سورۂ نور (24) کی آیت 31 میں اللہ تعالیٰ نے خواتین کو اپنے گریبان کی زینت کو اپنے آنچلوں سے ڈھانپ کر رکھنے کی خاص تاکید فرمائی ہے۔ ارشاد ہوا ہے:
وَ لَا یُبۡدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنۡہَا وَ لۡیَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوۡبِہِنَّ.
”اور اپنی زینت کی چیزیں نہ کھولیں، سواے اُن کے جو اُن میں سے کھلی ہوتی ہیں اور اِس کے لیے اپنی اوڑھنیوں کے آنچل اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں۔“
آیت میں لفظ’ خُمُر‘ آیا ہے جو’خِمار‘کی جمع ہے۔ خِمار سرپوش کو کہتےہیں۔ خِمار سے سر ڈھانپنا اِس کا ایک عام استعمال ہے۔ اِس کے اِس استعمال سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ خِمار چونکہ سر پر ہوتا ہی ہے، اِس لیے جب گریبان پر اِسے ڈالنے کا حکم دیا گیا ہے تو سر سے گریبان تک آتے ہوئے یہ چہرے کو بھی چھپا لیتا ہے، اِس لیے چہرے کو ڈھانپنا گریبان کو ڈھانپنےکے حکم میں شامل ہے۔
ابن عثیمین لکھتے ہیں:
فإن الخمار ما تخمر به المرأة رأسها وتغطيه به كالغدفة فإذا كانت مأمورة بأن تضرب بالخمار على جيبها كانت مأمورة بستر وجهها، إما لأنه من لازم ذلك، أو بالقياس فإنه إذا وجب ستر النحر والصدر كان وجوب ستر الوجه من باب أولى؛ لأنه موضع الجمال والفتنة.
(رسالۃ الحجاب11)
”خمار وہ کپڑا ہے جس سے عورت اپنے سر کو ڈھانپتی ہے، جیسے پردہ۔ جب عورت کو حکم دیا گیا کہ وہ خمار کو اپنی گریبان پر ڈالے تو اُسے اپنے چہرے کو ڈھانپنے کا بھی حکم دیا گیا ہے، ایک تو اِس لیے کہ یہ اِس کا لازمی نتیجہ ہے یا یہ قیاسی طور پر واجب ہے، کیونکہ جب گردن اور سینے کو ڈھانپنا واجب ہے تو چہرے کو ڈھانپنے کی ضرورت تو بدرجۂ اولیٰ ہوگی، کیونکہ چہرہ حسن اور فتنہ کا مقام ہے۔“
اِس استدلال کی غلطی یہ ہے کہ چیز کے استعمال کو اُس کے مفہوم میں شامل کر دیا گیا ہے۔ یہ لغوی مفہوم میں استدلالی یا عقلی معنی پیدا کرنے کی ایک مثال ہے، جو درست نہیں۔ چیز کے استعمالات اُس کے مفہوم میں شامل نہیں ہوتے۔ اِس بات کو اِس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ اردو میں دوپٹا اُس کپڑے کو کہتے ہیں جوعام طور پر دو (2) پٹّے بنا کر دونوں کاندھوں کے اطراف میں ڈالا جاتا ہے۔ اِس مناسبت سے اِس کا نام دوپٹا پڑا۔ اب اِس وجہ سے کہ اِس کپڑے کا نام دوپٹا ہے، یہ لازم نہیں کہ اِسے جب بھی اوڑھا جائے تو وہ دونوں کاندھوں سے ہوتا ہوا آئے۔ دوپٹا سر پر ہو، کمر پر باندھا ہو، ایک کاندھے پر ڈال لیا گیا ہو یا سارے بدن پر پھیلا کر لیا گیا ہو، ہر صورت میں یہ دوپٹا لینا یا دوپٹا اوڑھنا کے مفہوم میں داخل ہے۔
یہی معاملہ خِمار کا ہے۔ خِمار کے نام یا اُس سے سرپوشی کے عمومی استعمال سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہی ایک مخصوص انداز اِس کے مفہوم میں بھی شامل ہے۔ خِمار کو گریبان پر ڈالنے کے لیے ضروری نہیں کہ یہ سر سے گریبان تک آئے۔ گریبان کو ڈھانپنے کا حکم گریبان تک ہی رکھا جائے گا۔
قیاسی طور پر بھی یہ لازم نہیں کہ گریبان کو ڈھانپنے کے حکم سے چہرے کو بدرجۂ اولیٰ ڈھانپنا مراد لیا جائے، کیونکہ چہرہ محل جمال و فتنہ ہے، جو گریبان سے زیادہ پرکشش ہے۔ درحقیقت، شرم گاہ محل شہوت ہوتی ہے، اِسے آشکار کرنا فتنے کا سبب بن سکتا ہے، اِس لیے شرم گاہوں کو ڈھانپنے کا حکم ہے۔ عورت کا سینہ شرم گاہ ہے اور گریبان اُس سے ملحق ہے، اِس لیے اُس پر زینت کی گئی ہو تو اُسے ڈھانپنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اِس کے برعکس، چہرہ محل جمال ہے، جو جمالیاتی احساس کو چھوتا ہے، اِس لیے چہرے کو گریبان پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔
اِس بات کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ عورتوں کے لیے مردوں کا چہرہ بھی محل جمال ہے۔ مگر اِس وجہ سے کہ عورتیں مردوں کا چہرہ دیکھ کر کسی فتنے کا شکار ہو سکتی ہیں، مردوں کو چہرے ڈھانپنے کا حکم نہیں دیا جاتا، بلکہ عورتوں پر لازم ہے کہ اپنی نگاہوں اور جذبات کو قابو میں رکھیں۔ اِسی طرح عورتوں کے چہرے کو اِس وجہ سے ڈھانپنے کا حکم نہیں دیا جا سکتا کہ کچھ مردوں کی اخلاقی تربیت میں کمی کی وجہ سے محل جمال بھی اُن کے لیے شہوت انگیزی کا سبب بن جاتا ہے۔ ایسے مردوں کو بھی غض بصر کی ہدایت یاد دلائی جائے گی۔
آنچل کو گریبان پر ڈالنے کے اِس حکم میں چہرے کو ڈھانپنے کا ذکر نہ ہونا اِس بات کا واضح قرینہ ہے کہ چہرے کو ڈھانپنا آیت کا مقصود نہیں، ورنہ یہی موقع اِس کے ذکر کا تھا، لیکن چہرے کو ڈھانپنے کی ہدایت اگر یہاں دی جاتی تو یہ’اِلَّا مَا ظَھَرَمِنْھَا‘کے تحت اِخفاے زینت میں دیے گئے استثنا کے خلاف ہو جاتی ، جو اُن اعضاے زینت کو کھلا رکھنے کی اجازت دیتا ہے جو عام طور پر کھلے رہتے ہیں اور چہرہ اُن میں شامل ہے۔
عورت کی سرپوشی کا حکم بھی اِس آیت سے نہیں نکلتا۔ سر شرم گاہ میں شامل نہیں ہے اور نہ شرم گاہ سے ملحق حصہ ہے کہ اُسے ڈھانپنے کا حکم دیا جاتا۔ یہ عادتاً کھلے رہنے والے اعضا میں بھی شمار نہیں ہوتا کہ’اِلاَّ مَا ظَھَرَمِنْھَا‘ کے استثنا میں اِسے شامل سمجھا جائے۔ اِس بنا پر سرپوشی کا کوئی شرعی حکم تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، ایک تہذیبی قدر کے طور پر مسلم خواتین ہمیشہ سے سر ڈھانپتی رہی ہیں۔ یہ رویہ بھی قرآن مجید کے اشارات سے پیدا ہوا ہے:
اِس حوالے سے غامدی صاحب اپنی کتاب”مقامات“ میں لکھتے ہیں:
”اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے کہ مسلمان عورتیں اپنے ہاتھ، پاؤں اور چہرے کے سوا جسم کے کسی حصے کی زیبایش، زیورات وغیرہ اجنبی مردوں کے سامنے نہیں کھولیں گی۔ قرآن نے اِسے لازم ٹھیرایا ہے۔ سر پر دوپٹا یا اسکارف اوڑھ کر باہر نکلنے کی روایت اِسی سے قائم ہوئی ہے اور اب اسلامی تہذیب کا حصہ بن چکی ہے۔ عورتوں نے زیورات نہ پہنے ہوں اور بناؤ سنگھار نہ بھی کیا ہو تو وہ اِس کا اہتمام کرتی رہی ہیں۔ یہ رویہ بھی قرآن ہی کے اشارات سے پیدا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ دوپٹے سے سینہ اور گریبان ڈھانپ کر رکھنے کا حکم اُن بوڑھیوں کے لیے نہیں ہے جو نکاح کی امید نہیں رکھتی ہیں، بشرطیکہ وہ زینت کی نمایش کرنے والی نہ ہوں۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ وہ اپنا یہ کپڑا مردوں کے سامنے اتار سکتی ہیں، اِس میں کوئی حرج نہیں ہے، مگر ساتھ ہی وضاحت کر دی ہے کہ پسندیدہ بات اُن کے لیے بھی یہی ہے کہ احتیاط کریں اور دوپٹا سینے سے نہ اتاریں۔ اِس سے واضح ہے کہ سر کے معاملے میں بھی پسندیدہ بات یہی ہونی چاہیے اور بناؤ سنگھار نہ بھی کیا ہو تو عورتوں کو دوپٹا سر پر اوڑھ کر رکھنا چاہیے۔ یہ اگرچہ واجب نہیں ہے، لیکن مسلمان عورتیں جب مذہبی احساس کے ساتھ جیتی اور خدا سے زیادہ قریب ہوتی ہیں تو وہ یہ احتیاط لازماً ملحوظ رکھتی ہیں اور کبھی پسند نہیں کرتیں کہ کھلے سر اور کھلے بالوں کے ساتھ اجنبی مردوں کے سامنے ہوں۔“ (307 - 308)
گریبان کو ڈھانپنے کا حکم اُس صورت میں دیا گیا ہے جب گریبان پر زینت کی گئی ہو، اِس کا مفہوم مخالف یہ نکلتا ہے کہ گریبان پر زینت نہ کی گئی ہو تو اُس پر آنچل ڈالنے کا حکم اِس آیت کی مراد نہیں۔
معاصر اہل علم ڈاکٹر عامر گزدر نے حجاب کے موضوع پر اپنے ڈاکٹریٹ کے مقالے ”مواقف العلماء من احکام الحجاب و الاختلاط قدیمًا و حدیثًا“ میں اِس موقف پر درج ذیل اعتراضات وارد کیے ہیں:
”’لا یبدین زینتھن‘ (اور اپنی زینت کی چیزیں نہ کھولیں) کے عموم میں عورت کے سینے سمیت تمام اعضاے زینت شامل ہیں، سواے چہرے، ہاتھ اور پاؤں کے، جنھیں ’الا ما ظھر منھا‘ (سواے اُن کے جو اُن میں سے کھلی ہوتی ہیں) کے تحت استثنا حاصل ہے۔ سینہ، گردن اور گریبان اِس استثنا میں شامل نہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اِخفاے زینت کے حکم میں سینے، گریبان اور گردن کی زینت کو ڈھانپنا بھی شامل ہے۔ اب اگر’ولیضربن بخمرھن علی جیوبھن‘(اور اِس کے لیے اپنی اوڑھنیوں کے آنچل اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں)کو ’لا یبدین زینتھن‘ (اور اپنی زینت کی چیزیں نہ کھولیں)کی تفسیر مانا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ عورتیں فقط گریبان کی زینت کو ڈھانپیں، دیگر زینتوں کو ڈھانپنا اِس حکم میں شامل نہیں، جیسے کلائیوں، بازوؤں کے بالائی حصے اور پنڈلیوں پر کی گئی زینت۔ یہ مراد لینے سے حکم اول اور حکم ثانی میں تعارض لازم آتا ہے۔ کیونکہ حکمِ اول کا عموم اِسے تسلیم نہیں کرتا، جس میں چہرے، ہاتھوں اور پاؤں کی زینت کے علاوہ تمام زینتوں کو ڈھانپنا شامل ہے۔
اگر گریبان اورسینے پر زینت ہونے کی صورت ہی میں لازم ہے کہ اُسے ڈھانپا جائے تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ سینے پر زینت نہ کی گئی ہو تو اُسے ڈھانپنے کا حکم نہیں ہے۔ اِس صورت میں حفظِ فروج کے حکم کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ گریبان ڈھانپا ہوا نہ ہو تو اُس میں سے سینے کا جھلک جانا ممکن ہے۔
عمر رسیدہ عورتوں کو مردوں کے سامنے اپنا دوپٹا اتارنے کی رخصت عدمِ تزیین اور عدمِ تبرج کی شرط کے ساتھ دی گئی ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ جو عورتیں بوڑھی نہیں ہیں، اُنھیں عدمِ زینت کے باوجود مردوں کی موجودگی میں دوپٹا اتارنے کی اجازت نہیں ہے،اِ س لیے گریبان ڈھانپنے کا حکم اخفاے زینت کے حکم کی تفصیل نہیں ہوسکتا۔“
(297 - 298)
اِس کے جواب میں عرض ہے کہ گریبان کو ڈھانپنے کا حکم ’وَلاَ یُبْدِیْنِ زِیْنَتَھُنَّ‘ (اور اپنی زینت کی چیزیں نہ کھولیں) کی تفسیرمطلق نہیں ہے، بلکہ خصوص کا بیان ہے، یعنی اگر زینت کی گئی ہو تو خاص طور پر گریبان کو ڈھانپا جائے۔ اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ صرف گریبان ہی کو ڈھانپا جائے۔ اِسی آیت میں آگے دوسرا عطف بھی ہے جو ایک اور خصوص کو بیان کرتا ہے، یعنی ’وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ‘ (اور اپنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلیں کہ اُن کی چھپی ہوئی زینت معلوم ہو جائے)۔ یہ دونوں عطف، عطف الخاص علی العام ہیں۔
چہرے اور ہاتھوں کے علاوہ اعضاے زینت میں سے گریبان کی زینت ہی نمایاں ہوتی ہے۔گردن اور اُس سے متصل گریبان کا اوپری حصہ (نحر اور عنق) عموماً ملبوس نہیں ہوتے۔ اِس لیے اِنھیں’اِلاَّ مَا ظَھَرَ مِنْھَا‘کے استثنا میں شامل سمجھ کر اِن پر کی گئی زینت کو بھی ظاہر رکھنے کا استنباط کیا جا سکتا تھا، مگر گریبان سینے سے متصل ہے اورسینہ فروج میں شامل ہے۔اِس وجہ سے اِسے چھپانے کا حکم بھی سمجھا جا سکتا تھا۔ چنانچہ یہاں ابہام پیدا ہوتا ہے، جسے دور کرنے کے لیے گریبان کی زینت کو ڈھانپنے کا واضح حکم دیا گیا۔
زینت کی صورت میں گریبان کو ڈھانپنے کے خصوصی ذکرسے یہ لازم نہیں آتا کہ بغیر زینت کے گریبان کھلا رہنے دیا جائے۔یہ معلوم ہے کہ سینہ فروج میں شامل ہے، اِس لیے حفظِ فروج کے حکم کے تحت ایسا اہتمام بہرحال ضروری ہے کہ گریبان سے سینہ نہ جھلکے، بلکہ سینے کے ابھار بھی کپڑے کے اندر سے نمایاں نہ ہوں۔
کلائیاں ہاتھوں سے متصل ہیں، اِس لیے ان پر کی گئی زینت کا شمار ہاتھوں کی زینت کے ساتھ کرنا ہی مناسب ہے، جسے اِخفاے زینت سے استثنا حاصل ہے ۔چنانچہ کلائیوں پر کی گئی زینت ظاہر رکھی جا سکتی ہے۔ البتہ بازوؤں کا بالائی حصہ اور پنڈلیاں حفظِ فروج کے حکم کے تحت ڈھانپ کر رکھی جائیں گی، کیونکہ یہ اعضا فروج کے قریب ہیں۔ اِن پر اگر زینت کی گئی ہو تو بدرجۂ اولیٰ اُنھیں ڈھانپ کر رکھا جائے گا۔ اِن کا حکم حفظِ فروج کے حکم سے برآمد ہوتا ہے۔
سینے کو بہ اہتمام ڈھانپنے کا حکم حفظِ فروج کی ہدایت میں پہلے سے شامل ہے۔’وَ لۡیَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوۡبِہِنَّ‘ (اور اِس کے لیے اپنی اوڑھنیوں کے آنچل اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں)کے حکم میں سینے کو ڈھانپ کر رکھنے کے حکم کو دہرایا نہیں گیا اور نہ ہی اِس کی ضرورت تھی۔ یہاں’جیوب ‘،یعنی گریبان کی زینت کو ڈھانپنے کا حکم ہے۔ سینہ یہاں زیرِبحث ہی نہیں۔ اگر کسی وجہ سے سینے کو ڈھانپنے کا حکم علیحدہ سے بیان کرنے کی ضرورت تھی تو اُس کی جگہ حفظِ فروج کے حکم کے متصل بعد تھی، نہ کہ اِخفاے زینت کے بیان کے ذیل میں، جو ’و لَا یُبۡدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ‘ (اور اپنی زینت کی چیزیں نہ کھولیں) کے الفاظ سے شروع ہوتا ہے۔
عمر رسیدہ عورتوں کو دوپٹا اتارنے کی اجازت عدمِ زینت کی شرط کے ساتھ نہیں، بلکہ عدمِ تبرج کی شرط کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ ہر اظہارِ زینت تبرج نہیں ہوتا۔ تبرج کا مطلب یہ ہے کہ زینت کی نمایش اِس طرح کی جائے کہ وہ شہوت انگیز ہو جائے۔ تبرج سے بچنے کی ہدایت اُسی صورت میں کی جا سکتی ہے جب زینت کی گئی ہو، اِس لیے بوڑھی عورتوں کے لیے دوپٹا اوڑھنے سے رخصت کا تعلق اُن کے لیے اظہارِ زینت کی اجازت سے متعلق ہے، اور یہ رخصت جوان عورتوں کے لیے نہیں ہے۔اِس کا پردے کے حکم سے کوئی تعلق نہیں۔ آدابِ اختلاط کے علاوہ عورتوں کے لیے پردہ کا کوئی مستقل حکم موجود نہیں ہے۔