها، ولايجوز ذالك في أمهات المؤمنين. وقد اختلف السلف في تأويل قوله تعالىٰ: ”وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا“ ... والظاهر، واللّٰه أعلم، يدل على أنه الوجه والكفان، لأن المرأة يجب عليها أن تستر في الصلاة كل موضع منها إلا وجهها وكفيها، وفي ذالك دليل أن الوجه والكفين يجوز للغرباء أن يروه من المرأة.
(شرح صحیح البخاری9/20)
’’طبری کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج پر حجاب فرض کیا گیا تھا، کیونکہ سیدنا عمر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اپنی بیویوں کو حجاب میں رکھیے۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ اُنھوں نے کہا کہ یا رسول اللہ، اگر آپ امہات المومنین کو حجاب میں رکھیں تو بہتر ہوگا، کیونکہ آپ کے پاس نیک اور بد ہر طرح کے لوگ آتے ہیں۔ اِس پر حجاب کی آیت نازل ہوئی۔ اِس کی وضاحت فقہا کے اِس قول سے ہوتی ہے کہ عورت کا احرام اُس کے چہرے اور ہاتھوں میں ہے، (یعنی اُن کو ننگا رکھنا حالت احرام میں اُس پر لازم ہے)۔ اِسی طرح فقہا کا اجماع ہے کہ عام خواتین کے لیے گواہی سے متعلق معاملات میں اپنے چہرے کو ننگا کرنا جائز ہے، جب کہ امہات المومنین کے معاملے میں یہ جائز نہیں تھا۔ علماے سلف کا اِس آیت کی تفسیر میں اختلاف ہے کہ ’وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا‘۔ ...آیت اپنے ظاہر کے لحاظ سے دلالت کرتی ہے کہ ظاہری زینت سے مراد چہرہ اور ہاتھ ہیں، کیونکہ عورت کے لیے نماز میں اپنے پورے جسم کو چھپانا فرض ہے، سواے چہرے اور ہاتھوں کے، واللہ اعلم۔ یہ اِس بات کی دلیل ہے کہ عورت کے چہرے اور ہاتھوں کو غیر محرم دیکھ سکتے ہیں۔“
جلیل القدر مالکی عالم قاضی عیاض (وفات :544ھ) نے بھی اِس نکتے کی وضاحت متعدد مقامات پر کی ہے۔ چنانچہ ایک حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
وفيه دليل على إحرام المرأة في وجهها، قيل: وفيه أن الحجاب مرفوع عن النساء، ثابت على أزواج النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم على نص التلاوة؛ إذ لم يأمرها النبي بستر وجهها، وقد يقال: إن هذا كان قبل نزول الآية بإدناء الجلابيب والستر. قال أبو عبد اللّٰه: والاستتار للنساء سنة حسنة والحجاب على أزواج النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم فريضة.
(اکمال المعلم 4/ 440)
’’اِس میں دلیل ہے کہ احرام کی حالت میں عورت کا چہرہ ننگا ہونا چاہیے، کیونکہ آپ نے اُس خاتون کو اپنا چہرہ چھپانے کے لیے نہیں کہا۔ کہا گیا ہے کہ اِس میں اِس بات کی دلیل ہے کہ عام خواتین پر تو حجاب کی پابندی لازم نہیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں پر لازم تھی، جیساکہ قرآن کی آیت میں تصریح ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ معاملہ اِس آیت کے نزول سے پہلے کا تھا، جس میں بڑی چادر جسم پر ڈالنے اور جسم کو چھپانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ابو عبد اللہ کہتے ہیں کہ عام خواتین کے لیے اپنے جسم کو ڈھانپنا ایک بہت پسندیدہ طریقہ ہے، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج پر حجاب فرض تھا۔“
قاضی عیاض ایک اور حدیث کے تحت بھی قاضی ابو عبد اللہ بن المرابط کا یہی قول نقل کرتے ہیں:
الاستتار للنساء سنة حسنة، والحجاب على أزواج النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم فريضة.
(اکمال المعلم 4/283 )
’’عام خواتین کے لیے اپنے جسم کو ڈھانپنا ایک بہت پسندیدہ طریقہ ہے، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج پر حجاب فرض تھا۔“
ایک اور مقام پر قاضی عیاض نے لکھا ہے:
فرض الحجاب مما اختص به أزواج النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم، ولا خلاف في فرضه عليهن في الوجه والكفين الذي اختلف في ندب غيرهن إلى ستره. قالوا: ولا يجوز لهن كشف ذالك لشهادة ولا غيرها، ولا ظهور أشخاصهن وإن كن مستترات إلا ما دعت إليه الضرورة من الخروج للبراز كما جاء في الحديث، وقد كن إذا خرجن جلسن للناس من وراء حجاب، وإذا خرجن لضرورة حجبن وسترن أشخاصهن. كما جاء في حديث حفصة يوم موت عمر، ولما ماتت زينب صنع على نعشها قبة تستر جسمها، وقد قال تعالىٰ:”وَاِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْـَٔلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ“۔.
(اکمال المعلم 7/57)
’’حجاب کی فرضیت کا حکم خاص طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے لیے دیا گیا تھا۔ اِس میں کوئی اختلاف نہیں کہ ازواج مطہرات پر چہرے اور ہاتھوں کو چھپا کر رکھنا فرض تھا، جب کہ اُن کے علاوہ عام خواتین کے لیے اِس کے مستحب ہونے میں اہلِ علم کا اختلاف ہے۔ علما کہتے ہیں کہ ازواجِ مطہرات کے لیے گواہی کے لیے یا کسی بھی دوسرے معاملے کے لیے اپنے چہرے کو ننگا کرنا جائز نہیں تھا۔ اِسی طرح اُن کے لیے گھروں سے باہر نکلنا بھی درست نہیں تھا، چاہے اُنھوں نے اپنے جسم ڈھانپ رکھے ہوں، الاّ یہ کہ رفعِ حاجت جیسی ناگزیر ضرورت کے لیے نکلنا پڑے، جیساکہ حدیث میں ہے۔ چنانچہ جب وہ باہر نکلتیں تو لوگوں کے ساتھ بات چیت کے لیے پردے کی اوٹ میں بیٹھتی تھیں اور جب کسی ضرورت کے تحت نکلتیں تو بھی حجاب کا اور اپنے جسم کو چھپا کر رکھنے کا اہتمام کرتی تھیں، جیسا کہ سیدنا عمر کی وفات کے موقع پر سیدہ حفصہ کے واقعے میں آیا ہے۔ اور جب سیدہ زینب کی وفات ہوئی تو اُن کے جسم کے اوپر ایک چھتری تان دی گئی، جس سے اُن کا جسم چھپ جائے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ’وَاِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْـَٔلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ‘۔“
قاضی ابو العباس القرطبی (وفات: 656ھ) ایک حدیث کے تحت لکھتے ہیں:
وفيه دليل على أن المرأة تكشف وجهها في الإحرام، وأنها لا يجب عليها ستره وإن خيف منها الفتنة، لكنها تندب إلى ذالك، بخلاف أزواج النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم، فإن الحجاب عليهن كان فريضة.
(المفہم 3/441)
’’اِس میں اِس بات کی دلیل ہے کہ عورت حالت احرام میں اپنے چہرے کو ننگا رکھے گی اور اُس پر اِس کو چھپانا واجب نہیں، چاہے اِس سے فتنے کا خوف ہو، البتہ اِس کے لیے (خوف فتنہ کے وقت) ایسا کرنا مستحب ہے، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کا حکم اِس سے مختلف ہے، کیونکہ اُن پر (ہر حالت میں) حجاب فرض تھا۔“
قاضی ابو العباس نزولِ حجاب سے متعلق سیدہ عائشہ کی روایت کے تحت لکھتے ہیں:
وهذا الحجاب الذي أمر به أزواج النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم وخُصِّصن به هو في الوجه والكفين. قال القاضي عياض: لا خلاف في فرضه عليهن في الوجه والكفين الذي اختلف في ندب غيرهن إلى ستره، قالوا: ولا يجوز لهن كشف ذالك لشهادة ولا غيرها، ولا ظهور أشخاصهن، وإن كن مستترات إلا ما دعت إليه الضرورة من الخروج إلى البراز، وقد كن إذا خرجن جلسن للناس من وراء حجاب، وإذا خرجن لحاجة حجبن وسترن.
(المفہم 5/497 )
’’یہ حجاب جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کو حکم دیا گیا اور خاص طور پر اُنھی کو اِس کا پابند کیا گیا، اِس کا تعلق چہرے اور ہاتھوں سے تھا۔ قاضی عیاض کہتے ہیں کہ اِس میں کوئی اختلاف نہیں کہ ازواجِ مطہرات پر چہرے اور ہاتھوں کو چھپا کر رکھنا فرض تھا، جب کہ اُن کے علاوہ عام خواتین کے لیے اِس کے مستحب ہونے میں اہلِ علم کا اختلاف ہے۔ علما کہتے ہیں کہ ازواجِ مطہرات کے لیے گواہی کے لیے یا کسی بھی دوسرے معاملے کے لیے اپنے چہرے کو ننگا کرنا جائز نہیں تھا۔ اِسی طرح اُن کے لیے گھروں سے باہر نکلنا بھی درست نہیں تھا، چاہے اُنھوں نے اپنے جسم ڈھانپ رکھے ہوں، الاّ یہ کہ رفعِ حاجت جیسی ناگزیر ضرورت کے لیے نکلنا پڑے۔ چنانچہ جب وہ باہر نکلتیں تو لوگوں کے ساتھ بات چیت کے لیے پردے کی اوٹ میں بیٹھتی تھیں اور جب کسی ضرورت کے تحت نکلتیں تو بھی اُن کے لیے حجاب اور ستر کا اہتمام کیا جاتا تھا۔“
صحیح بخاری کے شارح علامہ ابن الملقن (وفات :804ھ) لکھتے ہیں:
وفيه: فرض الحجاب على أمهات المؤمنين؛ لقول عمر: احجب نساءك. وقال في حديث آخر: يا رسول اللّٰه، لو حجبت أمهات المؤمنين فإنه يدخل عليهن البر والفاجر. فنزلت آية الحجاب، يوضحه قول الفقهاء: إن إحرام المرأة في وجهها وكفيها، وإجماعهم أن لها أن تبرز وجهها للإشهاد عليها، ولا يجوز ذالك في أمهات المؤمنين.
(التوضیح 29/49)
’’اِس حدیث سےامہات المومنین پر حجاب کی فرضیت معلوم ہوتی ہے، کیونکہ سیدنا عمر نے کہا کہ یا رسول اللہ، اپنی بیویوں کو حجاب میں رکھیے۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ انھوں نے کہا کہ یارسول اللہ، اگر آپ امہات المومنین کو حجاب میں رکھیں تو بہتر ہوگا، کیونکہ آپ کے پاس نیک اور بد ہر طرح کے لوگ آتے ہیں۔ اِس پر حجاب کی آیت نازل ہوئی۔ اِس کی وضاحت فقہا کے اِس قول سے ہوتی ہے کہ عورت کا احرام اُس کے چہرے اور ہاتھوں میں ہے، (یعنی اُن کو ننگا رکھنا حالت احرام میں اُس پر لازم ہے)۔ اِسی طرح فقہا کا اجماع ہے کہ عام خواتین کے لیے گواہی سے متعلق معاملات میں اپنے چہرے کو ظاہر کرنا جائز ہے، جب کہ امہات المومنین کے معاملے میں یہ جائز نہیں تھا۔“
ابن الملقن ایک اور حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
أن الحجاب إنما فرض على أزواج النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم خاصة، كما نص عليه في كتابه بقوله:”يَا نِسَآءَ النَّبِي.“ (التوضیح25/112)
’’حجاب تو صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج پر فرض کیا گیا تھا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ’يَا نِسَآءَ النَّبِيِ‘ کہہ کر تصریح کی ہے۔“
امام بدر الدین العینی (وفات: 855ھ) ایک حدیث کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
والأحاديث المذكورة في هذا الباب كلها دالة على الحجاب، وحديث عائشة هذا المذكور وإن لم يذكر فيه الحجاب صريحًا لأن ظاهره عدمه ولكن في أصله مذكور في موضع آخر، وعن هذا قال عياض: فرض الحجاب مما اختص به أزواجه صلی اللّٰه عليه وسلم فهو فرض عليهن بلا خلاف في الوجه والكفين.
(عمدۃ القاری 19/124)
’’اِس باب میں مذکورہ تمام احادیث حجاب پر دلالت کرتی ہیں۔ سیدہ عائشہ کی مذکورہ حدیث میں اگرچہ حجاب کا ذکر صراحتاً نہیں ہوا، کیونکہ بہ ظاہر اِس سے حجاب کا لازم نہ ہونا، (یعنی ضرورت کے تحت ازواج کا گھروں سے نکلنا) معلوم ہوتا ہے، لیکن اصل میں دوسرے مقام پر اِس روایت میں حجاب کا ذکر موجود ہے۔ اِسی وجہ سے قاضی عیاض نے کہا ہے کہ حجاب کی فرضیت کا تعلق خاص طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج سے تھا اور کسی اختلاف کے بغیر اُن پر اپنے چہرے اور ہاتھوں کو پردے میں رکھنا فرض تھا۔“
علامہ عینی دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:
إنهن قد کن حجبن عن الناس جميعًا إلا مَن كان منهم ذو رحم محرم، فکان لایجوز لأحد أن یراھن أصلًا إلامن کان بینہ و بینھن رحم محرم، و غیرھن من النساء لسن کذالک، لأنہ لابأس أن ینظر الرجل من المرأۃ التی لا رحم بینہ و بینھا و لیست علیہ بمحرمۃ إلی وجھھا و کفیھا و قد قال اللّٰہ:”وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا“.
(نخب الافکار 14/211)
’’ازواج مطہرات کو محرم رشتہ داروں کے علاوہ تمام لوگوں سے پردے میں رہنے کا پابند کر دیا گیا۔محرم رشتہ دار کے علاوہ کسی کے لیے اُن کو اصل میں دیکھنا جائزنہیں تھا۔ اور ازواج کا معاملہ عام عورتوں جیسا نہیں ہے،کیونکہ عام خواتین کے معاملے میں مرد کے لیے غیر محرم کے چہرے اور ہاتھوں کو دیکھنا جائز ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ”خواتین اپنی زینت کی چیزوں کو نہ کھولیں ، سواے اُن کے جو اُن میں سے کھلی ہوتی ہیں “۔“
علامہ قسطلانی (وفات :923ھ) ’’المواہب اللدنیہ‘‘ میں لکھتے ہیں:
ومنها أنه يحرم رؤية أشخاص أزواجه في الأزر وكذا يحرم كشف وجوههن وأكفهن لشهادة أو غيرها، كما صرحه به القاضي عياض، وعبارته: فرض الحجاب مما اختصصن به، فهو فرض عليهن بلا خلاف في الوجه والكفين، ... وأما حكم نظر غير أزواجه ففي الروضة وأصلها عن الأكثرين: جواز النظر إلى وجه حرة كبيرة أجنبية وكفيها إذا لم يخف فتنة، مع الكراهة.
(2/ 362)
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ آپ کی ازواج کو معمول کے لباس میں دیکھنا، (جب کہ اُن کا پورا جسم ڈھانپا نہ گیا ہو) حرام تھا۔ اِسی طرح اُن کے لیے گواہی یا کسی دوسرے مقصد کے لیے بھی اپنے چہرے کو ننگا کرنا حرام تھا، جیسا کہ قاضی عیاض نے تصریح کی ہے۔ اُن کی عبارت یہ ہے کہ حجاب کی فرضیت ازواجِ مطہرات کےلیے خصوصی حکم تھا، چنانچہ کسی اختلاف کے بغیر اُن پر اپنے چہرے اور ہاتھوں کو چھپا کر رکھنا فرض تھا۔ ...جہاں تک ازواجِ مطہرات کے علاوہ عام خواتین کی طرف دیکھنے کا معاملہ ہے تو ’’روضہ‘‘ اور اُس کے اصل متن میں اکثر علما کا قول یہ نقل کیا گیا ہے کہ آزاد اور بالغ غیر محرم عورت کے چہرے اور ہاتھوں کو دیکھنا جائز ہے، اگرچہ ناپسندیدہ ہے، جب کہ فتنے کا خوف نہ ہو۔“
امام سیوطی نے ’’الخصائص الکبریٰ‘‘ میں’باب اختصاصہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بتحریم رؤیۃ أشخاص أزواجہ فی الازر وسوالہن مشافہۃ‘ کے عنوان سے یہی موقف فقہاے شوافع میں سے رافعی، بغوی اور امام نووی سے بھی نقل کیا ہے۔
ازواجِ مطہرات سے جو مطالبات کیے گئے، وہ غیر معمولی تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کی عورتیں ہونے کی وجہ سے وہ ایک نہایت نازک منصب پر فائز تھیں۔ اُن کی معمولی کوتاہی اور بے احتیاطی منافقین کی پراپیگنڈا مشینری کے لیے کافی تھی کہ رسول اللہ کے گھرانے کی اخلاقی ساکھ کو نقصان پہنچاتے اور یوں مسلمانوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے برگشتہ کر کے اسلام کی بساط لپیٹ دینے کی کوشش کرتے۔ یہ وہ حالات تھے، جن میں اُنھیں اُن کے گھروں تک محدود کر دیا گیا، اُنھیں اجنبی لوگوں سے دوٹوک انداز میں بات کرنے کی تلقین کی گئی، اُنھیں امت کی مائیں قرار دے دیا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی کوئی اُن سے نکاح نہیں کر سکتا تھا، اُنھیں پوری امت کو اپنی اولاد کی طرح سمجھنا تھا اورامت کے مردوں کو بھی اُنھیں اپنی مائیں تسلیم کرنا تھا۔ یہ چونکہ حقیقی ماں بیٹوں کے فطری احساسات سے زائد ایک مطالبہ تھا،اِس لیے یہ غیر معمولی طہارت قلبی اور اِس کے لیے ضروری اقدامات کا متقاضی تھا۔ چنانچہ قریبی رشتہ داروں کے سوا اُنھیں لوگوں کی نظروں سے اب اوجھل رہنا تھا۔ اُن کے اِس ایثار اور خصوصی پابندیاں اختیار کرنے کےصلے میں اُن کے لیےدہرا اجر مقرر کیا گیا تھا اور اِس منصب پر رہتے ہوئے اگر خدانخواستہ اُن سے کسی فاحشہ کا ارتکاب ہو جاتا تو اُس کی دہری سزا بتائی گئی تھی۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پابند کر دیا گیا تھا کہ وہ اُن کو طلاق دے کر علیحدہ نہیں کر سکتے۔ یہ سب واضح کرتا ہے کہ ازواجِ مطہرات کو دیے گئے احکام کا عام خواتین سے کوئی تعلق نہیں۔
_________