پردے کی روایات پر تبصرہ

احادیث و روایات دین میں کسی مستقل حکم کا ماخذ نہیں بن سکتیں۔ یہ اطلاقی اور اتفاقی نوعیت کے واقعات پر مبنی ہوتی ہیں، یعنی اِن میں کسی اصول کے اطلاق کا ذکر ہوتا ہے یا یہ کسی اتفاقی صورت حال کا بیان ہوتی ہیں۔ معاملہ دینی نوعیت کا ہو تو اُس کی اصل قرآن مجید اور سنت متواترہ یا عمومی اخلاقیات میں موجود ہوگی اور روایت میں اُس کی اطلاقی صورت کا بیان ہوگا۔ دوسری صورت میں یہ کوئی اتفاقی معاملہ ہو سکتا ہے۔

اپنی نوعیت کے لحاظ سے حجاب کی روایات دو اقسام میں تقسیم کی جا سکتی ہیں:

1۔ وہ روایات جن میں ازواجِ مطہرات کے خصوصی پردے کا بیان آیا ہے۔ عام خواتین اِس خصوصی حجاب کی مخاطَب اور مکلف نہیں، اِس لیے اِس نوعیت کی روایات عام خواتین کے پردے کے لیے بناے استدلال نہیں بن سکتیں۔

2۔ وہ روایات جن میں عام خواتین کے چہرے کے حجاب کا ذکر ہے۔ یہ اُن کے ذاتی ذوق کا بیان ہے۔ اِس نوعیت کی روایات میں ایسی کوئی صراحت نہیں کہ ایسا اُنھوں نے کسی دینی حکم کی تعمیل میں کیا تھا۔

اِس سلسلے میں درج ذیل روایات پیش کی جاتی ہیں:

عن عبد الخبير بن ثابت بن قيس بن شماس، عن ابيه، عن جده، قال: جاءت امرأة الى النبي صلى اللّٰه عليه وسلم يقال لها أم خلاد وهي منتقبة تسأل عن ابنها وهو مقتول، فقال لها بعض أصحاب النبي صلى اللّٰه عليه وسلم: جئت تسألين عن ابنك وأنت منتقبة، فقالت: إن أرزأ ابني فلن أرزأ حيائي.

(ابو داؤد،رقم 2488)

”عبد الخبیر بن ثابت بن قیس بن شماس اپنے والد سے اور وہ اُن کے دادا سے روایت بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی، جس کو ام خلاد کہا جاتا تھا۔ وہ نقاب پوش تھی، وہ اپنے شہید بیٹے کے بارے میں پوچھ رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نے اُس سے کہا: تم اپنے بیٹے کو پوچھنے آئی ہو اور نقاب پہنے ہوئے ہو؟ اُس نے کہا: اگرچہ میں اپنے لڑکے کی جانب سے پریشان ہوں، مگر میری حیا کو کوئی پریشانی لاحق نہیں۔“

اِس روایت کی سند ضعیف ہے۔ تاہم، اِس سے کوئی استدلال ہو سکتا ہے تو یہ کہ خاتون کے چہرے پر نقاب ہونے پر حیرت کا اظہار یہ ظاہر کرتا ہے کہ نقاب اوڑھنا معمول نہ تھا، ورنہ یہ سوال پیدا نہ ہوتا۔

عن أسماء بنت أبي بكر رضي اللّٰه عنهما قالت: كنا نغطي وجوهنا من الرجال، وكنا نتمشط قبل ذلك في الإحرام.

(المستدرک، رقم1668)

”حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اُنھوں نے کہا: ہم مردوں سے اپنے چہرے ڈھانپ لیا کرتی تھیں اور اِس سے پہلے احرام کی حالت میں اپنے بالوں میں کنگھی کیا کرتی تھیں۔“

یہ معلوم ہے کہ حالتِ احرام میں خواتین کے لیے چہرہ اور ہاتھ نہ ڈھانپنے کا حکم ہے۔ روایت اگر درست ہے اور معاملہ حالتِ احرام سے متعلق ہے تو یہ کسی موقع پر اُن کے انفرادی عمل کا بیان ہے۔ یہ دین کا حکم نہ تھا اور نہ حضرت اسماء نے اِسے دینی حکم کے طور پر بیان کیا۔

حضرت عائشہ اور حضرت عبد اللہ ابن عباس سے مروی ایک اثر میں بیان ہوا ہے کہ حالتِ احرام میں نقاب اوڑھنے کی ممانعت کی وجہ سے عورت چاہے تو چہرہ چھپانے کے لیے چادر کو سر سے چہرے پر لٹکا سکتی ہے۔وہ اثر یہ ہے:

عن معاذة العدوية قالت: سألتُ عائشة رحمھا اللّٰه ‌ما ‌تلبسُ ‌المحرمة؟ فقالت: لا تنتقب ولا تتلثم، وتسدل الثوب على وجهها.

(اظہار الحق والصواب فی حكم الحجاب 159)

”حضرت معاذہ العدویہ کہتی ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: احرام کی حالت میں عورت کیا پہنے؟ تو اُنھوں نے جواب دیا: وہ نقاب نہ باندھے نہ ڈھاٹا، اور اپنے چہرے پر پردہ لٹکا لے۔“

یہ اثر چادر کو چہرے تک لٹکا لینے کو تجویز کرتا ہے، مگر لازم قرار نہیں دیتا۔ یہ’ان شاءت‘ (اگر وہ چاہے) کے اضافے کے ساتھ بھی روایت ہوا ہے۔وہ روایت یہ ہے:

المحرمة تلبس من الثياب ما شاءت إلا ثوبًا مسه ورس أو زعفران ولا تتبرقع ولا تلثم وتسدل الثوب على وجهها إن شاءت.

(السنن الكبرىٰ5/75)

”محرم عورت جو چاہے لباس پہن سکتی ہے، سواے اُس کپڑے کے جسے ورس یا زعفران لگا ہو۔ اور وہ نہ نقاب پہنے اور نہ کپڑے سے منہ ڈھانپے، تاہم، اگر چاہے تو اپنے چہرے پر کپڑا لٹکا سکتی ہے۔“

اس اثر کی بنیاد پر بعض فقہا نے حالتِ احرام میں عورتوں کے لیے یہ صورت تجویز کی ہے کہ چہرے کو چھپانے کے لیے ایسا کپڑا لٹکا لیں جو چہرے کو نہ چھوئے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حالتِ احرام میں خواتین کے چہرے کو کھلا رکھنے کی صریح ہدایت کے باوجود ایک اثر کی بنا پر عورت کا چہرہ چھپانے کی تجویز قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ یہ اصول یسر کے بھی خلاف ہے، جس کے تحت چہرے اور ہاتھوں کو کھلا رکھنے کی اجازت ہے۔ ایسا کپڑا جو چہرے پر ذرا فاصلے سے لٹکا رہے، اُسے برقرار رکھنے میں عام طریقے سے نقاب اوڑھنے سے زیادہ مشقت پیش آتی ہے۔

حج کے موقع پر چہرے اور ہاتھوں کو ڈھانپنے کی خصوصی ممانعت کی وجہ غالباً یہ ہے کہ عوام سے پردے میں رہنا طبقۂ اشراف کا وتیرہ رہا ہے۔ حج عبادت اور عاجزی کے اظہار کا موقع ہے، چنانچہ بڑائی کے اظہار کی علامات اپنانے سے منع کیا گیا ہے۔

مفسرین کے بعض بیانات سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ مدینے کے سماج میں خواتین حیا و عفت کے بارے میں، بالعموم کوتاہی کا شکار تھیں۔ اُن کا لباس پوری طرح ساتر نہ ہوتا تھا۔ 5 یا 6 ہجری تک اِس صورت حال کو گوارا کیا گیا، یہاں تک کہ مرد و زن کے اختلاط کے آداب اور جلباب اور حجاب سے متعلق ہدایات نازل ہوئیں تو لوگوں نے اُنھیں اختیار کر کے عفّت و حیا کا سبق سیکھا۔

حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی سماج کی طرح عرب معاشرت میں بھی عورتوں کے مختلف طبقات کے مختلف رجحانات پائے جاتے تھے۔ زیب و زینت کی نمایش کرنے والی بیگمات بھی تھیں اور لونڈیاں بھی، جو لباس و ستر کے معاملے میں زیادہ احتیاط نہیں برتتی تھیں، آبرو باختہ عورتیں بھی تھیں اور ایسی غریب بھی جن کے پاس تن ڈھانپنے کو پورے کپڑے نہ ہوتے تھے، مگر عمومی طور پر عورتیں ساتر لباس ہی پہنتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ روایات میں گاہے گاہے کسی خاتون کے غیر ساتر یا نا مناسب لباس پر تبصرے ملتے ہیں، لیکن عورتوں کے لباس کی کسی عمومی خرابی کا ذکر نہیں ملتا، اور نہ ایسا ممکن ہے کہ اِس قسم کی عمومی بے حیائی کو ایک عرصہ تک گوارا کیا گیا ہو۔

ایک روایت میں ذکر ہوا ہے کہ سورۂ نور کی آیات میں گریبانوں پر آنچل ڈال لینے کا حکم سن کر ایک موقع پر موجود خواتین نے اپنے سینے اور سر کو اہتمام کے ساتھ ڈھانپ لیا۔

اِس سلسلے کی اہک روایت یہ ہے:

عن عائشة رضي اللّٰه عنها قالت: يرحم اللّٰه نساء المهاجرات الأول، لما أنزل اللّٰه:”وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُيُوْبِهِنَّ“، شققن مروطهن ‌فاختمرن به.

(بخاری،رقم 4758)

”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: ’وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُيُوْبِهِنَّ‘ (اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رہا کریں) تو (انصار کی عورتوں نے) اپنے تہ بند کو دونوں کنارے سے پھاڑ کر اُن کی اوڑھنیاں بنا لیں۔“

اِس واقعے سے یہ سمجھنا درست نہ ہوگا کہ اِس ہدایت کے نازل ہونے سے پہلے عورتیں دوپٹے وغیرہ سے بے نیاز رہا کرتی تھیں اور اِس کے بعد وہ سینہ اور سر ڈھانپنے کی طرف متوجہ ہوئیں۔ یہ ایک موقع پر چند عورتوں سے متعلق ایک روایت ہے۔ معاملہ یوں ہوا کہ جب اُن کو علم ہوا کہ دوپٹا اوڑھنے سے متعلق اِس معاشرتی ادب کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی حکم نازل ہو گیا ہے تو اُنھوں نے اِس کے لیے مزید اہتمام سے کام لیا اور جن کے ہاں اِس بارے میں کوئی کوتاہی پائی جاتی تھی، وہ بھی متنبہ ہو گئیں۔

بعض روایات میں ذکر ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکاح سے پہلے عورت کو اُس کے گھر والوں کی اجازت سے دیکھ لینے کا مشورہ دیتے تھے۔ اِس سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ خواتین چونکہ مستور رہتی تھیں، اِس لیے اُنھیں دیکھنے کے لیے اہتمام اور اجازت کی ضرورت تھی۔

یہ استدلال بھی درست نہیں، اِس لیے کہ عورت کو نکاح کی غرض سے دیکھنے کی نظر عورت کے جسمانی محاسن کا جائزہ لینے کی نظر تھی، جس کی اجازت عام حالات میں، ظاہر ہے کہ نہیں تھی۔ اِس کے لیے خصوصی اجازت لینا ضروری تھا۔ مردوں اور عورتوں کے عمومی سماجی تعامل سے اِس کا کوئی تعلق نہیں۔