جن اہل علم نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی راے کو اختیار کرتے ہوئے سورۂ نور میں اِخفاے زینت سے استثنا کا مصداق عورت کے لباس یا چادر کو قرار دیا، اُن کے ہاں آیتِ جلباب کی مراد اور سورۂ نور میں دی گئی اظہارِ زینت کی اجازت کے درمیان کوئی تعارض پیدا نہیں ہوتا۔ ہر دو صورتوں میں عورت کے مکمل حجاب کا مفہوم سامنے آتا ہے۔ اُن کے مطابق اِخفاے زینت سے استثنا صرف اضطراری یا اتفاقی صورتوں کا ہے، جیسے ہوا سے چادر کا اٹھ جانا، جس سے کوئی چھپی ہوئی زینت ظاہر ہو جائے یا کوئی چیز پکڑتے ہوئے ہاتھ یا چلتے ہوئے پاؤں کا ظاہر ہو جانا وغیرہ۔
مولانا مودودی کے ہاں یہ استدلال متعدد پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے ایک جامع انداز میں مرتب ہوتا ہے۔ اُن کے مطابق ’اِلاَّ مَا ظَھَرَ‘میں لفظ’ظَھَرَ‘ کا مطلب ’یُظْھِرُ‘ نہیں ہو سکتا، یعنی وہ زینت جو خواتین خود ظاہر کریں۔’ظَھَرَ‘ کے لفظ میں ارادتاً ظاہر کرنے کا مفہوم مراد نہیں۔ یہ فقط خود بہ خود ظاہر ہو جانے کے مفہوم پر دلالت کرتا ہے۔ چنانچہ عورت کا تمام بدن اُس کی زینتوں سمیت چھپایا جائے گا، سواے اُس زینت کے جس کا چھپانا ممکن نہ ہو یا وہ اتفاقاً کھل جائے تو اُس کی اجازت ہے۔مولانا لکھتے ہیں:
”ہم یہ سمجھنے سے بالکل قاصر ہیں کہ ’مَا ظَھَرَ‘ کے معنی ’مَا یُظْھِرُ‘ عربی زبان کے کس قاعدے سے ہو سکتے ہیں۔”ظاہر ہونے“ اور”ظاہر کرنے“میں کھلا فرق ہے، اور ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن صریح طور پر”ظاہر کرنے“ سے روک کر”ظاہر ہونے“ کے معاملے میں رخصت دے رہا ہے۔ اس رخصت کو”ظاہر کرنے“ کی حد تک وسیع کرنا قرآن کے بھی خلاف ہے۔“ (تفہیم القرآن 3/ 386)
اِس تفہیم کے مطابق عورت کے مکمل حجاب کا حکم سورۂ نور (24) کی آیت 31 اور سورۂ احزاب کی آیتِ جلباب، دونوں سے ثابت ہے۔ اِن میں کوئی تعارض نہیں۔
مولانا کا یہ موقف محل نظر ہے۔’مَا ظَھَرَ‘ کا معنی ظاہر ہونا ہے اور نہ ظاہر کرنا۔ یہ بہ صیغۂ ماضی ”جو ظاہر ہے“ کا مفہوم دیتا ہے۔ ارادتاً ظاہر کرنے کا مفہوم مراد ہوتا تو الفاظ بھی اِس کے مطابق لائے جاتے، جیسے’اِلا أن یظھر منھا‘۔
علامہ زمخشری نے’اِلاَّ مَا ظَھَرَ‘ کا مفہوم یوں بیان کیا ہے:
إلا ما جرت العادة والجبلة على ظهوره والأصل فيه الظهور.
(الكشاف3/ 231)
”اِن زینتوں کا استثنا ہے جو عادتاً اور جبلتاً ظاہر رہتی ہیں، اِس میں اصل چیز اِن کا ظہور ہے۔“
شاہ عبد القادر نے’’موضح القرآن“ میں الفاظ کی رعایت کو ملحوظ رکھتے ہوئے ترجمہ یوں کیا ہے:
”اور نہ دکھائیں اپنا سنگار مگرجو کھلی چیز ہے۔ “
قرآن مجید کی ایک اور آیت میں’مَا ظَھَرَ‘ کا استعمال اِس بات کو مزید واضح کر دیتا ہے:
قُلۡ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الۡفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنۡہَا وَ مَا بَطَنَ.
(الاعراف 7: 33)
”کہہ دو، میرے پروردگار نے تو صرف فواحش کو حرام کیا ہے، خواہ وہ کھلے ہوں یا چھپے۔“
”تفہیم القرآن “میں درج بالا آیت کا ترجمہ یوں ہے :
”اے محمد، ان سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں: بے شرمی کے کام خواہ کھلے ہوں یا چھپے ۔ “ (2/ 23)
مولانا تقی عثمانی کا ترجمہ یہ ہے:
”کہہ دو کہ: میرے پروردگار نے تو بے حیائی کے کاموں کو حرام قرار دیا ہے، چاہے وہ بے حیالی کھلی ہوئی ہو یا چھی ہوئی۔“ (آسان ترجمۂ قرآن 1/ 452)
مترجمین نے اِس آیت میں ’مَا ظَھَرَ‘ کا وہی مطلب لیا ہے جو الفاظ سے متبادر ہے، یعنی کھلی یا کھلی ہوئی ۔ یہاں بھی اگر مفہوم’جو ظاہر ہو جائیں‘، لیا جائے تو مطلب ہوگا کہ صرف وہ فواحش حرام ہیں جو خود بہ خود ظاہر ہو جائیں یا ناگزیر طور پر ظاہر ہو جائیں، یعنی وہ فواحش جو عام طور پر کھلے ہی ہوتے ہیں، وہ اِن میں شامل نہ ہوں گے اور حرام بھی قرار نہ پائیں گے۔ بالبداہت یہ مفہوم درست نہیں۔ چنانچہ سورۂ نور (24) کی آیت 31 میں بھی الفاظ کا وہی مفہوم لیا جائے گا جو اِن سے متبادر ہے، یعنی ”جو کھلا ہے“ ،” جو ظاہر ہے “ یا ”ظاہر رہنے والا ہے“۔ اِسی کو ہم ’الظاہر منھا‘، یعنی”ان میں سے ظاہر رہنے والی“زینتوں کے مفہوم سے ادا کر سکتے ہیں۔
حاصل کلام یہ ہے کہ سورۂ نور کی آیتِ زیر بحث میں’اِلاَّ مَا ظَھَرَ مِنْھَا‘سے وہ زینتیں مراد ہیں جو ظاہر رہتی ہیں اور عام طور پر لباس سے ڈھانپی نہیں جاتیں۔ یہ لباس اور چادر کی زینت کے علاوہ ہیں۔ اِن میں چہرے اور ہاتھوں کی زینت شامل ہے، کیونکہ چہرہ اور ہاتھ معمول کے مطابق ملبوس نہیں رکھے جاتے۔ اِنھیں ڈھانپنے کے لیے الگ سے اہتمام کرنا پڑتا ہے، جس سے غیر معمولی مشقت پیش آتی ہے۔ اِس سے بچانے کے لیے اِنھیں کھلا رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ یہاں شریعت کے اصولِ یُسر کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔
قرآن مجید میں اظہارِ زینت کے حدود کی تعیین اِس اصول پر مبنی ہے کہ خواتین کی زینت غیر معمولی طور پرمردوں کے لیے دعوت نگاہ نہ بنے، اِسی لیے معمولاً ظاہر رہنے والے اعضا کی زینت کو چھپانے کی ہدیت نہیں کی گئی۔ گریبان کی زینت کو چھپانے کا اہتمام اور آواز والے زیور کی آواز زور سے پیدا کرنے کی ممانعت کی وجہ بھی یہی ہے کہ اِن سے صنفِ مخالف کی غیرمعمولی توجہ حاصل ہوتی ہے۔