قرآن مجید میں خواتین کو جن افراد کے سامنے اظہارِ زینت کی اجازت دی گئی ہے، اُن میں مملوک بھی شامل ہیں۔ اُن کے لیے قرآن مجید نے وہی جامع تعبیر استعمال کی ہے جس میں غلام اور لونڈی، دونوں شامل ہوتے ہیں، یعنی ’مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُنَّ‘، اُن کے داہنے ہاتھ جن کے مالک ہیں۔ چنانچہ مفسرین کی اکثریت اِسی کی قائل ہے کہ اِس میں غلام اور لونڈی، دونوں شامل ہیں۔ تاہم، مفسرین کا ایک گروہ اِس سے صرف لونڈیاں مراد لیتا ہے۔ اِن میں عبد اللہ بن مسعود، مجاہد، حسن بصری، ابن سیرین، سعید ابن مسیب، طاؤس اور امام ابوحنیفہ شامل ہیں۔ لیکن یہ موقف الفاظ کی دلالت کے خلاف ہے۔ ’مَا مَلَکَتْ‘کے الفاظ عام ہیں، جس طرح اِس میں مسلم اور غیر مسلم کی تخصیص داخل نہیں کی جا سکتی، اُسی طرح مرد اور عورت کی تخصیص بھی داخل نہیں کی جا سکتی۔
یہاں صرف لونڈیاں مراد ہوتیں تو اُن کے ذکر کی ضرورت ہی نہیں تھی، کیونکہ ’نِسَآئِھِنَّ ‘میں وہ پہلے ہی شامل سمجھی جا سکتی تھیں۔