سورۂ نور (24) کی آیت 31 میں عورتوں کی پوشیدہ زینتوں کے اظہار کی اجازت جن متعلقین کے لیے بتائی گئی ہے، اُن میں’نِسَآئِھِنَّ‘، (اُن کی عورتیں) بھی شامل ہیں۔یہ عورتیں کون ہیں؟ تفسیری روایت میں اِن سے مسلمان عورتیں مراد لی گئی ہیں۔ یہ موقف ایک روایت کے مطابق ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ مجاہد کی راے بھی اِس کے موافق ہے۔
آیت میں اصل الفاظ ’نِسَآئِھِنَّ‘ آئے ہیں، جن میں بلا تخصیص مذہب وہ تمام عورتیں شامل ہیں جنھیں ”اُن کی عورتیں“یا ”اپنی عورتیں “کہا جا سکتا ہے، یہ ایسی عورتیں ہی ہو سکتی ہیں جو جان پہچان اور تعلق و خدمت کی راہ سے متعلق ہوتی ہیں۔ اِن میں مسلمان عورتوں کی تخصیص پیدا کرنے کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔
اِسی آیت میں مذکورالفاظ ’مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھّنَّ‘ میں لونڈیوں کے سامنے پوشیدہ زینتوں کے اظہار کی اجازت دی گئی ہے۔ لونڈی چاہے مسلم ہو یا غیر مسلم، اُس کے سامنے اظہارِ زینت کی اجازت میں مفسرین کا اختلاف نہیں ہے۔ اب اگر ’نِسَآئِھِنَّ‘ سے صرف مسلمان عورتیں مراد لی جائیں تو غیر مسلم لونڈیوں کے سامنے اظہار زینت کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اگر لونڈیوں کے معاملے میں’مَامَلَکَتْ‘ کی عمومیت کو برقرار رکھتے ہوئے مسلم اور غیر مسلم کی تقسیم نہیں کی گئی ہے تو ’نِسَآئِھِنّ‘ کے عموم میں بھی مسلم عورتوں کا اختصاص پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن مجید کا مقصود اگر مسلمان عورتیں ہی ہوتا تو الفاظ بھی اُسی مناسبت سے آتے۔ چنانچہ ’نِسَآئِھِنَّ‘ سے وہی مفہوم مراد لیا جا سکتا ہے جو الفاظ سے متبادر ہے، یعنی اُن کی عورتیں، یعنی جو رشتہ داری، جان پہچان اور تعلق و خدمت کے واسطے سے متعلق ہو جاتی ہیں، جن کی عادات سے واقفیت ہوتی ہے، اِن میں مسلم اور غیر مسلم تمام عورتیں شامل ہیں، جب کہ اجنبی عورت، چاہے مسلم ہو یا غیر مسلم، اُس کے سامنے مسلمان عورتیں چھپی ہوئی زینتوں کے اظہار سے اجتناب برتیں گی۔ اجنبی عورتیں بھی نا محرم مردوں کے حکم میں داخل ہیں۔