’غض ‘کا مطلب پست یا دھیما کرنا ہے۔ لغت میں اِس کے معنی یہ ہیں:
(غض) خفضه و كفه و كسره و يقال: اغضض من صوتك أى اخفض منه و…بصره: منعه مما لا يحل له رؤيته.
(اقرب الموارد 2/786)
’’اُس نے اُسے جھکایا اور روکا اور توڑ دیا۔ کہا جاتا ہے کہ ’اغضض من صوتك‘، یعنی اپنی آواز کچھ دھیمی کرو، ’غضّ بصرہ ‘، یعنی اُس نے اُسے ایسی چیز سے روک دیا جس کا دیکھنا اُس کے لیے جائز نہیں۔‘‘
قرآن مجید میں ’غضّ‘ کا لفظ اِسی مفہوم میں استعمال ہوا ہے:
اِنَّ الَّذِیۡنَ یَغُضُّوۡنَ اَصۡوَاتَہُمۡ عِنۡدَ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ امۡتَحَنَ اللّٰہُ قُلُوۡبَہُمۡ لِلتَّقۡوٰی ؕ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ اَجۡرٌ عَظِیۡمٌ.
(الحجرات49: 3)
’’(یاد رکھو)، جو اللہ کے رسول کے آگے اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں، وہی ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کی افزایش کے لیے جانچ کر منتخب کر لیا ہے۔ اُن کے لیے مغفرت بھی ہے اور اجر عظیم بھی۔‘‘
وَ اقۡصِدۡ فِیۡ مَشۡیِکَ وَ اغۡضُضۡ مِنۡ صَوۡتِکَ ؕ اِنَّ اَنۡکَرَ الۡاَصۡوَاتِ لَصَوۡتُ الۡحَمِیۡرِ.(لقمان 31: 19)
’’اپنی چال میں میانہ روی اختیار کرو اور اپنی آواز کو پست رکھو، حقیقت یہ ہے کہ سب سے بری آواز گدھے کی آواز ہے۔‘‘
’غضّ ‘کے بارے میں مولانا مودودی کی لغوی تشریح بھی اسی مفہوم کے موافق ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’’غض ‘کے معنی ہیں کسی چیز کو کم کرنے، گھٹانے اور پست کرنے کے۔ غض بصر کا ترجمہ عام طو رپر نگاہ نیچی کرنا یا رکھنا کیا جاتا ہے۔ لیکن دراصل اس حکم کا مطلب ہر وقت نیچے ہی دیکھتے رہنا نہیں ہے۔ بلکہ پوری طرح نگاہ بھر کر نہ دیکھنا، اور نگاہوں کو دیکھنے کے لیے بالکل آزاد نہ چھوڑ دینا ہے۔ یہ مفہوم ’’نظر بچانے‘‘ سے ٹھیک ادا ہوتا ہے، یعنی جس چیز کودیکھنا مناسب نہ ہو، اس سے نظر ہٹا لی جائے، قطع نظر اس سے کہ آدمی نگاہ نیچی کرے یا کسی اور طرف اسے بچا لے جائے۔‘‘(تفہیم القرآن 3/ 380)
اِس سے واضح ہے کہ غض بصر کے مفہوم میں نظریں مسلسل جھکائے رکھنا یا دیکھنے سے مکمل اجتناب جیسا کوئی مفہوم شامل نہیں ہے۔
زیرِ بحث آیت میں ’يغضوا أبصارهم‘کے بجاے ’يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ‘ آیا ہے۔ صاحبِ ”الکشاف“ لکھتے ہیں:
من للتبعيض والمراد غضّ البصر عما يحرم والاقتصار به على ما يحل.
(3 / 229)
’’’من‘تبعیض کے لیے ہے۔ اور غض بصر سے مراد نظر کو ممنوع مقام سے پھیرنا اورجائز محل تک محدود رکھنا ہے۔‘‘
مولانا مودودی اِس کی وضاحت میں لکھتے ہیں:
’”من ابصارهم ‘میں’من‘ تبعیض کےلیے ہے، یعنی حکم تمام نظروں کو بچانے کا نہیں ہے بلکہ بعض نظروں کو بچانے کا ہے۔ بالفاظ دیگر، اللہ تعالیٰ کا منشا یہ نہیں ہے کہ کسی چیز کو بھی نگاہ بھر کر نہ دیکھا جائے، بلکہ وہ صرف ایک مخصوص دائرے میں نگاہ پر پابندی عائد کرنا چاہتا ہے۔‘‘ (تفہیم القرآن 3/ 380)
غامدی صاحب غض بصر کی وضاحت میں لکھتے ہیں:
”دونوں ہی قسم کے مقامات (بیت مسکونہ اور غیر مسکونہ) پر اگر عورتیں موجود ہوں تو اللہ کا حکم ہے کہ مرد بھی اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور عورتیں بھی۔ اِس کے لیے اصل میں ’یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ نگاہوں میں حیا ہو اور مردو عورت ایک دوسرے کے حسن و جمال سے آنکھیں سینکنے، خط و خال کا جائزہ لینے اور ایک دوسرے کو گھورنے سے پرہیز کریں تو اِس حکم کا منشا یقیناً پورا ہو جاتا ہے ، اِس لیے کہ اِس سے مقصود نہ دیکھنا یا ہر وقت نیچے ہی دیکھتے رہنا نہیں ہے، بلکہ نگاہ بھر کر نہ دیکھنا اور نگاہوں کو دیکھنے کے لیے بالکل آزاد نہ چھوڑ دینا ہے۔ اِس طرح کا پہرا اگر نگاہوں پر نہ بٹھایا جائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں یہ آنکھوں کی زنا ہے۔ اِس سے ابتدا ہو جائے تو شرم گاہ اِسے پورا کر دیتی ہے یا پورا کرنے سے رہ جاتی ہے۔چنانچہ یہی نگاہ ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نصیحت فرمائی ہے کہ اِسے فوراً پھیر لینا چاہیے۔
جریر بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور سے پوچھا: اِس طرح کی نگاہ اچانک پڑ جائے تو کیا کروں؟ فرمایا : فوراً نگاہ پھیر لو یا نیچی کر لو۔
حجۃ الوداع کا قصہ ہے کہ قبیلۂ خثعم کی ایک عورت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے میں روک کر مسئلہ پوچھنے لگی تو فضل بن عباس نے اُس پر نگاہیں گاڑ دیں ۔ آپ نے دیکھا تو اُن کا منہ پکڑ کر دوسری طرف کر دیا۔ “ (میزان 466)