خلاصۂ کلام

اختلاطِ مردوزن کے آداب درج ذیل ہیں:

  • گھروں میں داخل ہونے کےلیے سلام اور اپنا تعارف کراتے ہوئے اجازت طلب کی جائے۔ اجازت ملے تو داخل ہوا جائے، نہ ملے تو برا مانے بغیر رخصت ہو جانا چاہیے۔
  • پبلک مقامات پر اجازت طلب کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
  • مردوں اور عورتوں کا آمنا سامنا ہو تو دونوں کو حکم ہے کہ اپنی نگاہوں کو ادب و حیا کی حد میں اور شرم گاہوں کو اچھی طرح سے ڈھانپ کر رکھیں۔
  • عورتوں نے اگر زیب و زینت کر رکھی ہو تو وہ اُنھیں نا محرم مردوں کے سامنے ڈھانپ کر رکھیں، خاص طور پر گریبان کی زینت کو اپنے آنچلوں سے چھپائیں۔ تاہم، جو زینتیں عام طور پر آشکار رہتی ہیں، جیسے چہرے، ہاتھوں اور پاؤں کی زینتیں یا لباس یا چادر کی زینت، اُن کے کھلے رہنے میں کوئی حرج نہیں۔
  • محرم رشتوں، جان پہچان کی خواتین، نابالغ بچوں، خادموں اور عورتوں کی طرف میلان نہ رکھنے والے زیر دست مردوں کے سامنے عورتیں اپنی پوشیدہ زینتیں ظاہر کر سکتی ہیں۔
  • بوڑھی عورتوں کو سہولت دی گئی ہے کہ وہ نامحرم مردوں کی موجودگی میں اپنی زینتوں کو نہ ڈھانپیں، البتہ اُن کے لیے بھی بہتر یہی ہے کہ اِنھیں ڈھانپ کر رکھیں۔
  • اِن آداب کے ساتھ مردوزن اپنے رشتہ داروں، دوستوں، معاشرے کے غربا اور محتاج افراد کے ساتھ میل ملاقات رکھ سکتے ہیں۔