ستر و حجاب کا فرق

حجاب کے قائلین کا ایک موقف قرآن مجید سے ستر اور حجاب کے احکام کو الگ الگ متعین کرنے کا ہے۔ اِس کے مطابق، عورت کا سارا بدن ستر ہے۔ اُس کا سارا بدن مستور رہنا چاہیے۔ یہ موقف درج ذیل روایت پر مبنی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

المرأة عورة. (ترمذی،رقم 1173)

”عورت (سراپا) پردہ ہے۔“

عورت کو چہرہ، ہاتھوں اور پاؤں کو مسلسل ڈھانپ کر رکھنے میں غیر معمولی مشقت پیش آتی ہے۔ اُسے اسِ زحمت سے بچانے کے لیے اِن اعضا کو محارم کے سامنے کھولنے کی اجازت ہے۔ رفع حرج کے تحت ہی، اُس کےاِنھی اعضا کو نماز اور احرام میں بھی ڈھانپنے سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، جب کہ حجاب ایک مستقل حکم ہے۔ اِس کا ماخذ آیتِ جلباب ہے۔ اُس کی رو سے عورتیں غیر مردوں کی موجودگی میں مکمل حجاب میں رہیں گی۔ اُن کے چہرے سمیت تمام بدن پردے میں رہے گا۔

عورت کے چہرے، ہاتھ اور پاؤں کو سترمیں شمار کرنے کا یہ موقف دین اور فطرت، دونوں کے لیے اجنبی ہے۔ انسانی تہذیب کی مسلمہ روایت نے عورت کے چہرے، ہاتھوں اور پاؤں کو ستر میں شمار نہیں کیا۔ اِنھیں ستر میں شامل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ شرم گاہوں کا کچھ حصہ محارم کے سامنے اور نماز اور احرام کی حالت میں بھی کھول کر رکھنے کی اجازت ہے، یہ عجیب ہے۔ قرآن مجید میں اِس بارے میں کوئی چیز اشارتاً بھی موجود نہیں۔

سورۂ نور (24) کی آیت 31 میں’اِلَّا مَا ظَھَرَ مِنْھَا‘ کے الفاظ میں عام طور پر ظاہر رہنے والی زینتوں کو ظاہر رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اِن میں چہرہ، ہاتھ اور پاؤں شامل ہیں۔ یہ اجازت ستر سے متعلق نہیں ہے۔ ستر کو ڈھانپ کر رکھنے کا حکم اِس سے پہلے حفظ فروج کے تحت دیا گیا ہے اور وہاں کوئی استثنا بیان نہیں ہوا، کیونکہ شرم گا ہوں کے لیے لازم ہے کہ وہ پوشیدہ ہی رکھی جائیں، اُن میں استثنا نہیں دیا جا سکتا۔

عورت کو سراپا سترقرار دینے کا استدلال مذکورہ بالا روایت کے فہم پر کھڑا ہے۔ اصولی طور پرخبرِ واحد کسی مستقل حکم کا ماخذ نہیں بن سکتی۔ اِس سے کوئی ایسا استدلال نہیں کیا جا سکتا جس کی زد قرآن مجید کے کسی حکم پر پڑتی ہو۔مزید برآں، یہ روایت سنداً ایسی قوی اور بے غبار نہیں کہ کسی حکم کے لیے بناے استدلال بن سکے۔ امام ترمذی کے مطابق، یہ روایت حسن غریب ہے۔ محدثین نے اِس کی سند میں ضعف کی نشان دہی کی ہے۔ تاہم، غور کیا جائے تو معنوی طور پر اِس میں ایسی کوئی بات نہیں جو دین کے مسلمات کے خلاف ہو۔ روایت کے الفاظ صرف یہ بتاتے ہیں کہ عورت کا بدن ڈھانپا ہوا ہونا چاہیے۔ حیا اور شرافت کا تقاضا یہی ہے کہ عورت کا جسم ڈھانپا ہوا ہو، مگر عرف وعادت میں جن اعضا کو ڈھانپا نہیں جاتا، اُن کا استثنا بہرحال اِس کے مفہوم میں برقرار ہی رہے گا۔

زبان و بیان کا مسلمہ اصول ہے کہ عقلی مستثنیات ہر مطلق اور عام ہدایت میں مقدر (Understood/Implicit) مانے جاتے ہیں۔ مثلاً ایک استاد یہ کہے کہ سب طلبہ کے لیے لازم ہے کہ کل جماعت میں حاضر ہوں، غیر حاضر ہونے والے پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اگلے روز کسی طالب علم کو حادثہ پیش آ جائے تو یہ اُس کی غیر حاضری کے لیے ایک معقول عذر ہے، جو اُسے سزا سے استثنا کا جواز فراہم کرتا ہے۔ استاد کے الفاظ اگرچہ مطلق ہیں، مگر عقلی استثنا یہاں مقدر ہے، جو متاثرہ طالب علم کو جرمانے سے مستثنیٰ قرار دیتا ہے۔

یہی معاملہ مذکورہ روایت کا ہے۔ اِس میں بھی چہرے، ہاتھوں اور پاؤں کا استثنا پہلے سے مقد رہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے چہرے اور ہاتھوں کو حالت احرام میں کھلے رکھنے کی تاکید کی ہے، دراں حالیکہ اِس موقع پرمردوں کا ازدحام ہوتا ہے۔

آپ کا ارشاد ہے:

ولا تنتقب المرأة المحرمة، ولا تلبس القفازين.

(بخاری، رقم 1838)

”احرام کی حالت میں عورت منہ پر نقاب نہ ڈالے اور دستانے بھی نہ پہنے۔“

حالتِ احرام میں عورتوں کو نقاب اوڑھنے اور دستانے پہننے کی ممانعت کی وجہ غالباً یہ تھی کہ عورت کے لباس میں یہ چیزیں طبقۂ اشرافیہ میں عام لوگوں سے امتیاز برتنےاور اپنی بڑائی کے اظہار کے لیے رائج تھیں۔ حج کے موقع کے لیے اِسے اختیار کرنے سے منع کیا گیا، کیونکہ یہ احساسِ عبدیت کے خلاف تھا۔ اِن کی ممانعت کی یہ وجہ نہیں تھی کہ عورتیں عموماً نقاب اوڑھتی اور دستانے پہنتی تھیں اور حج کے موقع پر اُنھیں اِن سےمنع کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ نقاب اوڑھنا اور دستانے پہننا عورتوں کا معمول کبھی نہیں رہا۔عہدِ رسالت اور عہدِ صحابہ میں خواتین چہرے اور ہاتھوں کے پردے کے بغیر سامنے آیا کرتی تھیں۔ نقاب اوڑھنے والی خواتین کے اکا دکا واقعات ہی نقل ہوئے ہیں۔ چند عورتوں کے نقاب اوڑھنے کا بہ طور خاص ذکر ظاہر کرتا ہے کہ نقاب اوڑھنا معمول نہیں تھا، ورنہ اِس طرح یہ ذکر میں نہ آتا۔ لباس میں کوئی غیر معمولی بات ہی نوٹس کی جاتی اور بیان میں آتی ہے۔ اِن روایات پر تبصرہ الگ ضمیمے میں کیا جائے گا۔

ازواج مطہرات کا معاملہ مختلف تھا۔ اُنھیں حجاب کا خصوصی حکم دیگر وجوہات کی بنا پر دیا گیا تھا، جنھیں اِس کتاب میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اُن کا حجاب حج کے موقع پر بھی قائم رکھا جاتا تھا۔ اِسی مناسبت سے وہ مناسکِ حج بھی عام لوگوں سے علیحدہ رہ کر ادا کرتی تھیں۔

درست بات یہی ہے کہ عورت کا چہرہ، ہاتھ اور اِسی طرح اُس کی کلائیاں اور پاؤں ستر کے اعضا نہیں ہیں۔ اِنھیں عام طور پر ملبوس نہیں رکھا جاتا ۔ اِنھیں ظاہر رہنے والے اعضا کو اِن پر کی گئی زینت اور سنگھار سمیت ظاہر رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔