چہرے کا پردہ

آیتِ جلباب میں خواتین کو ہدایت کی گئی تھی کہ گھروں سے اندیشے کی جگہوں کے لیے نکلیں تو اپنی چادروں میں سے کوئی بڑی چادر اوڑھ لیا کریں۔

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے جلباب اوڑھنے کا جو طریقہ منقول ہوا ہے، اُس میں چہرہ بھی فی الجملہ چھپ جاتا ہے۔ اِس سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ چادر اوڑھنے میں چہرے کا پردہ شامل ہے۔

یہ استدلال بھی شے کے استعمال سے اُس کا معنی متعین کرنے کا ہے، یعنی چادر اوڑھنے کے ایک انداز کو چادر اوڑھنے کے مفہوم میں شامل کر دیا گیا ہے۔ خواتین کپڑوں کے اوپر اوڑھنے کی بڑی چادر مختلف انداز سے لیتی ہیں۔ اِن میں سے کچھ طریقے صحابہ کے آثار میں بیان ہوئے ہیں۔اِن میں سے ایک طریقہ چادر کو سر اور چہرے پر ڈال لینا بھی ہے، مگر اِن میں سے کوئی ایک طریقہ جلباب اوڑھنے کے مفہوم میں داخل نہیں۔ قرآن مجید میں جلباب اوڑھنے کے لیے ’یُدۡنِیۡنَ عَلَیۡہِنَّ‘کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن کا مطلب ہے: چادر اپنے قریب کر لیں، اپنے اوپر ڈال لیں۔ یہ چادر کسی بھی مناسب اور معروف طریقے سے اوڑھی جا سکتی ہے۔

علامہ طبری جلباب اوڑھنے کے اِن مختلف طریقوں پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

اختلف أهل التأويلِ في صفة الإدناء.(تفسير الطبری 19/ 181)

”اہل تاویل نے ادناء (اوڑھنے) کی کیفیت کے بارے میں اختلاف کیا ہے۔“

علامہ ناصر الدین البانی کے نزدیک ادناے جلباب کا مطلب اپنے اوپر چادر لے لینا ہی ہے۔ اِس میں چہرے کو چھپانے کا مفہوم از خودشامل نہیں۔

مولانا عمار خان ناصر لکھتے ہیں:

”اِس حوالے سے جمہور مفسرین کا زاویۂ نظر دو نکتوں سے واضح ہوتا ہے:

ایک یہ کہ وہ آیت کے الفاظ ’يُدْنِيْنَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِهِنَّ‘ کا مفہوم یا تو صرف یہ بیان کرتے ہیں کہ کوئی چادر لے کر جسم پر ڈال لی جائے اور یا اِس جملے کی دونوں تفسیروں کا بلا ترجیح ذکر کر دیتے ہیں جو عربیت کی رو سے ممکن ہیں: پہلی یہ کہ اِس کا مطلب کوئی چادر لے کر اپنے اوپر ڈال لینا ہے اور دوسری یہ کہ اِس سے مراد اوڑھی ہوئی چادر کو اپنے چہرے پر لٹکا لینا ہے۔ مفسرین کا اِن دونوں احتمالات کو ذکر کر دینا اور کسی ایک کو لازمی طور پر ترجیح نہ دینا اِسی وجہ سے ہے کہ وہ اِس حکم کو اصلاً‌ چہرے کو چھپانے کا کوئی حکم نہیں سمجھتے۔“۔“

علامہ ابن عثیمین ایک دوسرے زاویے سے ادناے جلباب سے چہرے کے پردے پر استدلال کرتے ہیں۔ اُن کے مطابق،ازواجِ مطہرات کے حجاب میں اُن کے چہرے کو ڈھانپنے کا مفہوم ایک مسلمہ امر ہے۔ آیتِ جلباب میں ازواجِ مطہرات کو شامل کرتے ہوئے دیگر تمام خواتین کو جلباب اوڑھنے کا حکم دیا گیا ہے، اِس لیے سب خواتین کے چہرے کے پردے کا مفہوم از خود اِس حکم میں شامل ہو جاتا ہے۔

یہ استدلال معکوس ہے۔ ازواجِ مطہرات کے لیے حجاب یہ تھا کہ وہ غیر محرم مردوں کی نگاہوں سے مکمل طور پر اوجھل رہیں گی۔ اِس سبب سے گھر سے باہر مردوں کی موجودگی میں اپنے چہرے کو ڈھانپنا اُن کے لیے ضروری تھا، مگر اِس سے یہ لازم نہیں آتا کہ سبھی خواتین ازواجِ مطہرات کو ملنے والے خصوصی حکم کی وجہ سے اپنے لیے جلباب اوڑھنے کا یہی طریقہ اختیار کر لیں۔