حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے متعلق مذکورہ بالا روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ نامحرم مرد سے عورت کے چہرے اور ہاتھوں کا پردہ نہیں ہے۔ نیز اِسی قبیل کی متعدد روایات میں صحابیات نامحرم مردوں سے مکمل حجاب کرتی نظر نہیں آتیں۔ یہ روایات مولانا مودودی کے عورتوں کے پردے کے موقف کے خلاف پڑتی ہیں۔ اِس تعارض کو دور کرنے کے لیے مولانا نامحرموں کی دو اقسام بیان کرتے ہیں: ایک وہ جان پہچان اور اعتماد کے لوگ جن کے سامنے چہرے، ہاتھ اور پاؤں کو چھپانے کی ضرورت نہیں اور دوسرے وہ اجنبی مرد جن کے سامنے مکمل حجاب اختیار کیا جائے گا، یعنی وہ حجاب جس کا حکم آیتِ جلباب سے اخذ کیا جاتا ہے۔
قرآن مجید میں نامحرموں کی کوئی اقسام بیان نہیں ہوئیں۔ کوئی عقلی تقاضا بھی ایسا نہیں، جو قرآن مجید میں کسی جگہ نامحرموں کے اِس فرق کو لازم کرے۔ روایات کی بنا پر قرآن مجید کے کسی حکم میں ایسی تخصیص پیدا نہیں کی جا سکتی، جس کی اجازت اُس کے الفاظ نہ دیتے ہوں۔ درست بات یہی ہے کہ نامحرم مردوں سے عورت کے چہرے اور ہاتھوں کے پردے کا کوئی حکم دین نے نہیں دیا۔ سورۂ نور (24) کی آیت 31 میں نا محرم مردوں کی موجودگی میں معمولاً آشکار رہنے والی زینتوں کو ظاہر رکھنے کی اجازت دی گئی تھی، جن میں چہرہ اور ہاتھ شامل ہیں۔ یہ اعضا اگر اپنی زینت سمیت ظاہر رہ سکتے ہیں تو بغیر زینت کے اُن کا ظاہر رہنا بہ درجۂ اولیٰ واضح ہے۔ اِسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے خواتین، چاہے رشتہ دار ہوں یا غیر رشتہ دار، اپنے چہرے کو ڈھانپے بغیر سامنے آتی تھیں، بلکہ پورے معاشرے کا یہی معمول تھا۔ عورتیں مردوں سے پردہ نہیں کرتی تھیں۔ یہ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ قرآن مجید نامحرموں سے مکمل پردے کا حکم دے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، آپ کے صحابہ اور صحابیات اِس میں کوئی استثنا پیدا کر لیں۔