حدیث وسیرت کے ذخیرے سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ ایسے واقعات بیان کرتے ہوئے جن میں ازواج مطہرات کے کسی غیر محرم کے ساتھ گفتگو کرنے یا کسی مخلوط ماحول میں موجود ہونے کا ذکر ہو، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم عموماً یہ واضح کرنے کا اہتمام کرتے تھے کہ یہ واقعہ اُن پر حجاب کی پابندی عائد کیے جانے سے پہلے کا ہے، تاہم عام خواتین کے حوالے سے اِس بات کی وضاحت کی مثالیں نہیں ملتیں۔
اِس نوعیت کی چند مثالیں حسبِ ذیل ہیں:
1۔ ہجرتِ مدینہ کے بعد بہت سے مہاجرین مدینہ کی آب وہوا کی وجہ سے شدید بخار میں مبتلا ہو گئے تھے۔ سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر اور اُن کے غلام عامر بن فہیرہ اور حضرت بلال ایک ہی مکان میں ٹھیرے ہوئے تھے۔ کہتی ہیں:
فأصابتهم الْحمى، فدخلت عليْهمْ أعودهمْ. وذالك قبْل أن يضرب علينا الحجاب.
(السیرۃ النبویۃ2/169)
’’وہ سب بخار میں مبتلا ہو گئے تو میں اُن کی عیادت کے لیے اُن کے پاس گئی۔ یہ ہم پر حجاب لازم کیے جانے سے پہلے کی بات ہے۔“
2۔ عبد الرحمٰن بن اسعد بن زرارہ جنگ بدر کے قیدیوں کے مدینہ لائے جانے کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں:
قدم بالأسارى حين قدم بهم وسودة بنت زمعة عند آل عفراء في مناحتهم على عوْف ومُعوذ ابني عفراء، قال: وذالك قبل أن يضرب عليهن الحجاب.
(ابو داؤد ، رقم 2680)
’’قیدیوں کو مدینہ لایا گیا تو سیدہ سودہ بنت زمعہ اُس وقت آلِ عفراء کے ہاں تھیں جو عوف اور معوذ پر نوحہ کر رہے تھے۔ عبد الرحمٰن کہتے ہیں کہ یہ حجاب کے لازم کیے جانے سے پہلے کا واقعہ ہے۔“
3۔ غزوۂ احد کے واقعات بیان کرتے ہوئے واقدی نے نقل کیا ہے:
وکانت عائشة زوج النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم خرجت في نسوة تستروح الخبر ولم یضرب الحجاب یومئذ. (المغازی 1/562)
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سیدہ عائشہ کچھ خواتین کے ساتھ اطلاعات حاصل کرنے کے لیے نکلیں اور اُس وقت تک حجاب لازم نہیں کیا گیا تھا۔“
4۔ غزوۂ خندق کے حالات بیان کرتے ہوئے سیدہ عائشہ اپنے بارے میں فرماتی ہیں :
أنها كانت في حصن بنى حارثة يوم الخندق فكانت أم سعد بن معاذ معها في الحصن وذالك قبل أن يضرب عليهن الحجاب.
(السنن الکبریٰ ، رقم 13529)
’’وہ اُس موقع پر بنو حارثہ کے قلعے میں تھیں اور سعد بن معاذ کی والدہ بھی اُن کے ساتھ قلعے میں تھیں اور یہ اُن پر حجاب کے لازم کیے جانے سے پہلے کی بات ہے۔ “
5۔ بنو قریظہ کے محاصرے کے دوران میں ابولبابہ بن عبد المنذر نے بے احتیاطی سے بنوقریظہ کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادے کی اطلاع اُن کو دے دی تھی۔ اِس پر اُنھوں نے خود کو مسجدِ نبوی میں ایک ستون کے ساتھ باندھ لیا اور کہا کہ جب تک اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول نہیں کرتے، میں یہیں بندھا رہوں گا۔ پھر جب اُن کی توبہ قبول کیے جانے کی وحی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تو سیدہ ام سلمہ نے آپ سے اجازت چاہی کہ جا کر خود ابولبابہ کو خوش خبری دیں۔ وہ بیان کرتی ہیں:
فقمت على باب حجرتي فقلت، وذالك قبل أن یضرب علينا الحجاب: يا أبا لبابة، أبشر فقد تاب اللّٰه عليك.
(السنن الکبریٰ7/149)
’’میں اپنے حجرے کے دروازے پر کھڑی ہوئی اور میں نے پکارا کہ اے ابولبابہ، اللہ تعالیٰ نے تمھاری توبہ قبول کر لی ہے۔ اور یہ ہم پر حجاب لازم کیے جانے سے پہلے کا واقعہ ہے۔“
6۔ واقعۂ افک سے متعلق روایت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا صفوان بن معطل السلمی کے متعلق بیان کرتی ہیں:
فأتاني فعرفني حين رآني. وقد كان يراني قبل أن یضرب الحجاب علي. فاستيقظت باسترجاعه حين عرفني. فخمرت وجهي بجلبابي.
(مسلم، رقم 7196)
’’وہ آئے اور مجھے دیکھ کر پہچان لیا اور وہ مجھ پر حجاب لازم کیے جانے سے پہلے مجھے دیکھ لیا کرتا تھا۔ جب اُنھوں نے مجھے پہچان لیا تو اُن کے ’إنا للّٰه وإنا إلیه راجعون‘ پڑھنے پر میں جاگ گئی اور میں نے اپنے چہرے کو اپنی چادر سے ڈھانپ لیا۔“
7۔ عیینہ بن حصن کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہونے کا واقعہ عروہ بن زبیر یوں نقل کرتے ہیں:
دخل عيينة بن حصن على رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم وعنده عائشة وذالك قبل أن يضرب الحجاب.
(انساب الاشراف1/414)
’’عیینہ بن حصن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ اُس وقت وہاں سیدہ عائشہ بھی موجود تھیں اور یہ حجاب کے لازم کیے جانے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ “
8۔ عبد اللہ بن حسن روایت کرتے ہیں کہ ضحاک بن سفیان کلابی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیعت اسلام کے لیے آئے:
ثم قال له: إنّي عندي امرأتان أحسن من هذه الحميراء أفلا أنزل لك عن إحداهما وعائشة جالسة تسمع، قبل أن يضرب الحجاب، فقالت: أهي أحسن، أم أنت؟
(الفکاہۃ والمزاح 70)
’’پھر ضحاک نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میرے نکاح میں دو بیویاں ہیں جو اِس گوری سے (سیدہ عائشہ کی طرف اشارہ کیا) زیادہ خوب صورت ہیں۔ میں اُن میں سے ایک کو چھوڑ دیتا ہوں، آپ اُس سے نکاح کر لیں۔ سیدہ عائشہ بھی پاس بیٹھی ہوئی تھیں اور بات چیت سن رہی تھیں۔ یہ حجاب لازم ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ سیدہ نے کہا: یہ بتاؤ کہ وہ زیادہ خوب صورت ہے یا تم؟“
ضحاک خود بہت بدصورت تھے اور سیدہ نے اِسی پر طنز کیا تھا۔ سیدہ کا یہ سوال سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔
9۔ ابن شہاب زہری بیان کرتے ہیں:
قدم أصيل الغفاري على رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم من مكة قبل أن يضرب الحجاب على أزواج رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم، فقالت له عائشة: كيف تركت مكة؟
(الاصابہ 1/244)
’’اصیل غفاری مکہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے۔ اُس وقت تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج پر حجاب لازم نہیں کیا گیا تھا۔ سیدہ عائشہ نے اُن سے پوچھا کہ آپ مکہ کو کس حالت میں چھوڑ کر آئے ہیں؟“
10۔ قیس بن طغفہ غفاری اپنے والد سے ایک واقعہ نقل کرتے ہیں، جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اُن کو اپنے گھر لے گئے۔ کہتے ہیں:
فدخلنا على عائشة، وذالك قبل أن يضرب الحجاب، قال: ’’أطعمينا يا عائشة“.
(السنن الکبریٰ، رقم 6585)
’’ہم سیدہ عائشہ کے حجرے میں داخل ہوئے اور یہ حجاب کے لازم ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ، ہمیں کچھ کھلاؤ۔“
مذکورہ تمام مثالوں میں راوی کی طرف سے اِس وضاحت کا اہتمام کہ یہ واقعہ حجاب کے حکم سے پہلے کا ہے، اِسی پہلو سے تھا کہ سننے والے چونکہ امہات المومنین کے لیے حجاب کی پابندی سے واقف تھے، اِس لیے اجنبی مردوں کے ساتھ اُن کے محوِ کلام ہونے یا گھر سے باہر کسی دوسرے مقام پر موجود ہونے سے ممکنہ طور پر جو غلط فہمی یا ذہن میں جو سوال پیدا ہو سکتا ہے، اُس کا جواب دے دیا جائے۔ ہمارے استقرا کی حد تک اِس اہتمام کی کوئی مثال ذخیرۂ حدیث میں کسی عام خاتون کے حوالے سے نہیں ملتی اور اِس فرق سے بھی یہ واضح ہوتا ہے کہ حجاب کا امہات المومنین کے لیے ایک امتیازی اور خصوصی حکم ہونا عہدِ صحابہ میں ایک معلوم ومعروف بات تھی۔