اِخفاے زینت کی ہدایت

زیب و زینت اختیار کرنا عورت کی فطرت کا تقاضا ہے۔ اِس سےعورت کے حسن اور کشش میں جو اضافہ ہو جاتا ہے، اُس کا تقاضا تھا کہ تزکیۂ اخلاق کے مقصد کے پیشِ نظر جس طرح حفظِ فروج کی ہدایت سے جنسی میلانات کو ادب و لحاظ کے ایک دائرے میں محدود کر دیا گیا ہے، اُسی طرح زیب و زینت کے حدود بھی واضح کر دیے جائیں۔ انسانی عقل اِس معاملے میں بھی حدِ اعتدال پر قائم نہیں رہ سکی، اِس لیے اِس کا دائرہ بھی اللہ تعالیٰ نے خود متعین کر دیا۔ چنانچہ عورتوں کو زیب و زینت کی اجازت دیتے ہوئے ہدایت کی گئی کہ نا محرم مردوں کے سامنے اپنی زیب و زینت کا اظہار نہ کریں، اُسے چھپا کررکھیں، لیکن جواعضا عادتاً آشکار رہتے ہیں، اُنھیں اُن کی آرایش سمیت کھلا رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ ارشاد ہوا ہے:

وَ قُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنٰتِ یَغۡضُضۡنَ مِنۡ اَبۡصَارِہِنَّ وَ یَحۡفَظۡنَ فُرُوۡجَہُنَّ وَ لَا یُبۡدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنۡہَا وَ لۡیَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوۡبِہِنَّ ۪ وَ لَا یُبۡدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ اِلَّا لِبُعُوۡلَتِہِنَّ اَوۡ اٰبَآئِہِنَّ اَوۡ اٰبَآءِ بُعُوۡلَتِہِنَّ اَوۡ اَبۡنَآئِہِنَّ اَوۡ اَبۡنَآءِ بُعُوۡلَتِہِنَّ اَوۡ اِخۡوَانِہِنَّ اَوۡ بَنِیۡۤ اِخۡوَانِہِنَّ اَوۡ بَنِیۡۤ اَخَوٰتِہِنَّ اَوۡ نِسَآئِہِنَّ اَوۡ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُنَّ اَوِ التّٰبِعِیۡنَ غَیۡرِ اُولِی الۡاِرۡبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفۡلِ الَّذِیۡنَ لَمۡ یَظۡہَرُوۡا عَلٰی عَوۡرٰتِ النِّسَآءِ ۪ وَ لَا یَضۡرِبۡنَ بِاَرۡجُلِہِنَّ لِیُعۡلَمَ مَا یُخۡفِیۡنَ مِنۡ زِیۡنَتِہِنَّ ؕ وَ تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ جَمِیۡعًا اَیُّہَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ.

(النور 24: 31)

’’اور ماننے والی عورتوں کو ہدایت کرو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کی چیزیں نہ کھولیں، سواے اُن کے جو اُن میں سے کھلی ہوتی ہیں اور اِس کے لیے اپنی اوڑھنیوں کے آنچل اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں۔ اور اپنی زینت کی چیزیں نہ کھولیں، مگر اپنے شوہروں کے سامنے یا اپنے باپ، اپنے شوہروں کے باپ، اپنے بیٹوں، اپنے شوہروں کے بیٹوں، اپنے بھائیوں، اپنے بھائیوں کے بیٹوں، اپنی بہنوں کے بیٹوں، اپنے میل جول کی عورتوں اور اپنے غلاموں کے سامنے یا اُن زیر دست مردوں کے سامنے جو عورتوں کی خواہش نہیں رکھتے یا اُن بچوں کے سامنے جو عورتوں کی پردے کی چیزوں سے ابھی واقف نہیں ہوئے۔ اور اپنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلیں کہ اُن کی چھپی ہوئی زینت معلوم ہو جائے۔ ایمان والو، (اب تک کی غلطیوں پر) سب مل کر اللہ سے رجوع کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘

سورۂ نور کی مذکورہ بالا آیت کی وضاحت میں غامدی صاحب لکھتے ہیں:

”عورتوں کے لیے خاص طور پر ضروری قرار دیا گیا کہ وہ زیب و زینت کی کوئی چیز اپنے قریبی اعزہ اور متعلقین کے سوا کسی شخص کے سامنے ظاہر نہ ہونے دیں ۔ اِس سے زیبایش کی وہ چیزیں، البتہ مستثنیٰ ہیں جو عادتاً کھلی ہوتی ہیں ۔ یعنی ہاتھ، پاؤں اور چہرے کا بناؤ سنگھار اور زیورات وغیرہ۔ اِس کے لیے اصل میں ’اِلَّا مَا ظَھَرَ مِنْھَا‘ کے جو الفاظ آئے ہیں، اُن کا صحیح مفہوم عربیت کی رو سے وہی ہے جسے زمخشری نے ’إلا ما جرت العادۃ والجبلۃ علی ظھورہ والأصل فیہ الظھور‘رکے الفاظ میں بیان کر دیا ہے، یعنی وہ اعضا جنھیں انسان عادتاً اور جبلی طور پر چھپایا نہیں کرتے اور وہ اصلاً کھلے ہی ہوتے ہیں۔ لہٰذا اِن اعضا کے سوا باقی ہر جگہ کی زیبایش عورتوں کو چھپانی چاہیے اور اِس کے لیے اپنی اوڑھنیوں کے آنچل اپنے گریبانوں پر ڈال کر رکھنے چاہییں۔ یہاں تک کہ مردوں کی موجودگی میں اپنے پاؤں زمین پر مار کر چلنے سے بھی پرہیز کرنا چاہیے کہ اُن کی چھپی ہوئی زینت ظاہر نہ ہو جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی بنا پرعورتوں کے تیز خوشبو لگا کر باہر نکلنے کو سخت ناپسند فرمایا ہے۔“ (میزان 467)

اِخفاے زینت سے استثنا میں عورت کے چہرے، ہاتھ اور پاؤں کے علاوہ لباس کا وہ حصہ بھی شامل ہے جو عموماً آشکار رہتا ہے۔ گریبان کو ، البتہ اہتمام کے ساتھ ڈھانپنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ اِس لیے کہ گریبان کا تعلق شرم گاہ، یعنی عورت کے سینے سے ہے۔ اُس پر اگر زینت کی گئی ہو تو اب اِس زینت کو بھی ڈھانپ کر رکھا جائے۔ کپڑوں کا بقیہ حصہ بھی ’اِلَّا مَا ظَھَرَ مِنْھَا‘ کے تحت استثنا میں شامل ہے، کیونکہ یہ حصہ بھی عموماً ظاہر ہی رہتا ہے، اِسے چھپانا غیر معمولی مشقت کا سبب بنتا ہے۔

عورتوں کے معمولاً ظاہر رہنے والے اعضا پر مردوں کی نظر پڑ جانے کی ممانعت نہیں ہے، تاہم غض بصر کا تقاضا ہے کہ نگاہیں حدِ ادب کی پابند رہیں۔ اِن میں تاڑنے اور لطف لینے جیسا انداز نہ ہو۔

جلیل القدر تابعی امام ابراہیم نخعی (وفات: 96ھ) ’اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا‘ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

أبیح للناس أن ینظروا إلی ما لیس بمحرم علیھم من النساء إلی وجوھھن وأکفھن، وحرم ذالک علیھم من أزواج النبي صلی اللّٰه علیه وسلم لما نزلت آیة الحجاب ففضلن بذالک علی سائر الناس.

(شرح معانی الآثار4/ 332)

’’عام لوگوں کے لیے اِس کو مباح رکھا گیا ہے کہ وہ غیر محرم خواتین کے چہروں اور ہاتھوں کو دیکھ سکتے ہیں، لیکن جب آیت ِحجاب نازل ہو گئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے باب میں اِس کو لوگوں پر حرام ٹھیرا دیا گیا۔ یوں ازواج مطہرات کو باقی تمام لوگوں پر ایک فضیلت عطا کر دی گئی ، (یعنی اُنھیں ممتاز کر دیا گیا)۔“

مختلف تہذیبی روایات میں زینتوں کے اظہار و اخفا کے حدود و قیود میں کچھ فرق ہوتا ہے۔ اِس میں لازم اور مستحب کی رعایت رکھتے ہوئے مختلف صورتوں کی گنجایش دی جاتی ہے۔ عادتًا کھلے رہنے والے اعضا اور کپڑوں سے چھپانے کا استثنا غیر معمولی زحمت سے بچانے کے لیے دیا گیا ہے۔ یہ شریعت کے اصولِ یسر کے تحت دی گئی رخصت ہے۔