عمر رسیدہ عورتوں میں بناؤ سنگھار کرنے کے باوجود وہ کشش پیدا نہیں ہوتی جس کو حدود کا پابند بنانے کے لیے گریبان کو آنچل سے ڈھانپنے کی ہدایت کی گئی تھی، اِس لیے اِنھیں رخصت دی گئی کہ نا محرم مردوں کی موجودگی میں اُنھیں اپنے سینے اور گریبان کی زینت کو آنچل سے ڈھانپنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم ، پاکیزگی نفس کے اعلیٰ درجے کا حصول مقصود ہو تو اُن کے لیے بھی بہتر یہی ہے کہ نا محرم مردوں کی موجودگی میں اپنی زیب و زینت ڈھانپ کر رکھیں۔ارشاد ہوا ہے:
وَ الۡقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیۡ لَا یَرۡجُوۡنَ نِکَاحًا فَلَیۡسَ عَلَیۡہِنَّ جُنَاحٌ اَنۡ یَّضَعۡنَ ثِیَابَہُنَّ غَیۡرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیۡنَۃٍ ؕ وَ اَنۡ یَّسۡتَعۡفِفۡنَ خَیۡرٌ لَّہُنَّ ؕ وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ.
(النور 24 : 60)
’’اور بڑی بوڑھی عورتیں جو اب نکاح کی امید نہیں رکھتی ہیں، وہ اگر اپنے دوپٹے گریبانوں سے اتار دیں تو اُن پر کوئی گناہ نہیں، بشرطیکہ زینت کی نمایش کرنے والی نہ ہوں۔ تاہم وہ بھی احتیاط کریں تو اُن کے لیے بہتر ہے اور اللہ سمیع و علیم ہے۔‘‘
غامدی صاحب لکھتے ہیں:
” ...ارشاد ہوا ہے کہ سینے اور گریبان کی زینت کو ڈھانپ کر رکھنے کا حکم اُن بڑی بوڑھیوں کے لیے نہیں ہے جو اب نکاح کی امید نہیں رکھتی ہیں، بشرطیکہ وہ زینتوں کی نمایش کرنے والی نہ ہوں۔ عورت کی خواہشات جس عمر میں مر جاتی ہیں اور اُس کو دیکھ کر مردوں میں بھی کوئی صنفی جذبہ پیدا نہیں ہوتا، اُس میں سینے اور گریبان کی زینت کو چھپانے کے لیے اُن پر آنچل ڈالے رکھنا ضروری نہیں ہے۔ لہٰذا بوڑھی عورتیں اپنا یہ کپڑا مردوں کے سامنے اتار سکتی ہیں، اِس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ تاہم، پسندیدہ بات اُن کے لیے بھی یہی ہے کہ وہ احتیاط کریں اور مردوں کی موجودگی میں اُسے نہ اتاریں۔ یہ اُن کے لیے بہتر ہے۔“ (میزان 470)
آیتِ بالا میں ’ثِیَاب‘ سے مراد اوڑھنی یا دوپٹا ہے، جو گریبان پر ڈالا جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عبد اللہ بن عباس اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم نے اِس کا مصداق جلباب یا ردا، یعنی بڑی چادر کو قرار دیا ہے۔ سعید بن جبیر کے مطابق، بڑی چادر اتارنے کی اجازت ہے، لیکن گریبان پر آنچل بہرحال رہنا چاہیے۔ اِس تخصیص کے لیے، لیکن الفاظ میں کوئی گنجایش نہیں ہے۔
عمررسیدہ خواتین کو آنچل یا چادر اتار دینے کی اجازت اُس صورت میں دی گئی ہے جب اُنھوں نے گریبان پر زینت کر رکھی ہو۔ اِس کا تعلق عدم زینت سے نہیں ہے۔ یہ اجازت عدم تبرج کی شرط کے ساتھ بیان ہوئی ہے، عدم زینت کی شرط کے ساتھ نہیں۔ تبرج غیرمعمولی اظہارِ زینت کو کہتے ہیں۔
لغت میں ’تبرج‘ کا مطلب یہ بیان ہوا ہے:
إظهار الزينة وما يستدعى به شهوة الرجال.(تاج العروس 5/ 417)
’’زینت کا اظہار کرنا، جس سے مردوں میں شہوت اجاگر کرنا مقصود ہو۔‘‘
تبرج تبھی ممکن ہے جب زینت موجود ہو۔ اِس بنا پر یہ حکم بوڑھی عورتوں کو گریبان پر زینت کی صورت میں آنچل اتارنے کی اجازت دیتا ہے۔ اِس کے ساتھ اُنھیں متنبہ بھی کرتا ہے کہ اِس رخصت سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی زیب و زینت کی غیر معمولی انداز سے نمایش نہ کریں۔ تاہم، اُن کے لیے بھی بہتر یہی ہے کہ نامحرم مردوں کے سامنے اپنی زیب و زینت ڈھانپ کر رکھیں۔