جمہور متقدمین کے ہاں عورتوں کے پردے کے مستقل احکام کا تصور موجود نہیں ہے۔ ازواجِ مطہرات کے حجاب کے خصوصی احکام کی تعمیم کا رجحان بھی اُن کے ہاں نہیں ملتا۔ یہ موقف پہلی بارمتاخرین اہل علم میں سے امام ابو بکر جصاص، امام ابن العربی اور امام قرطبی کے ہاں سامنے آتا ہے۔ دور جدید میں یہ موقف مقبول ہوتا چلا گیا۔ مولانا مودودی نے اِسے ایک منظم استدلال کی صورت میں پیش کیا۔ دیگر اہل علم نے بھی اِس میں اپنے استدلالات کا اضافہ کیا۔
عورتوں کے حجاب کے حدود سے متعلق اختلاف کی بنیاد عہد صحابہ ہی میں موجود تھی۔ یہ بنیاد حضرت عبد اللہ بن عباس اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کا اختلاف آرا ہے، جو سورۂ نور (24) کی آیت 31 میں’اِلاَّ مَا ظَھَرَمِنْھَا‘ کے مصداق کی تعیین میں پیدا ہوا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اِن الفاظ سے عورت کے چہرے اور ہاتھوں پر کی گئی زینت و آرایش مراد لیتے ہیں، جب کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اِن کا مصداق عورت کے لباس اور چادر کو قرار دیتے ہیں ۔ پہلی راے کی رو سے غیر محرم مردوں کے سامنے عورت کے چہرے اورہاتھوں کو اُن کی زینت سمیت کھلا رکھنے کی اجازت متبادر ہوتی ہے، جب کہ دوسری راے کے مطابق عورت کو صرف اُس زینت کے اظہار کی اجازت ہے کہ جو اضطراری طور پر آشکار رہتی ہے، یعنی لباس یا لباس پر اوڑھی گئی چادر۔ جمہور اہل علم نے حضرت عبد اللہ بن عباس کی راے کو اختیار کیا، جب کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی راے ماضی میں امام احمد بن حنبل، آٹھویں صدی ہجری میں امام ابن تیمیہ، تیرھویں صدی میں قاضی ثناء اللہ مظہری اور دور حاضر میں مولانا مودودی اور محمد علی صابونیجیسے چند قابل ذکر علما نے اختیار کی۔
نا محرم مردوں سے عورتوں کے مکمل حجاب کے لیے اصل بناے استدلال سورۂ احزاب کی آیت جلباب ہے۔ اِس آیت میں ازواجِ نبی، آپ کی بیٹیوں اور عام مسلمان عورتوں کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے ہدایت کی گئی تھی کہ گھروں سے باہر نکلتے وقت اپنی چادروں میں سے کوئی بڑی چادر اپنے اوپر اوڑھ لیا کریں تاکہ پہچانی جائیں اور کوئی اُنھیں ستانے کی جرأت نہ کرے۔ اِس چادر کے اوڑھنے کا جو طریقہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ہی سے منقول ہے ،اِس میں چہرہ بھی فی الجملہ چھپ جاتا ہے۔ اِس سے چہرے کے گھونگھٹ، نقاب اور جسم کو چادر سے مکمل ڈھانپنے کا استدلال کیا جاتا ہے۔
اب ایک طرف سورۂ نور (24) کی آیت 31 کی رو سے عورتوں کے چہرے اور ہاتھ (پاؤں) کواُن کی زینت سمیت کھلا رکھنے کی اجازت معلوم ہوتی ہے اور دوسری طرف آیت جلباب سے چہرے سمیت پورے جسم کو ڈھانپنے کا حکم سامنے آتا ہے۔ مسئلے کی اِس نوعیت پر ڈاکٹر عمار خان ناصر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”اب اگر سورۂ نور کی آیت کو عبد اللہ بن عباس کی تفسیر کے مطابق حکم کا بنیادی ماخذ مانا جائے تو چہرے کے پردے کو شرعاً لازم قرار نہیں دیا جا سکتا، جب کہ سورۂ احزاب کی ہدایات کو بنیادی ماخذ سمجھا جائے تو حجاب لازم قرار پاتا ہے۔ یوں قرآن مجید کی اِن ہدایات کا مفہوم اور اِن کا باہمی ربط وتعلق متعین کرنے کا سوال سامنے آتا ہے۔ فطری طور پر اِس ضمن میں اہلِ علم میں اختلاف پایا جاتا ہے اور مختلف اہل علم نے اِن نصوص کی تعبیر و تشریح سے چہرے کے پردے کے لازم ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے مختلف نتائج اخذ کیے ہیں۔“
اہلِ علم کی نمایندہ تعبیرات، اِن کے استدلالات اور اِن کا تنقیدی جائزہ ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔