نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو مدینے میں جہاں کھلے دشمنوں کی طرف سے جنگوں اور سازشوں کا سامنا تھا، وہاں منافقین کی صورت میں چھپے ہوئے دشمنوں کی طرف سے دھوکا دہی اورافواہ سازی اور تہمت طرازی جیسے مسائل بھی درپیش تھے۔ رات کے وقت رفع حاجت کے لیے جاتی خواتین کو حیلوں بہانوں سے ہراساں کیا جاتا تھا۔
درج ذیل آیات منافقین کی اُن ریشہ دوانیوں کو بیان کرتی ہیں :
اِنَّ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ وَ اَعَدَّ لَہُمۡ عَذَابًا مُّہِیۡنًا وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ بِغَیۡرِ مَا اکۡتَسَبُوۡا فَقَدِ احۡتَمَلُوۡا بُہۡتَانًا وَّ اِثۡمًا مُّبِیۡنًا.
(الاحزاب 33: 57- 58)
’’اللہ اور اُس کے رسول کو جو لوگ اذیت پہنچا رہے ہیں، اُن پر اللہ نے دنیا اور آخرت، دونوں میں لعنت کر دی ہے اور اُن کے لیے اُس نے رسوا کر دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اور جو مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو (اِسی طرح اُن پر تہمتیں لگا کر)، بغیر اِس کے کہ اُنھوں نے کچھ کیا ہو، اذیت دے رہے ہیں، اُنھیں بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اُنھوں نے بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر لے لیا ہے۔‘‘
رات کے وقت گھروں سے باہر رفعِ حاجت کے لیے تمام خواتین نکلتی ہی تھیں۔ مدینے کے اوباش اِس موقع پر اُنھیں بہانے سے ستانے کی کوشش کرتے۔
سدی کا بیان ہے:
كان أناس من فساق أهل المدينة بالليل حين يختلط الظلام يأتون إلى طرق المدينة فيتعرضون للنساء، وكانت مساكن أهل المدينة ضيقة فإذا كان الليل خرج النساء إلى الطرق فيقضين حاجتهن، فكان أولئك الفساق يتبعون ذالك منهن، فإذا رأوا امرأة عليها جلباب قالوا: هذه حرة فكفوا عنها، وإذا رأوا المرأة ليس عليها جلباب قالوا: هذه أمة فوثبوا عليها.
(تفسیر ابن ابی حاتم 10/3155)
’’اہل مدینہ میں سے کچھ بدکردار لوگ رات کو اندھیرا پھیل جانے پر مدینہ کے راستوں میں آجاتے تھے اور عورتوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے تھے۔ اہل مدینہ کے گھر تنگ ہوتے تھے، اِس لیے رات کے وقت خواتین راستوں کی طرف نکل جاتیں اور قضاے حاجت کرتی تھیں۔ یہ بدکردار لوگ اُن کا پیچھا کرتے تھے۔ اگر وہ کسی عورت کو چادر میں ملبوس دیکھتے تو کہتے کہ یہ آزاد عورت ہے اور اُس سے تعرض نہیں کرتے تھے، لیکن ایسی عورت کو دیکھتے جس پر چادر نہیں تو کہتے کہ یہ باندی ہے اور اُس کے پیچھے پڑ جاتے۔۔‘‘
یہ حالات تھے، جن میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج، آپ کی بیٹیوں اور عام مسلمان خواتین کو ہدایت کی کہ وہ گھروں سے باہر اندیشے کی جگہوں پر جانے کے لیے نکلیں تو اپنی چادروں میں سے ایک چادر اوڑھ لیا کریں تاکہ وہ پہچانی جائیں کہ وہ خاندانی عورتیں ہیں اور کوئی اُن پر تہت لگانے کا موقع پا کر اُنھیں نہ ستائے۔ یہ منافقین کے قطعِ عذر کی ایک تدبیر تھی۔ اُنھیں خبردار کیا گیا کہ اِس کے بعد بھی وہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو نظم اجتماعی اُن کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، اُن کے ساتھ فساد فی الارض کے مجرموں والا سلوک کیا جائے گا اوراُنھیں مدینے سے کھدیڑ دیا جائے گا۔ارشاد ہوا ہے:
یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ یُدۡنِیۡنَ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ جَلَابِیۡبِہِنَّ ؕ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَنۡ یُّعۡرَفۡنَ فَلَا یُؤۡذَیۡنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا لَئِنۡ لَّمۡ یَنۡتَہِ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ وَّ الۡمُرۡجِفُوۡنَ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ لَنُغۡرِیَنَّکَ بِہِمۡ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوۡنَکَ فِیۡہَاۤ اِلَّا قَلِیۡلًا مَّلۡعُوۡنِیۡنَ اَیۡنَمَا ثُقِفُوۡۤا اُخِذُوۡا وَ قُتِّلُوۡا تَقۡتِیۡلًا.
(الاحزاب 33: 59 – 61)
’’(اِن کی شرارتوں سے اپنی حفاظت کے لیے)، اے نبی، تم اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور سب مسلمانوں کی عورتوں کو ہدایت کر دو کہ (اندیشے کی جگہوں پر جائیں تو) اپنی چادروں میں سے کوئی بڑی چادر اپنے اوپر ڈال لیا کریں۔ اِس سے امکان ہے کہ الگ پہچانی جائیں گی تو ستائی نہ جائیں گی۔ اِس کے باوجود (کوئی خطا ہوئی تو) اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔یہ منافقین اگر (اِس کے بعد بھی) اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے اور وہ بھی جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جو مدینہ میں لوگوں کو بھڑکانے کے لیے جھوٹ اڑانے والے ہیں تو ہم اُن پر تمھیں اکسا دیں گے، پھر وہ تمھارے ساتھ اِس شہر میں کم ہی رہنے پائیں گے۔اُن پر پھٹکار ہو گی، جہاں ملیں گے، پکڑے جائیں گے اور بے دریغ قتل کر دیے جائیں گے۔‘‘
غامدی صاحب لکھتے ہیں:
”اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات، آپ کی بیٹیوں اور عام مسلمان خواتین کو مزید یہ ہدایت فرمائی کہ اندیشے کی جگہوں پر جاتے وقت وہ اپنی کوئی چادر اپنے اوپر ڈال لیا کریں تاکہ دوسری عورتوں سے الگ پہچانی جائیں اور اُن کے بہانے سے اُن پر تہمت لگانے کے مواقع پیدا کرکے کوئی اُنھیں اذیت نہ دے۔‘‘
(میزان 471)
منافقین کی اِن شرارتوں کا ہدف چونکہ آزاد خاندانی مسلمان خواتین تھیں، اِس لیے چادر اوڑھ کر باہر نکلنے کی یہ تدبیر بھی اُنھی کے لیے مقرر کی گئی۔خاندانی خواتین کی یہ امتیازی علامت پہلے سے معروف تھی، جسے اب سرکاری اعلامیے کے ساتھ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا تاکہ اوباشوں کے خلاف نظم اجتماعی کی طرف سے کارروائی سے پہلے اُن کا عذر ختم کر دیا جائے۔
خواتین کے لیے چادر اوڑھنے کا جو مقصد آیت بالا میں لفظا ً بیان ہوا ہے، وہ یہ ہے:
ذالک ادنی اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ.
’’اِس سے امکان ہے کہ الگ پہچانی جائیں گی تو ستائی نہ جائیں گی۔‘‘
اِس ہدایت کی علت ستر پوشی، پاکیزہ روی یا تحفظِ عصمت وغیرہ بیان نہیں ہوئی، جو اِس کو ایک عمومی اور مستقل حکم بنا دیتی۔ چادر اوڑھنے کو مسلمان عورت کی پہچان کے طور پر بھی متعارف نہیں کرایا گیا۔ چادر کم حیثیت لونڈیوں کے مقابلے میں خاندانی خواتین کا امتیاز قائم کرنے کے لیے مقرر کی گئی تھی تاکہ کوئی اُنھیں ہلکا نہ لے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی نوعیت کی بعض مصلحتوں کے پیشِ نظر عورتوں کو تنہا لمبا سفر کرنے اور راستوں میں مردوں کے ہجوم کا حصہ بن کر چلنے سے منع فرمایا۔
آیت جلباب میں ’يُدۡنِينَ عَلَيۡهِنَّ مِن جَلابِيبِهِنَّ‘ ( اپنی چادروں میں سے کوئی بڑی چادر اپنے اوپر ڈال لیا کریں) کے الفاظ کا مفہوم چادر اوڑھ لینا یا اپنے اوپر ڈال لینایا اپنے قریب کر لینا ہے۔ لیکن چادر کو منہ پر ڈال کر گھونگھٹ نکال لینے کا مفہوم اِن الفاظ سے نہیں نکلتا۔ یہ مفہوم اگر مقصود ہوتا تو الفاظ بھی اُس کے مطابق ہونے چاہییں تھے، جیسے ’يُدۡنِيْنَ عَلَيۡهِنَّ مِن جَلَابِيْبِهِنَّ‘۔
یہ چادر کس انداز سے اوڑھی جائے، اِس کا کوئی طریقہ آیت میں بیان نہیں ہوا۔ اِس کی متعدد صورتیں مختلف روایات میں بیان ہوئی ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مختلف خواتین اپنے ذوق اور عادت کے مطابق اِسے مختلف انداز میں اوڑھتی تھیں۔ اِن میں سے کوئی بھی طریقہ اِس ہدایت پر عمل کے لیے لازمی حیثیت نہیں رکھتا۔ نیز رات کے وقت چہرہ پہلے ہی اندھیرے میں ہوتا ہے، چادر سے اُسے چھپانے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ چنانچہ الفاظ کی دلالت کی رو سے چہرہ ڈھانپنے کا مفہوم یہاں مراد نہیں لیا جا سکتا۔ کوئی قرینہ یا عقلی تقاضا بھی موجود نہیں جو چہرہ ڈھانپنے کو اِس ہدایت کی مراد باور کرا سکے۔
’يُدۡنِيْنَ عَلَيۡهِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِهِنَّ‘ میں’مِنْ ‘تبعیض کے لیے ہے، جس کے دو مطلب بیان کیے جاتے ہیں: ایک یہ کہ اپنی چادروں کا کچھ حصہ اپنے اوپر لے لیں اور دوسرا یہ کہ اپنی چادروں میں سے کوئی چادر اپنے اوپر لے لیں۔ غامدی صاحب نے دوسرا معنی اختیار کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں:
”اصل میں ’یُدْنِیْنَ عَلَیْھِنَّ مِنْ جَلاَبِیْبِھِنَّ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن میں تبعیض ہمارے نزدیک ’جِلْبَابًا مِّنْ جَلاَبِیْبِھِنَّ‘ کے مفہوم پر دلالت کے لیے ہے، یعنی اپنے گھروں میں موجود چادروں میں سے کوئی بڑی چادر جو بالعموم اوڑھنی کے اوپر لی جاتی تھی۔“ (البیان 4/162)
خلاصہ یہ ہے کہ منافقین خواتین کے درپے آزار تھے، اُن پر تہمت دھرنے کے لیے موقع تلاش کرتے کہ انھوں نے لونڈی سمجھ کر اُن سے کوئی بات کرنا چاہی تھی۔ اِس تناظر میں خواتین کو اپنی چادریں اوڑھ کر باہر نکلنے کی تدبیر بتائی گئی تھی تاکہ منافقین پہچان لیں کہ یہ خاندانی عورتیں ہیں، اِن سے چھیڑ چھاڑ مہنگی پڑے گی۔ اِس طرح نظم اجتماعی کی طرف سے اُن کے خلاف کارروائی سے پہلے اُن کا عذر ختم کر دیا گیا۔
یہ ایمرجنسی کی صورت حال تھی، جس میں مذکورہ تدبیر اختیار کی گئی۔ ایمرجنسی کی صورتِ حال میں اختیار کردہ تدابیر کو مستقل اور عام حکم کے طور پر اختیار نہیں کیا جاتا، اِس لیے خواتین کے لیے چادر اوڑھ کر باہر نکلنے کی اِس ہدایت کو دین میں کسی مستقل حکم کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ لباس اور حلیے میں اِس طرح کی امتیازی شناختیں جس طرح خطرات اور اندیشوں کے سد ِباب کے لیے اختیار کی جاتی ہیں، اُسی طرح تدبیر کا تقاضا ہو تو اُنھیں ترک بھی کیا جا سکتا ہے۔
کسی بھی مہذب سماج میں باحیا خواتین کی عزت و وقار کے اظہار کے لیے اُن کے لباس میں جو بھی انداز اور علامات مقررہوں، اُنھیں اِس طرح کی صورتِ حال میں اختیار کیا جا سکتا ہے۔