حفظِ فروج

فروج سے مراد انسانی جسم میں اندیشوں کی وہ سب جگہیں ہیں جہاں سے جنسی میلانات راہ پاتے ہیں۔ اِن میں مرد وعورت کے جنسی اعضا کے علاوہ عورت کے نسوانی اعضا، یعنی اُس کا سینہ بھی شامل ہے۔ اندیشوں کی اِن جگہوں کو چھپانے کی غرض سے ڈھانپ کر رکھنا انسانی تہذیب و معاشرت میں ایک مسلمہ امر ہے۔

قرآنِ مجید نے سترِ فروج، یعنی شرم گاہوں کو محض ڈھانپ کر رکھنے کا حکم نہیں دیا، بلکہ حفظِ فروج، یعنی شرم گاہوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے، جو اِنھیں پوشیدہ رکھنے کے اہتمام پر دلالت کرتا ہے۔ یہ ہدایت مرد وعورت ،دونوں کے لیے یکساں طورپر دی گئی ہے۔

غامدی صاحب اِس ہدایت کے ضمن میں لکھتے ہیں:

”اس طرح کے موقعوں پر شرم گاہوں کی حفاظت کی جائے۔ مدعا یہ ہے کہ نہ اُن کے اندر دوسروں کے لیے کوئی میلان ہو اور نہ وہ اُن کے سامنے کھولی جائیں، بلکہ عورتیں اور مرد ایک جگہ موجود ہوں تو چھپانے کی جگہوں کو اور بھی زیادہ اہتمام کے ساتھ چھپا کر رکھا جائے۔ اِس میں ظاہر ہے کہ بڑا دخل اِس چیز کو ہے کہ لباس باقرینہ ہو۔ عورتیں اور مرد، دونوں ایسا لباس پہنیں جو زینت کے ساتھ صنفی اعضا کو بھی پوری طرح چھپانے والا ہو۔ پھر ملاقات کے موقع پر اِس بات کا خیال رکھا جائے کہ اٹھنے بیٹھنے میں کوئی شخص برہنہ نہ ہونے پائے۔ شرم گاہوں کی حفاظت سے یہاں قرآن کا مقصود یہی ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ مسلمانوں کی معاشرت میں غض بصر کے ساتھ یہ چیز بھی پوری طرح ملحوظ رکھی جائے۔“

(میزان 467)

قرآنِ مجید میں حفظِ فروج کے حکم سے عموماً زنا سے اجتناب مراد ہوتا ہے، مگر سورۂ نور میں حفظِ فروج کی ہدایت چونکہ آدابِ ملاقات کے ذیل میں آئی ہے، اِس لیے یہاں اِس کا مفہوم شرم گاہوں کو نگاہوں سے پوشیدہ رکھنا ہے۔ زنا سے اجتناب یہاں براہِ راست مراد نہیں، تاہم یہ اِس اہتمام کا نتیجہ اور مقصود ہے۔

ابن زید اور ابو العالیہ سے آیتِ بالا میں’حفظِ فروج ‘کی یہی تفسیر مروی ہے:

وعن ابن زيد: كل ما في القرآن من حفظ الفرج فهو عن الزنا إلا هذا فإنه أراد به الاستتار.

(الكشاف 3/ 229)

”ابن زید کہتے ہیں کہ قرآن میں تمام جگہوں پر حفظ فرج سے مراد زنا سے حفاظت ہے، سواے اِس آیت کے، یہاں اِس سے مراد چھپانا ہے۔“

وقال أبو العالية: كل آية نزلت في القرآن يذكر فيها حفظ الفروج فهو من الزنى إلا هذه الآية: ”وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ“ألا يَرَاهَا أحد.

(تفسير ابن كثير 6/ 45)

”ابو العالیہ کہتے ہیں کہ قرآن کی ہر وہ آیت جس میں حفظ فروج کا ذکر ہوا، اُس سے مراد زنا سے حفاظت ہے، سواے اِس آیت کے: ’وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ‘، مطلب یہ کہ اُنھیں کوئی نہ دیکھے۔“

حفظِ فروج کا تقاضا ہے کہ مخصوص جنسی اعضا کے ملحقہ اطراف کو بھی ڈھانپ لیا جائے۔ اِس کے لیے جنسی اعضا کا ستر ناف سے گھٹنوں تک مقرر کیا گیا ہے۔ شرم گاہ سے ناف تک اوپر کا حصہ اور شرم گاہ سے نیچے گھٹنوں تک کا حصہ حفظِ فروج کی کم سے کم حد مانی جاتی ہے۔ اِس کے ساتھ پشت کا حصہ بھی شامل ہے، کیونکہ شرم گاہ پیچھے بھی ہوتی ہے۔ یہ ستر مرد و عورت، دونوں کے لیے یکساں ہے۔

اِن اعضا کے علاوہ عورت کا سینہ بھی چونکہ شرم گاہ ہے، اِس لیے اُس کا ستر اِس معاملے میں مرد سے زائد ہے۔ حفظِ فروج کے تقاضے سے عورت کے سینے کے ساتھ اُس کے اطراف، یعنی گریبان، کندھے، بغل اور پیٹ سمیت ناف تک کے حصے بھی سینے کے ستر میں شامل ہو جاتے ہیں۔ یوں عورت کا مکمل ستر، بہ شمول اُس کی پشت کے، گریبان سے لے کر اُس کے گھٹنوں تک ہے۔

مردوں اور عورتوں میں شرم گاہوں کے اِس فرق کے سوا، مزید کسی حد و اضافہ کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔

حفظِ فروج کی کم از کم صورت یہ ہے کہ جنسی اور نسوانی اعضا اور اُن کے ساتھ ملحق اعضا ڈھانپ لیے جائیں۔ اِس سے بہتر صورت یہ ہے کہ پنڈلیوں اور بازوؤں کو بھی اِس میں شامل کر لیا جائے اور بہترین صورت یہ ہو سکتی ہے کہ بیرونی کپڑوں پر ایک چادر بھی اوڑھ لی جائے۔ تہذیب و ثقافت کے حسن کا تقاضا تب پورا ہوتا ہے، جب بہترین صورتوں پر عمل کیا جائے۔ بعض تہذیبی روایات میں نہ صرف عورتوں کے لیے، بلکہ مردوں کے لیے بھی سر ڈھانپنا لباس کے تہذیبی حسن میں شمار ہوتا رہا ہے۔

حفظِ فروج کے اہتمام میں یہ بھی شامل ہے کہ لباس اِتنا تنگ نہ ہو کہ اعضا کو نمایاں کرے اور نہ اِتنا باریک ہو کہ اعضا اُس میں سے جھلکیں، ورنہ ستر اور حفظِ فروج کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔

اِس بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل ہوا ہے:

صنفان من أهلِ النار لم أرهما: قوم معهم سياط كأذناب البقرِ يضربون بها الناس ونساء كاسيات عاريات مميلات مائلات رءوسهن كأسنمة البخت المائلة لا يدخلن الجنة ولا يجدن ريحها وإن ريحها ليوجد من مسيرة كذا وكذا.

(مسلم، رقم 2131)

’’دوزخیوں کی دو قسمیں ہیں، جن کو میں نے نہیں دیکھا: ایک تو وہ لوگ جن کے پاس بیلوں کی دموں کی طرح کے کوڑے ہیں، وہ لوگوں کو اِس سے مارتے ہیں۔ دوسرے وہ عورتیں جو کپڑے پہنتی ہیں، مگر ننگی ہیں، سیدھی راہ سے بہکانے والی، خود بہکنے والی اور اُن کے سر بختی اونٹ کی کوہان کی طرح ایک طرف جھکے ہوئے ہیں۔ وہ جنت میں نہ جائیں گی، بلکہ اُس کی خوشبو بھی اُن کو نہ ملے گی، حالاں کہ جنت کی خوشبو اتنی (بہت) دور سے آ رہی ہو گی۔‘‘

قرآنِ مجید کا عمومی اسلوب یہ ہے کہ کوئی حکم یا ہدایت عمومی نوعیت کی ہو تو مذکر کے صیغے کے تحت دی جاتی ہے، جس میں عورتوں کو بھی شامل سمجھا جاتا ہے، اُنھیں الگ سے مخاطب نہیں کیا جاتا، جیسے’اَقِیمْوُا الصَّلوٰۃ‘ ( نماز قائم کرو)، اِس میں فعل امر جمع مذکر ہے اور عورتیں اِس میں شامل سمجھی جاتی ہیں، لیکن غض بصر اور حفظِ فروج کا حکم ایک جیسے الفاظ میں مردوں اور عورتوں، دونوں کو الگ الگ مخاطب کر کے دیا گیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں اصناف سے اِن آداب کی کس قدر رعایت مطلوب ہے۔

سورۂ نور میں اِن آداب کا مقصد بھی ساتھ ہی بیان ہوا ہے اور وہ پاکیزگی کا حصول ہے، ’اَزۡكىٰ لَهُمۡ‘۔ یہی دین کا بنیادی مقصد ہے، جس کی وجہ سے دین کے احکام اور ہدایات عام فرد سے متعلق ہو جاتے ہیں، کیونکہ تزکیۂ نفس ہر فرد سے مطلوب ہے۔

حفظِ فروج اسلامی تہذیب کی بنیادی اقدار میں سے ایک قدر ہے۔