حجاب کے نفاذ کے لیے نظم اجتماعی کی مداخلت

قرآنِ مجید میں لباس و زیبایش کی ہدایات عورتوں کو مخاطب کر کے دی گئی ہیں۔ اِس کے لیے معاشرے کو مخاطب نہیں کیا گیا، اِس لیے مسلمانوں کے معاشرے یا اُن کے نظم حکومت کو اِن ہدایات کے نفاذ کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ قرآن مجید نے دین کے ایجابی احکام کے معاملے میں مسلمانوں کے نظم حکومت کے دائرۂ اختیار کو صرف چار امور تک محدود کیا ہے۔ اِن کا ذکر درج ذیل آیت میں ہے:

اَلَّذِیۡنَ اِنۡ مَّکَّنّٰہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَ اَمَرُوۡا بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ نَہَوۡا عَنِ الۡمُنۡکَرِ ؕ وَ لِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الۡاُمُوۡرِ‎ .(الحج22: 41)

”وہی کہ جن کو اگر ہم اِس سرزمین میں اقتدار بخشیں گے تو نماز کا اہتما م کریں گے اور زکوٰۃ ادا کریں گے اور بھلائی کی تلقین کریں گے اور برائی سے روکیں گے۔ (اللہ ضرور اُن کی مدد کرے گا) اور سب کاموں کاانجام تو اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔“

نظم اجتماعی کی ایک ذمہ داری نماز کی تلقین، اُس کی ادائیگی کے لیے سہولیات کی فراہمی اور نظام کی تشکیل کرنا ہے۔ دوسری ذمہ داری زکوٰۃ کی وصولی اور تقسیم کا نظام قائم کرنا ہے۔ دین کے ایجابی احکام کے معاملے میں اُس سے اِس سے زائد کوئی مطالبہ نہیں۔

اُن کی تیسری ذمہ داری معروف کا حکم دینا اور چوتھی منکرسے روکنا ہے۔ معروف سے مراد جانی پہچانی بھلائیاں اور منکر سے مراد مسلمہ برائیاں ہیں۔ دین کے اوامر و نواہی اِس میں شامل نہیں۔ وہ فرد کے اختیار کا معاملہ ہے۔

اپنے لباس میں مطلوب آداب کی رعایت کو اختیار کرنا بھی فرد کا ذاتی معاملہ ہے۔ نظم اجتماعی یا اربابِ اختیار اِس سلسلے میں قانون کی طاقت استعمال نہیں کر سکتے۔

زینتوں کے اِخفا کا معاملہ بھی شخصی معاملہ ہے، جس میں حکومت مداخلت نہیں کر سکتی۔ البتہ لباس اور زینت کے معاملے میں فاحشہ کا ارتکاب اُسے منکر بنا دیتا ہے، جیسے عریانی یا تبرج (شہوت انگیز اظہار زینت)۔ ایسے منکر کے سد باب کے لیے حکومت کو اختیار حاصل ہے۔ یہ قابل دست اندازی پولیس جرائم ہیں۔

پردہ یا حجاب اصل لباس پر اضافی لباس کا نام ہے۔ یہ اضافی لباس نہ ہو تو بھی عورت کے ساتر اور باوقار لباس پر فحش کا اطلاق نہیں ہوتا، اِس لیے حکومتی اراکین اگر عورت کے پردے کے تصور کے قائل بھی ہوں تو بھی وہ اِسے عورت پر نافذ کرنے کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے کہ یہ عورت کا شخصی معاملہ ہے۔

_________