روایات میں ازواجِ مطہرات کے خصوصی پردے کا بیان

عہدِ نبوی اور عہدِ صحابہ وتابعین میں ازواجِ مطہرات کا حجاب اُن کا اختصاص اور امتیاز سمجھا جاتا تھا۔ عام خواتین اُسےاختیار نہیں کرتی تھیں۔ ازواجِ مطہرات کے حجاب کے احکام آ جانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن آزاد خواتین سے نکاح کیا یا اُس کی پیش کش کی، اُن کے لیے حجاب اختیار کرنے کو شرط قرار دیا گیا تھا۔ اِس سے واضح ہے کہ ازواجِ مطہرات کا خصوصی حجاب آزاد خاتون کے لباس کا حصہ نہ تھا، جیسا کہ امام ابنِ تیمیہ نے سمجھا ہے کہ ازواج مطہرات کا حجاب آزاد عورتوں کا حجاب تھا ، اِس وجہ سے لونڈیوں کو حجاب کرنے نہیں دیا جاتا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف لونڈیوں، بلکہ آزاد عورتوں کو بھی ازواج مطہرات کا خصوصی حجاب اختیار کرنے کی اجازت نہیں تھی، جب کہ لونڈیوں کو آزاد عورتوں کی طرح جلباب اوڑھنے سے منع کیا گیا تھا۔

اِس سلسلے کی روایات کو بیانِ واقعہ کی مختلف نوعیتوں کے اعتبار سے تین اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

  • کچھ روایات حجاب کو کسی خاتون کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کی ایک لازمی شرط کے طور پربیان کرتی ہیں۔
  • کچھ روایات بیان کرتی ہیں کہ صحابہ وتابعین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم میں موجود مختلف خواتین کے ساتھ آپ کے رشتے کی نوعیت متعین کرنے کے لیے حجاب کی پابندی سے استدلال کیا ۔
  • کچھ روایات میں بیان ہوا ہے کہ صحابہ نے بعض ایسی خواتین کے شرعی احکام طے کرنے کے لیے جن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کے بعد رخصتی سے قبل علیحدگی اختیار کر لی تھی،اِس نکتے کو بنیاد بنایا کہ اُن پر حجاب کی پابندی لازم نہیں کی گئی تھی۔

پہلی قسم کی روایات حسب ذیل ہیں:

بنو قریظہ کے واقعے کے بعد ریحانہ بنت شمعون رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کر لیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنھیں نکاح کی پیش کش کی۔ روایات اِس باب میں مختلف ہیں کہ اُنھوں نے آپ کی پیش کش کا کیا جواب دیا، تاہم روایات اِس پر متفق ہیں کہ اُن کو نکاح کی پیش کش حجاب کے لازم کیے جانے کے ساتھ مشروط تھی۔

ابن اسحٰق کی روایت ہے:

وعرض علیها أن یعتقها ویتزوجها ویضرب علیها الحجاب، فقالت: یا رسول اللّٰه، بل تترکني في ملکي فهو أخف علي وعلیک.

(الاصابہ8/ 146)

’’آپ نے اُنھیں آزاد کر کے نکاح کرنے کی پیش کش کی اور یہ کہ اِس صورت میں اُن پر حجاب کا حکم لاگو کیا جائے گا، لیکن ریحانہ نے کہا کہ یا رسول اللہ، آپ بس مجھے اپنی ملکیت میں رہنے دیں، (یعنی نکاح نہ کریں)۔ اِس سے آپ کو بھی آسانی رہے گی اور مجھے بھی، (یعنی میں حجاب کی پابندی سے آزاد رہوں گی)۔‘‘

اِس کے برخلاف، محمد بن کعب کی روایت میں یہ بیان ہوا ہے کہ وہ آپ کی پیش کش کو قبول کرتے ہوئے آپ کی زوجیت میں آ گئیں:

فخيرها رسول اللّٰهِ، فاختارت الإسلام، فأعتقها وتزوجها وضرب عليها الحجاب.

(الاصابہ 8/146)

’’رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اُن کو اختیار دیا اور اُنھوں نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ پھر آپ نے اُن کو آزاد کر کے اُن سے نکاح کر لیا اور اُن پر حجاب لازم کر دیا۔“

ایک روایت کے مطابق خود سیدہ ریحانہ اپنے متعلق یہ بیان کرتی تھیں کہ:

وكان يقسم لي كما كان يقسم لنسائه، وضرب علي الحجاب.

(الطبقات الکبریٰ 8/ 130)

’’آپ نے اپنی دوسری بیویوں کی طرح میرے لیے بھی باری کا دن مقرر کیا اور مجھ پر حجاب لازم کیا گیا۔“

اِسی طرح جب غزوۂ خیبر سے واپسی پر راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو اپنے لیے چن لیا تو مسلمانوں میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں کہ آپ اُنھیں کس حیثیت سے اپنے پاس رکھیں گے؟ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

فقال المسلمون: إحدی أمهات المومنین أو ما ملکت یمینه؟ قالوا: فإن حجبها فهي إحدی أمهات المومنین وإن لم یحجبها فهي مما ملکت یمینه، فلما ارتحل وطالها خلفه ومد الحجاب.

(بخاری، رقم 4213)

’’مسلمانوں نے کہا کہ یہ امہات المومنین میں سے ایک ہیں یا آپ کی باندی؟ لوگوں نے کہا کہ اگر آپ نے اُن پر حجاب عائد کیا تو وہ امہات المومنین میں سے ہوں گی، اور اگر اُن پر حجاب عائد نہ کیا تو وہ آپ کی باندی ہوں گی۔ جب آپ کوچ کرنے لگے تو آپ نے سیدہ صفیہ کے بیٹھنے کے لیے اپنی سواری کے پیچھے جگہ بنائی اور حجاب لٹکا دیا۔“

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کا ایک اور واقعہ بنو کندہ کی خاتون اسماء بنت نعمان کے حوالے سے روایات میں بیان ہوا ہے۔ ابو اسید ساعدی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نمایندے کے طور پر اسماء بنت نعمان کو، جن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح ہوا تھا، اُن کے گھر سے لینے کے لیے گئے تو اسماء نے اُنھیں اپنے پاس طلب کیا، لیکن ابو اسید نے اُن سے کہا:

أن نساء رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم لا یراهن أحد من الرجال، قال أبو أسید: وذالک بعد أن نزل الحجاب.

(الطبقات الکبریٰ 8/114)

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو کوئی دوسرا مرد نہیں دیکھ سکتا۔ ابو اسید کہتے ہیں کہ یہ واقعہ حجاب کا حکم نازل ہونے کے بعد کا تھا۔‘‘

دوسری نوعیت کی روایات، جن سے صحابہ وتابعین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم میں موجود مختلف خواتین کے ساتھ آپ کے رشتے کی نوعیت متعین کرنے کے لیے حجاب کی پابندی سے استدلال کیا، درج ذیل ہیں:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بعض ازواج کے متعلق صحابہ میں اِس حوالے سے سوال پیدا ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو کس حیثیت میں اپنے پاس رکھا تھا؟ تو اُن کی ازدواجی حیثیت کی تعیین کے لیے بھی اکابر صحابہ نے اُن کے لیے باری کا دن مقرر کیے جانے کے علاوہ حجاب لازم کیے جانے کا حوالہ دیا ۔

سیدنا عمر اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما نے سیدہ صفیہ کی حیثیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:

أن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم ضرب علیها الحجاب فکان یقسم لها کما یقسم لنسائه.

(الطبقات الکبریٰ8/101)

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن پر حجاب لازم کیا اور اُن کے لیے اُسی طرح باری مقرر کی تھی، جس طرح باقی بیویوں کے لیے کی تھی۔“

اِسی طرح سیدہ جویریہ کی حیثیت کو واضح کرتے ہوئے سیدنا عمر نے فرمایا :

أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ضرب علی جويرية الحجاب، وكان يقسم لها كما يقسم لنسائه.

(المستدرک ، رقم 6881)

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ جویریہ پر حجاب لازم کیا اور اُن کے لیے دن گزارنے کی اُسی طرح باری بھی مقرر کی تھی، جس طرح باقی ازواج کے لیے کی تھی۔“

تابعین کے آثار میں بھی حجاب کا ذکر اِسی پہلو سے ملتا ہے۔ چنانچہ عہد ِتابعین میں اربابِ سیرت میں سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کے متعلق اختلاف ہوا کہ وہ کس حیثیت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہیں۔ اِس تناظر میں امام زہری نے کہا:

کانت جویریة من أزواج رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم وکان قد ضرب علیها الحجاب وکان یقسم لها کما یقسم لنسائه.

(الطبقات الکبریٰ 8/94)

’’سیدہ جویریہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ تھیں۔ آپ نے اُن پر حجاب لازم کیا تھا اور دوسری ازواج کی طرح اُن کے لیے بھی باری کا دن مقرر فرمایا تھا۔‘‘

عبد الرزاق کی روایت میں ہے کہ امام زہری نے کہا:

ضرب علی صفیة وجويرية الحجاب وقسم لهما النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم كما قسم لنسائه.

(مصنف عبد الرزاق، رقم 14149)

’’سیدہ صفیہ اور سیدہ جویریہ پر حجاب لازم کیا گیا اور اُن دونوں کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی ازواج کی طرح باری مقرر کی۔‘‘

مقریزی نے سیدہ جویریہ کی ازدواجی حیثیت سے متعلق روایات کی تنقیح کا نتیجہ یوں بیان کیا ہے:

وأثبت الأقوال: أن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قضى عنها كتابتها وأعتقها وتزوجها، وضرب عليها الحجاب، وقسم لها كما يقسم لنسائه.

(امتاع الاسماع6/85)

”سب سے مستند بات یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےاُن (جویریہ رضی اللہ عنہا) کی طرف سے مکاتبت کی رقم ادا کی اور اُنھیں آزاد کر دیا، اُن پر حجاب لازم کیا اور اُن کے لیے اپنی باقی ازواج کی طرح باری مقرر کی۔“

اِسی طرح ابو سعید بن وہب اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ اُنھوں نے سیدہ ریحانہ کی حیثیت واضح کرتے ہوئے کہا:

وكانت من نسائه يقسم لها كما يقسم لنسائه، وضرب رسول اللّٰه عليها الحجاب.

(الطبقات الکبریٰ8/94)

’’وہ آپ کی ازواج میں سے تھیں۔ آپ دوسری ازواج کی طرح اُنھیں بھی باری کا دن دیا کرتے تھے اور رسول اللہ نے اُن پر حجاب بھی لازم کیا تھا۔‘‘

تیسری نوعیت کی روایات وہ ہیں۔ جن سے واضح ہوتا ہے کہ صحابہ نے بعض ایسی خواتین کے شرعی احکام طے کرنے کے لیے جن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کے بعد رخصتی سے قبل علیحدگی اختیار کر لی تھی، اِس نکتے کو بنیاد بنایا کہ اُن پر حجاب کی پابندی لازم نہیں کی گئی تھی۔

امام ماوردی رحمہ اللہ کے استقصا کے مطابق یہ حسب ذیل آٹھ خواتین تھیں:

1۔ اسماء بنت النعمان

2۔ لیلیٰ بنت الحطیم

3۔ عمرہ بنت یزید

4۔ عالیہ بنت ظبیان

5۔ فاطمہ بنت ضحاک

6۔ قتیلہ بنت قیس

7۔ ملیکہ بنت کعب

8۔ بنو عفان کی ایک خاتون

ماوردی کے بیان کے مطابق اِن میں سے تین، یعنی عمرہ بنت یزید، عالیہ بنت ظبیان اور فاطمہ بنت ضحاک کی رخصتی ہوئی اور بعد میں آپ نے اُن کو طلاق دے دی، جب کہ باقی پانچ سے آپ نے مختلف اسباب سے رخصتی سے قبل ہی علیحدگی اختیار فرما لی۔

عہدِ صحابہ میں جب اِن میں سے بعض خواتین نے نکاح کرنا چاہا تو بعض صحابہ نے اِس بنیاد پر اِس پر اعتراض کیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی منکوحہ ہونے کی وجہ سے آپ کے بعد کوئی نکاح نہیں کر سکتیں، تاہم یہ معلوم ہونے پر کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن پر حجاب کی پابندی لازم نہیں کی تھی، جو امہات المومنین کے لیے ایک خصوصی حکم تھا، اُن کے نکاح کے فیصلے کو جائز تسلیم کر لیا گیا۔

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح اسماء بنت نعمان رضی اللہ عنہا سے ہوا، لیکن رخصتی سے قبل علیحدگی ہو گئی۔ آپ کی وفات کے بعد اسماء نے مہاجر بن ابی امیہ سے نکاح کر لیا تو سیدنا عمر نے اِس پر اُنھیں سزا دینا چاہی، (کیونکہ امہات المومنین کے لیے کسی اور سے نکاح کرنا ممنوع تھا)۔ اِس پر اسماء بنت نعمان نے یہ دلیل پیش کی:

و اللّٰه ما ضرب علي الحجاب ولا سمیت بأم المومنین.

(المستدرک ، رقم 6917)

”بخدا، نہ تو مجھ پر حجاب کا حکم نافذ کیا گیا اور نہ مجھے ام المومنین قرار دیا گیا۔“

اسماء نے کہا کہ:

اتق اللّٰه يا عمر، إن كنت من أمهات المؤمنين فأضرب علي الحجاب وأعطني ما أعطيتهن.

(المعجم الکبیر، رقم 17714)

’’اے عمر، اللہ سے ڈرو۔ اگر میں امہات المومنین میں سے ہوں تو مجھ پر حجاب بھی لازم کرو اور (بیت المال سے) جو وظیفہ اُن کو دیتے ہو، مجھے بھی دو۔“

مراد یہ تھی کہ چونکہ رخصتی سے قبل ہی علیحدگی ہو گئی تھی، اِس لیے اُن پر امہات المومنین کے مخصوص شرعی احکام لاگو نہیں ہوتے۔ چنانچہ سیدنا عمر نے اُنھیں سزا دینے کا فیصلہ واپس لے لیا۔

اِسی طرح قتیلہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا نکاح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بالکل آخری دنوں میں ہوا، لیکن رخصتی سے قبل آپ کا انتقال ہو گیا۔ بعد میں عکرمہ رضی اللہ عنہ نے اُن سے نکاح کر لیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرا یہ جی چاہتا ہے کہ اُن دونوں کو اُن کے گھر سمیت جلا دوں، لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:

ما ھي من أمھات المومنین ولا دخل بھا النبي صلى اللّٰه عليه وسلم ولا ضرب علیھا الحجاب.

(المستدرک ، رقم6918)

”وہ امہات المومنین میں سے نہیں ہیں، نہ اُن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم بستری کی اور نہ اُن پر حجاب عائد کیا۔“

شعبی کی روایت میں ہے کہ سیدنا عمر نے کہا:

یا خلیفة رسول اللّٰه، أنها لیست من نسائه أنها لم یخیرها رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم ولم یحجبها وقد برأها منه بالردة التي ارتدت مع قومها فاطمأن أبوبکر وسکن.

(تفسیر الطبری 22/14)

’’اے خلیفۂ رسول، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں شمار نہیں ہوتیں۔ آپ نے نہ تو اُن کو علیحدگی کا اختیار دیا (آیت تخییر کی رو سے) اور نہ اُن پر حجاب کو لازم کیا۔ پھر اپنی قوم کے ساتھ مرتد ہو جانے کی وجہ سے بھی اللہ نے اُس کا تعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بالکل ختم کر دیا ہے (اِس لیے اُس پر امہات المومنین کے احکام لاگو نہیں ہوتے)۔ اِس پر ابوبکر مطمئن ہو گئے اور اُن کا غصہ فرو ہو گیا۔‘‘

سنن ابو داؤد کے شارح شہاب الدین ابن رسلان المقدسی (وفات: 844ھ) اِن واقعات کی روشنی میں فقہی حکم کی وضاحت یوں کرتے ہیں:

واعلم أن التي لم يدخل بها النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم، ولم يضرب عليها الحجاب، لا يكون لها حكم زوجات النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم في تحريم النكاح على الغير، كما روي أنه تزوج بهذه المهاجر بن أبي أمية، فأراد عمر معاقبتها، فقالت: ما ضرب علي الحجاب، ولا سميت أم المؤمنين، فكف عنها.

(شرح سنن ابو داؤد 8/71)

’’جان لو کہ جن خواتین سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم بستری نہیں کی اور نہ اُن پر حجاب لازم کیا، اُن کا حکم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی کا نہیں ہے، جس پر کسی دوسرے مرد سے نکاح حرام ہو۔ چنانچہ روایت ہے کہ اُس خاتون کے ساتھ مہاجر بن ابی امیہ نے نکاح کیا اور سیدنا عمر نے اُس کو سزا دینا چاہی تو خاتون نے کہا کہ نہ مجھ پر حجاب لازم کیا گیا اور نہ مجھے ام المومنین قرار دیا گیا۔ اِس پر سیدنا عمر اُس کو سزا دینے سے رک گئے۔‘‘

مذکورہ تمام شواہد بہت وضاحت کے ساتھ یہ بتا دیتے ہیں کہ عہدِ نبوی اور عہدِ صحابہ و تابعین میں حجاب کی امتیازی وخصوصی حیثیت اہلِ علم پر بالکل واضح تھی اور امہات المومنین کے علاوہ عام مسلمان خواتین کے ساتھ اِس پابندی کے غیرمتعلق ہونے کے حوالے سے کوئی ابہام نہیں پایا جاتا تھا۔