اجازت طلبی کے آداب

مرد و زن کے اختلاط کے آداب سورۂ نور میں بیان ہوئے ہیں۔ اُن کا آغاز استیذان، یعنی اجازت طلبی کے حکم سے ہوتا ہے۔ اِس کے لیے تعلیم دی گئی ہے کہ دوسروں کے گھروں میں داخل ہونے سے پہلے سلام اور تعارف کراتے ہوئے اجازت طلب کی جائے۔

ارشاد ہوا ہے:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَدۡخُلُوۡا بُیُوۡتًا غَیۡرَ بُیُوۡتِکُمۡ حَتّٰی تَسۡتَاۡنِسُوۡا وَ تُسَلِّمُوۡا عَلٰۤی اَہۡلِہَا ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَذَکَّرُوۡنَ فَاِنۡ لَّمۡ تَجِدُوۡا فِیۡہَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدۡخُلُوۡہَا حَتّٰی یُؤۡذَنَ لَکُمۡ وَ اِنۡ قِیۡلَ لَکُمُ ارۡجِعُوۡا فَارۡجِعُوۡا ہُوَ اَزۡکٰی لَکُمۡ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِیۡمٌ لَیۡسَ عَلَیۡکُمۡ جُنَاحٌ اَنۡ تَدۡخُلُوۡا بُیُوۡتًا غَیۡرَ مَسۡکُوۡنَۃٍ فِیۡہَا مَتَاعٌ لَّکُمۡ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا تُبۡدُوۡنَ وَ مَا تَکۡتُمُوۡنَ.

(24 : 27- 29)

’’ایمان والو، (اِسی پاکیزگی کے لیے ضروری ہے کہ) تم اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو، جب تک کہ اپنے آنے کا احساس نہ دلا دو اور گھر والوں کو سلام نہ کرلو۔ یہی طریقہ تمھارے لیے بہتر ہے تاکہ تمھیں یاددہانی حاصل رہے۔ پھر اگر وہاں کسی کو نہ پاؤ تو اُن میں داخل نہ ہو، جب تک کہ تمھیں اجازت نہ دے دی جائے۔ اور اگر تم سے کہا جائے کہ لوٹ جاؤ تو لوٹ جاؤ۔ یہی طریقہ تمھارے لیے پاکیزہ ہے اور (یاد رکھو کہ) جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اُسے خوب جانتا ہے۔ اِس میں، البتہ تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ایسے گھروں میں داخل ہو جن میں تمھارے لیے کوئی منفعت ہے اور وہ رہنے کے گھر نہیں ہیں۔ اللہ جانتا ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ چھپاتے ہو۔‘‘

غامدی صاحب اپنی کتاب”میزان ‘‘میں لکھتے ہیں:

”ایک دوسرے کے گھروں میں جانے کی ضرورت پیش آ جائے تو بے دھڑک اور بے پوچھے اندر داخل ہونا جائز نہیں ہے۔ اِس طرح کے موقعوں پر ضروری ہے کہ آدمی پہلے گھر والوں کو اپنا تعارف کرائے، جس کا شایستہ اور مہذب طریقہ یہ ہے کہ دروازے پر کھڑے ہو کر سلام کیا جائے۔ اِس سے گھر والے معلوم کر لیں گے کہ آنے والا کون ہے، کیا چاہتا ہے اور اُس کا گھر میں داخل ہونا مناسب ہے یا نہیں۔ اِس کے بعد اگر وہ سلام کا جواب دیں اور اجازت ملے تو گھر میں داخل ہو، اجازت دینے کے لیے گھر میں کوئی موجود نہ ہو یا موجود ہو اور اُس کی طرف سے کہہ دیا جائے کہ اِس وقت ملنا ممکن نہیں ہے تو دل میں کوئی تنگی محسوس کیے بغیر واپس چلا جائے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس حکم کی وضاحت میں فرمایا ہے کہ اجازت کے لیے تین مرتبہ پکارو، اگر تیسری مرتبہ پکارنے پر بھی جواب نہ ملے تو واپس ہو جاؤ۔

اِسی طرح آپ کا ارشاد ہے کہ اجازت عین گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر اور اندر جھانکتے ہوئے نہیں مانگنی چاہیے، اِس لیے کہ اجازت مانگنے کا حکم تو دیا ہی اِس لیے گیا ہے کہ گھر والوں پر نگاہ نہ پڑے۔ ‘‘ (466)

’بیوتًا مسکونۃ ‘سے مراد رہایشی گھر ہیں، جہاں کوئی فرد یا خاندان رہتا ہے۔ مدینے کی معاشرت ایک دیہاتی معاشرت تھی۔ گھرانوں میں عموماً کواڑ نہیں ہوتے تھے۔ اُن پر پردے لٹکانے کا رواج بھی نہیں تھا۔ رہنے کا اصل گھر بھی صحن کے بعد شروع ہوتا تھا، جیسے اب بھی دیہاتوں میں ہوتا ہے۔ لوگ بے دھڑک صحنوں تک چلے آتے۔ چنانچہ اجازت طلبی کے آداب مقرر کیے گئے تاکہ لوگ میل ملاقات کےحدود سے آشنا ہوں۔

آیتِ بالا میں ’بیوتًا غیر مسکونۃ‘سے مراد غیر رہایشی مکانات اور مقاماتِ عامہ ہیں۔ اِن میں ہوٹل، سراے، مہمان خانے، دکانیں، دفاتر، مردانہ نشست گاہیں وغیرہ شامل ہیں۔ اِن کے ساتھ چار دیواری کا تقدس لاحق نہیں ہوتا۔ اِن جگہوں پر لوگ بے تکلفانہ نہیں رہتے۔ اِن میں داخل ہونے کے لیے اجازت طلب کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہاں بھی اگر اجازت طلبی کی پابندی عائد کر دی جاتی تو غیر معمولی زحمت کا سبب بنتی۔ چنانچہ دین کے اصولِ یسر (آسانی)کے تحت یہ زحمت نہیں دی گئی۔ اِن مقامات پر موجود مرد و زن کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے لباس، اندازو اطوار اور نشست و برخاست میں با سلیقہ اور باوقار رہیں۔