لونڈی کا ستر

فقہا کے مطابق، لونڈی کا ستر مرد کے ستر کے برابر، یعنی ناف سے گھٹنے تک ہے۔

یہ موقف کسی نص پر مبنی نہیں ہے۔ یہ اُس دور سے متعلق ہے جب غلام لونڈیوں کا رواج تھا اور لونڈیاں اپنی اخلاقی تربیت کی کمی کی وجہ سے اپنا بدن ڈھانپنے میں زیادہ احتیاط نہیں برتتی تھیں۔ اُنھیں سر ڈھانپ کر رکھنے کی اجازت بھی نہیں تھی۔ نیز اُن کی خرید و فروخت کے دوران میں اُن کے خد و خال کا جائزہ لینے کا بھی معمول تھا۔ اِس کلچر کو تبدیل ہونے میں وقت لگا۔ شریعت سے اِس کا تعلق نہیں ہے۔ ابن تیمیہ لکھتے ہیں:

فإن الفقهاء يسمون ذلك: باب ستر العورة وليس هذا من ألفاظ الرسول ولا في الكتاب والسنة أن ما يستره المصلي فهو عورة.

(حجاب المرأة ولباسہا فی الصلاة 27)

”ان (احکام) کو فقہا نے ستر کا موضوع بنایا ہے، دراں حالیکہ اِن معنوں میں یہ الفاظ نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے استعمال فرمائے، نہ قرآن میں آئے، نہ سنت میں کہ نمازی کے لیے جن اعضا کو ڈھانپ کر رکھنا ضروری ہے، وہی ستر ہے۔“

اسلام جس قسم کی معاشرت پیدا کرتا ہے، اُس میں مرد وعورت، دونوں کے جنسی اور صنفی اعضا کو ڈھانپ کر رکھنا مطلوب ہے، چاہے وہ لونڈی ہی کیوں نہ ہو۔