حجاب کے قائلین کا ایک موقف اُس تعارض کو حل کرنے کی کوشش کرتا ہے جو سورۂ نور (24) کی آیت 31 میں’اِلَّا مَا ظَھَرَ‘کے مصداق کی تعیین میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی دو مختلف آرا کو بہ یک وقت اختیار کر لینے سے پیدا ہوتا ہے۔ موقف یہ ہےکہ زینت اور اعضاے زینت کی اجازت اُسی صورت میں ہے، جب فتنے کا اندیشہ نہ ہو۔ اگر یہ اندیشہ ہو تو نا محرم مردوں کے سامنے عورت کے چہرے اور ہاتھوں کو ظاہر کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہ موقف سدِ ذریعہ کے اصول پر مبنی ہے۔ اِس کے مطابق، کسی حرمت میں پڑ جانے کا قوی اندیشہ ہو تو اُس کی طرف لے جانے والے جائز وسائل اور صورتوں پر بھی پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔
مفتی شفیع عثمانی اپنی تفسیر قرآن ”معارف القرآن“میں لکھتے ہیں:
”اس پر سب کا اتفاق ہے کہ اگر چہرہ اور ہتھیلیوں پر نظر ڈالنے سے فتنہ کا اندیشہ ہو تو ان کا دیکھنا بھی جائز نہیں اور عورت کو ان کا کھولنا بھی جائز نہیں۔“ (6/ 402)
یعنی غیر مردوں کی موجودگی میں عورتوں کو اپنا چہرہ، ہاتھ اور پاؤں بغیر زینت کے بھی ظاہر کرنے کی اجازت نہیں، چہ جائیکہ اُن پر زینت بھی کی گئی ہو۔ زینت کی صورت میں یہ ممانعت بدرجۂ اتم ہوگی۔ اُن کے مطابق فتنے کے اندیشے کا اصل محل عورت کا حسن ہے اور عورت کا چہرہ ہی اُس کے حسن کا اصل مرکز ہوتا ہے، اِس لیے عام حالات میں بھی اُس کو چھپایا جائے گا، البتہ صرف ضرورت کے مواقع پر اُسے کھولنے کی اجازت ہے۔
اِن علما کے خیال میں حالات پہلے کی نسبت زیادہ فتنہ انگیز ہیں، اِس لیے’اِلَّا مَا ظَھَرَ‘کے تحت جن اعضا اور اُن کی زینتوں کو آشکار رکھنے کی اجازت تھی، وہ اب نہیں دی جا سکتی۔ جدید دور کے علما میں یہی راے مقبول ہے۔
فتنے کے اندیشے کے اِس موقف کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ حقیقت سے زیادہ تاثر پر مبنی ہے۔ اِس کا ہدف یک طرفہ طور پر عورت کو بنایا گیا ہے، اِس لیے یہ مبنی برانصاف بھی نہیں ہے۔
فتنے سے مراد اگر مردوں میں عورتوں کو دیکھ کر معمول کی فطری کشش کا پیدا ہونا ہے تو یہ معاملہ ہمیشہ سے رہا ہے۔ یہ اُس وقت بھی تھا جب قرآن مجید میں مردوزن کے اختلاط کے آداب بیان ہو رہے تھے۔ اِس اندیشے کے باوجود اُن کے درمیان اختلاط ممنوع نہیں کیا گیا اور نہ خواتین کو زیب و زینت اختیار کرنے ہی سے منع کیا گیا، بلکہ آداب کی رعایت کے ساتھ اختلاط اور اظہارزینت، دونوں کی اجازت دی گئی۔
مرد کے لیے عورت کے چہرے اور وجود میں اُتنی ہی کشش ہے، جتنی عورت کے لیے مرد کے چہرے اور اُس کے وجود میں۔ قرآن مجید نے سورۂ نور میں دونوں کے درمیان جذبات و احساسات کی برابری کی اِسی نسبت سے دونوں اصناف کو ایک جیسے الفاظ میں غض بصر اور حفظِ فروج کی ہدایت کی ہے۔ دونوں اصناف کے لیے اِس حکم میں کسی امتیاز اور کوئی اضافہ کرنے کی گنجایش نہیں ہے، لیکن ایسا کیا گیا ہے۔مفتی شفیع”معارف القرآن“ میں فقہا کا موقف بیان کرتے ہیں کہ بغیر نیت کے مرد کا عورت کو دیکھنا مکروہ ہے، جب کہ عورت کے لیے محارم کے علاوہ کسی کو دیکھنا سرے سے حرام ہے۔ اِس کے برعکس، مولانا مودودی مردوزن کے اختلاط کی مختلف روایات کی بنیاد پر امام غزالی اور حافظ ابن حجر عسقلانی کے حوالے سے لکھتے ہیں:
” ...ان روایات کو جمع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کے مردوں کو دیکھنے کے معاملے میں اتنی سختی نہیں ہے، جتنی مردوں کےعورتوں کو دیکھنے کے معاملے میں ہے۔ ایک مجلس میں آمنے سامنے بیٹھ کر دیکھنا ممنوع ہے۔ راستہ چلتے ہوئے یا دور سے کوئی جائز قسم کا کھیل تماشا دیکھتے ہوئے مردوں پر نگاہ پڑنا ممنوع نہیں ہے۔ اور کوئی حقیقی ضرورت پیش آ جائے تو ایک گھر میں رہتے ہوئے بھی دیکھنے میں مضائقہ نہیں ہے۔ امام غزالی اور ابن حجر عسقلانی نے بھی روایات سے قریب قریب یہی نتیجہ اخذ کیا ہے۔ شوکانی نیل الاوطار میں ابن حجر کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ جواز کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ عورتوں کے باہر نکلنے کے معاملے میں ہمیشہ جواز ہی پر عمل رہا ہے۔ مسجدوں میں، بازاروں میں، اور سفر میں عورتیں تو نقاب منہ پر ڈال کر جاتی تھیں کہ مرد ان کو نہ دیکھیں، مگر مردوں کو کبھی یہ حکم نہیں دیا گیا کہ وہ بھی نقاب اوڑھیں تاکہ عورتیں ان کونہ دیکھیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں کے معاملے میں حکم مختلف ہے۔(ج6، ص101)“
(تفہیم القرآن 3/ 384)
یہ دو متضاد مواقف ہیں، مگر دونوں ہی درست نہیں ہیں۔ قرآنِ مجید کے الفاظ میں اِن مجوزہ تخصیصات کے لیے کوئی گنجایش نہیں ہے۔
روایات سے پیدا ہونے والا مذکورہ بالا تاثر بھی درست نہیں ہے۔ نقاب اوڑھنا عرب ثقافت میں بھی معمول سے ہٹ کر ایک چیز تھی۔ اِسی وجہ سے اکا دکا واقعات میں یہ چند عورتوں کے انفرادی عمل کی حیثیت سے راویوں کے بیان میں آیا ہے۔ یہ اگر معمول ہوتا تو معمول کے ایک عمل کی صورت میں بیان کیا جاتا۔
عورتوں کےنقاب اوڑھنے سے متعلق درج ذیل روایت دیکھیے:
عن عبد الخبير بنِ ثابت بنِ قيسِ بنِ شماس، عن أبيه، عن جده، قال: جاءت امرأة إلى النبي صلى اللّٰه عليه وسلم يقال لها أم خلاد وهي منتقبة تسأل عن ابنها وهو مقتول، فقال لها بعض أصحاب النبي صلى اللّٰه عليه وسلم: جئت تسألين عن ابنك وأنت منتقبة، فقالت: إن أرزأ ابني فلن أرزأ حيائي.
(ابو داؤد،رقم2488)
”عبد الخبیر بن ثابت بن قیس بن شماس اپنے والد سے اور وہ اُن کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی جس کو ام خلاد کہا جاتا تھا۔ وہ نقاب پوش تھی، وہ اپنے شہید بیٹے کے بارے میں پوچھ رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نے اُس سے کہا: تو اپنے بیٹے کو پوچھنے چلی ہے اور نقاب پہنے ہوئے ہے؟ اُس نے کہا: اگرچہ میں اپنے لڑکے کی جانب سے پریشان ہوں، مگر میری حیا کو کوئی پریشانی لاحق نہیں۔“
اِس روایت کی سند اگرچہ ضعیف ہے، تاہم اِس سے کوئی استدلال ہو سکتا ہے تو یہ کہ اُس موقع پر خاتون کے چہرے پر نقاب دیکھ کر حیرت کا اظہار کیا گیا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ نقاب اوڑھنا عمومی عمل نہ تھا، ورنہ صحابی مذکورہ سوال نہ کرتے۔
فتنے سے مراد اگرمردوں یا عورتوں کے جذبات کا ایک دوسرے کو دیکھ کر بے قابو ہو جانا ہے تو یہ ہمہ وقت اور ہمہ گیر مسئلہ نہیں۔ کسی غیر تربیت یافتہ فرد کو یہ مسئلہ، البتہ پیش آ سکتا ہے۔ ایسا ہو تو اُس فرد کی اصلاح کی جائے گی، مگر اُس کی وجہ سے مقابل فریق کی آزادیوں کو سلب نہیں کیا جائے گا۔ کسی کی اخلاقی تربیت کی کمی کی کوئی ذمہ داری دوسرے فریق پر عائد نہیں ہوتی۔ ہم جانتے ہیں کہ مصر کی عورتوں کے تجاوز کی بنا پر حضرت یوسف علیہ السلام پر یہ لازم نہیں تھا کہ وہ اب گھر سے نکلنا چھوڑ دیں یا اپنے حسین چہرے کو ڈھانپ کر رکھیں۔ اِسی طرح یہ عورتوں کی ذمہ داری نہیں کہ بعض مردوں کی عدم تربیت کا جرمانہ خود پر پابندیاں عائد کر کے ادا کریں۔ مردوں ہی سے کہا جائے گا کہ اپنے حدود میں رہیں اور اگر کوئی اپنے حدود سے تجاوز کرتا ہے تو ضرورت پڑنے پرقانون کی طاقت سے اُسے روکنے کی کوشش کی جائے گی۔ قانون اور ریاست کی طرف سےتحفظ بھی اگر میسر نہ ہو تو یہ اب غیرمعمولی صورت حال ہوگی۔ اِس صورت میں افراد کی آزادیاں سلب ہو جاتی ہیں، مگر ایمرجنسی کی صورتِ حال میں اختیار کردہ اقدامات کا اطلاق عام حالات پر نہیں کیا جا سکتا۔
غیرحقیقی اندیشوں یا استثنائی واقعات کی وجہ سےغیر معمولی پابندیاں عائد کرنے کا جواز بھی پیدا نہیں کیا جاسکتا۔ حادثات کی بنا پر معمولات متاثر نہیں کیے جاتے۔ مثلاً ٹریفک کے حادثات غیر معمولی واقعات ہوتے ہیں، لیکن اِن کی بنا پر لوگوں کے سفر کرنے پر پابندی عائد نہیں کی جاتی، بلکہ معمول کے قواعد اور آداب کی پابندی کی طرف ہی توجہ دلائی جاتی ہے۔ یہی اصول مردوزن کے تعلقات میں تجاوز کے معاملے میں برتا جائے گا۔ ایسا نہیں ہوتا کہ سبھی افراد یا اُن کی اکثریت آبرو باختہ یا دوسروں کی عصمت پر حملہ آور ہو جایا کرتی ہے۔ ایسا تجاوز کرنے والے افراد ہی کو توجہ دلائی جائے گی کہ اختلاط کے آداب کی پابندی کریں،خدا کا تقویٰ اختیار کریں اور اگر وہ پھر بھی دوسروں کی عزت و آبرو کے لیے خطرہ بننے کی کوشش کریں تو قانون کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
یہ تاثر بھی درست نہیں کہ عہدِ رسالت میں فتنے کا اندیشہ کم تھا اور اب زیادہ ہو گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں جنسی ہراسانی کی صورتِ حال فساد فی الارض کی حد کو پہنچ گئی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گھرانا منافقین کی ریشہ دوانیوں کا خصوصی ہدف تھا۔ حضرت عائشہ پر تہمت کا واقعہ اسی کا شاخسانہ تھا۔ عام مسلمان مردوں اور عورتوں کی عزت و عصمت بھی اُن منافقین سے محفوظ نہ تھی۔ اِس کا اندازہ اُس تہدید سے ہوتا ہے جو قرآن مجید میں اُن منافقین کو دی گئی۔ارشاد ہواہے:
لَئِنۡ لَّمۡ یَنۡتَہِ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ وَّ الۡمُرۡجِفُوۡنَ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ لَنُغۡرِیَنَّکَ بِہِمۡ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوۡنَکَ فِیۡہَاۤ اِلَّا قَلِیۡلًا مَّلۡعُوۡنِیۡنَ اَیۡنَمَا ثُقِفُوۡۤا اُخِذُوۡا وَ قُتِّلُوۡا تَقۡتِیۡلًا سُنَّۃَ اللّٰہِ فِی الَّذِیۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلُ وَ لَنۡ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبۡدِیۡلًا.
(الاحزاب 33: 60- 62)
”یہ منافقین اگر (اِس کے بعد بھی) اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے اور وہ بھی جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جو مدینہ میں لوگوں کو بھڑکانے کے لیے جھوٹ اڑانے والے ہیں تو ہم اُن پر تمھیں اکسا دیں گے، پھر وہ تمھارے ساتھ اِس شہر میں کم ہی رہنے پائیں گے۔اُن پر پھٹکار ہو گی، جہاں ملیں گے، پکڑے جائیں گے اور بے دریغ قتل کر دیے جائیں گے۔ یہی اُن لوگوں کے بارے میں اللہ کی سنت ہے جو پہلے گزر چکے ہیں اور اللہ کی اِس سنت میں تم ہرگز کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے۔“
اِن حالات میں بھی خواتین پر ایسی کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی تھی کہ وہ گھروں میں ٹک کر بیٹھ جائیں یا مردوں کی موجودگی میں مکمل طور پر پردہ میں رہیں۔