اِخفاے زینت سے مستثنیٰ متعلقین

اِخفاے زینت سے دوسرا استثنا اُن اعزہ و متعلقین کا ہے، جن کے سامنے پوشیدہ زینتوں کے اظہار کی پابندی بھی نہیں ہے۔ پوشیدہ زینتوں میں گریبان کے زیورات، گریبان پر کپڑے کی آرایش اور بالوں کی زیبایش وغیرہ شامل ہیں۔ جن متعلقین کے سامنے پوشیدہ زینتوں کے اظہار کی اجازت ہے، وہ یہ ہیں:

ا۔ شوہر

ب۔ باپ

ج۔ شوہروں کے باپ

اپنے اور شوہر کے باپ کے لیے اصل میں لفظ ’اٰبَآء‘ استعمال ہوا ہے ۔ اِس کے مفہوم میں صرف باپ ہی نہیں، بلکہ اجداد و اعمام، سب شامل ہیں۔ لہٰذا ایک عورت اپنے ددھیال اور ننھیال اور اپنے شوہر کے ددھیال اور ننھیال کے اُن سب بزرگوں کے سامنے زینت کی چیزیں اُسی طرح ظاہر کر سکتی ہے، جس طرح اپنے والد اور خسر (Father in Law) کے سامنے کر سکتی ہے۔

د۔ بیٹے

ہ۔ شوہروں کے بیٹے

و۔ بھائی

ز۔ بھائیوں کے بیٹے

ح ۔ بہنوں کے بیٹے

بیٹوں میں پوتے، پڑپوتے اور نواسے، پڑ نواسے، سب شامل ہیں اور اِس معاملے میں سگے اور سوتیلے کا بھی کوئی فرق نہیں ہے۔ یہی حکم بھائیوں اور بھائی بہنوں کی اولاد کا ہے۔ اِن میں بھی سگے، سوتیلے اور رضاعی، تینوں قسم کے بھائی اور بھائی بہنوں کی اولاد شامل سمجھی جائے گی۔

ط۔ اپنے میل جول اور تعلق و خدمت کی عورتیں

اِس سے واضح ہے کہ اجنبی عورتوں کو بھی مردوں کے حکم میں سمجھنا چاہیے اور اُن کے سامنے بھی مسلمان عورتوں کو اپنی چھپی ہوئی زینت کے معاملے میں محتاط رہنا چاہیے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ عورتوں کے صنفی جذبات بھی بعض اوقات عورتوں سے متعلق ہو جاتے ہیں۔ اِسی طرح یہ بھی ہوتا ہے کہ اُن کے محاسن سے متاثر ہو کر وہ مردوں کو اُن کی طرف اور اُنھیں مردوں کی طرف مائل کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔

جن عورتوں کے سامنے پوشیدہ زینتوں کے اظہار کی اجازت ہے،اُن کے لیے الفاظ ’نِسَآئِھِنَّ‘، یعنی’’اُن کی عورتیں‘‘آئے ہیں۔ اِس سے مراد میل جول اور تعلق و خدمت کی راہ سے متعلق ہو جانے والی عورتیں ہیں۔ یہاں صرف مسلمان عورتیں مراد لینے کا کوئی قرینہ موجود نہیں۔ مسلمان عورت اجنبی ہو تو وہ ’نِسَآئِھِنَّ‘کی مصداق نہیں ہے۔ اِخفاے زینت کے باب میں اُس سے ویسی ہی احتیاط کی جائے گی، جیسی نامحرم مردوں سے کی جاتی ہے۔ اِس کے برعکس، غیرمسلم عورت اگر تعلق اور جان پہچان والی ہو تو وہ ’نِسَآئِھِنَّ‘کے مصداق میں شامل ہے، اُس کے سامنے پوشیدہ زینتوں کا اظہار کیا جا سکتا ہے۔

ی۔ غلام

یہ اُس زمانے میں موجود تھے۔ ’مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُنَّ‘ کے جو الفاظ اُن کے لیے اصل میں آئے ہیں، اُن سے بعض فقہا نے صرف لونڈیاں مراد لی ہیں، لیکن اِس کا کوئی قرینہ اِن الفاظ میں موجود نہیں ہے۔

مولانا امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:

”اگر صرف لونڈیاں ہی مراد ہوتیں تو صحیح اور واضح تعبیر ’اَوْ اٰمَآئِھِنَّ‘ کی ہوتی، ایک عام لفظ، جو لونڈیوں اور غلاموں، دونوں پر مشتمل ہے، اِس کے لیے استعمال نہ ہوتا۔ پھر یہاں اِس سے پہلے ’نِسَآئِھِنَّ‘ کا لفظ آ چکا ہے جو اُن تمام عورتوں پر، جیسا کہ واضح ہو چکا ہے، مشتمل ہے جو میل جول اور خدمت کی نوعیت کی وابستگی رکھتی ہیں۔ اِس کے بعد لونڈیوں کے علیحدہ ذکر کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔‘‘ (تدبرقرآن 5/ 398)

ک۔ وہ لوگ جو گھر والوں کی سرپرستی میں رہتے ہوں اور زیردستی کے باعث یا کسی اور وجہ سے اُنھیں عورتوں کی طرف رغبت نہ ہو سکتی ہو۔ اِس کے لیے اُن کا نا مرد یا مخبوط الحواس ہونا ضروری نہیں۔

ل۔ بچے جو ابھی بلوغ کے تقاضوں سے واقف نہ ہوئے ہوں۔

شریعت کا قاعدہ ہے کہ دین کی ہدایات اپنی حقیقت یا علت پر مبنی ہوتی ہیں۔ جہاں وہ حقیقت پائی جاتی ہے، حکم وہاں متعلق ہو جاتا ہےاور جہاں نہیں پائی جاتی، وہاں حکم بھی متعلق نہیں ہوتا۔ زیب و زینت کے اخفا کے حکم کی حقیقت یا علت اُن سے پیدا ہونے والی غیرمعمولی کشش کو حد اعتدال میں رکھنا ہے تاکہ جنس مخالف کو دعوت نگاہ نہ ملے اور گناہ کے لیے خصوصی میلان پیدا نہ ہو۔ مذکورہ متعلقین میں وہ علتِ ممانعت نہیں پائی جاتی، اِس لیے اُنھیں استثنا دیا گیا ہے۔

اس کی تفصیل درج ذیل ہے:

شوہر کا معاملہ واضح ہے۔زیب و زینت سے عورت کے حسن میں جو کشش پیدا ہوتی ہے، وہ اُس کے لیے ممنوع نہیں، بلکہ مطلوب ہے۔

محرم رشتوں سے توقع نہیں ہوتی کہ وہ اپنی محارم خواتین کی زینت سے جنسی کشش محسوس کریں۔ یہی معاملہ میل جول اور خدمت گار خواتین کا ہے۔

زیر دستوں کے معاملے میں استثنا کی علت اُن کی زیر دستی ہے۔ اُن کے لیے سلبِ حواس، نا مردی یا کہنہ سالی کا ہونا ضروری نہیں۔ زیر دستی اور اپنی ضروریات کے لیے دوسروں پر انحصار خود ایک کافی وجہ ہے کہ ایسا شخص اپنے کفیل گھرانے کی خواتین سے متعلق اپنے اندر جنسی کشش یا میلان نہیں پاتا۔ اُس میں ایسا میلان پیدا ہو جائے تو اِس کے اظہار کی جرأت ‍ نہیں کر سکتا۔ البتہ زیر دستی کے باوجود اِس میں یہ میلان ظاہر ہو تو اُسے بھی استثنا نہیں ملے گا، کیونکہ جس علت کی بنا پر یہ استثنا دیا گیا تھا، وہ اِس صورت میں نہیں پائی جاتی۔

غلاموں میں زیر دستی کا عنصر بہت نمایاں ہے، اِسی بنا پر اُنھیں بھی استثنا حاصل ہے۔

نابالغ بچوں میں جنس مخالف کے لیے جنسی کشش کا داعیہ موجود نہیں ہوتا، اِس لیے اُنھیں بھی استثنا دیا گیا ہے۔

عام حالات میں مرد یا عورت کی طرف سے کسی بے اعتدالی یا تجاوز کا اندیشہ فریق مخالف کی سلبِ آزادی کا سبب نہیں بن سکتا۔ چنانچہ جس طرح عورتوں کی وجہ سے مردوں میں کسی فتنے کے پیدا ہونے کے اندیشے کی وجہ سے عورتوں پر بیان کردہ آدابِ اختلاط سے زائد کوئی پابندی عائد نہیں کی جا سکتی، اُسی طرح مردوں کی وجہ سےعورتوں میں کوئی فتنہ پیدا ہونے کے خدشے سے مردوں کی آزادیوں کو محدود نہیں کیا جا سکتا۔ کسی فریق کی بے اعتدالی اور تجاوز کے اقدامات کو وعظ و نصیحت اور، اگر ضروری ہو تو، قانون کی طاقت سے روکا جائے گا۔

اللہ تعالیٰ کی برپا کردہ آزمایش کی اسکیم کا یہ تقاضا ہے کہ نیکی اور بدی کے امکانات بالکل معدوم نہ کر دیے جائیں۔ رہبانیت اِسی رجحان سے پیدا ہوتی ہے۔ آداب کی رعایت کے ساتھ تزکیے کی تربیت کے لیے بھی ضروری ہے کہ مردوزن کے اختلاط کی صورت میں آزمایش کا ایک میدان میسر رہے۔ نیز اِسی سے سماجی روابط پیدا ہوتے اور اُنھیں حدِ اعتدال میں رکھنے کی تربیت حاصل ہوتی ہے۔