مولانا مودودی کی ایک منفرد راے

مولانا مودودی کی ایک منفرد راے یہ ہے کہ مردوں کے لیے اپنی بیوی کے سوا محرم عورتوں کا تمام بدن، سواے اُن کے چہرے، ہاتھ اور پاؤں کے، ستر ہے۔ اِن اعضا کے سوا وہ اُن کے بدن کے کسی حصے کو دیکھ سکتے ہیں اور نہ چھو سکتے ہیں۔مولانا کے الفاظ یہ ہیں:

”اُنھیں (عورتوں کو) حکم دیا گیا ہے کہ اپنے چہرے اور ہاتھوں کے سوا تمام جسم کو لوگوں سے چھپائیں۔ اِس حکم میں باپ، بھائی، اور تمام رشتہ دار مرد شامل ہیں اور شوہر کے سوا کوئی مرد اِس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔“ (پردہ 225)

مولانا استدلال میں دو روایات پیش کرتے ہیں:

ایک یہ کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے بھتیجے عبد اللہ بن الطفیل کے سامنے بہ حالت زینت سامنے آئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسے پسند نہیں کیا اور فرمایا کہ عورت جب بالغ ہو جائے تو اُس کے لیے جائز نہیں کہ اپنے جسم میں سے کچھ ظاہر کرے ، سواے چہرے اور ہاتھوں کے۔ یہ کہہ کر آپ نے اپنی کلائی پر ہاتھ رکھ کر دکھایا کہ گرفت کے مقام اور ہتھیلی کے مقام کے درمیان ایک مٹھی کی جگہ باقی تھی۔

دوسری روایت حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے متعلق ہے۔ وہ باریک لباس میں آپ کے سامنے آئیں تو اُنھیں بھی آپ نے مذکورہ ہدایت فرمائی۔

اصولی طور پر، خبرِ واحد کسی نئے اور مستقل حکم کا ماخذ نہیں بن سکتی۔ نیز مولانا کا استدلال جن روایات پر مبنی ہے ، وہ صحت کے معیار پر بھی پوری نہیں اترتیں۔

اس کے برعکس، قرآن مجید میں سورۂ نور (24) کی آیت 31 میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ نامحرم مردوں کی موجودگی میں آشکار زینتوں کو چھپانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اِن میں چہرہ، ہاتھ اور پاؤں کی زینت شامل ہے۔ پھر یہ بھی بتایا گیا ہے کہ قریبی متعلقین کے سامنے چھپی ہوئی زینتیں ظاہر کی جا سکتی ہیں۔ یہ زینتیں آشکار زینتوں (چہرہ، ہاتھ اور پاؤں) سے زائد ہیں، جیسے گریبان اور سر کی زینت، جب کہ ستر کا معاملہ الگ ہے۔ ستر کے اعضا شوہر کے سوا کسی کے سامنے بغیر کسی ناگزیر ضرورت کے کھولنا جائز نہیں، اِس لیے مولانا کا استدلال درست قرار نہیں پاتا۔