سورۂ نور (24) کی آیت 31 میں اِخفاے زینت سے استثنا بتانے کے لیے لائے گئے الفاظ ’اِلَّا مَا ظَھَرَ مِنْھَا‘کے مصداق کے تعین میں حضرت عبد اللہ بن عباس اور حضرت عبد اللہ بن مسعود کی آرا کا اختلاف معلوم ہے۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود کی راے اِس اصول پر مبنی ہے کہ دینی اعمال میں رخصت اور استثنا کی بنیاد اضطرار ہے، اِس لیے اظہارِ زینت میں اجازت فقط اُس زینت کی ہونی چاہیے جو اضطراراً ظاہر ہو جائے، لیکن یہ اصول ’اِلَّا مَا ظَھَرَ مِنْھَا‘ کے استثنا پر لاگو نہیں ہوتا۔ یہ حرمتوں سے متعلق ہے، جہاں حالتِ اضطرار میں حرام اشیا کے استعمال کی بہ قدرِ ضرورت اجازت دی جاتی ہے، جیسے جان پر بن آئے تو لقمۂ حرام کھا کر یا کلمۂ کفر کہہ کرزندگی بچائی جا سکتی ہے۔ اِس کے برعکس، حرمتوں کی خلاف ورزی سے بچنے کے لیے سد ذریعہ کی پابندیاں بہ قدرِ ضرورت عائد کی جاتی ہیں اور غیر معمولی زحمت پیش آنے پر حالتِ اضطرار کا انتظار کیے بغیر رخصت دے دی جاتی ہے۔ ایسا اصول یسر کے تحت کیا جاتا ہے۔ مثلاً گھروں میں داخل ہونے سے پہلے اجازت طلب کرنے کی پابندی فواحش کے سدِّ باب کے لیے لگائی گئی ہے، مگر بچوں اور خادموں کو اجازت طلب کرنے سے مستثنیٰ کر دیا گیا، کیونکہ اُنھیں بار بار آنا جانا ہوتا ہے اور بار بار اجازت طلب کرنا زحمت کا باعث بنتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اِس اصول کو یوں بیان فرمایا ہے:
يُرِيْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الۡيُسۡرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الۡعُسۡرَ. (البقرہ 2: 185)
”اللہ تمھارے لیے آسانی چاہتا ہے اور نہیں چاہتا کہ تمھارے ساتھ سختی کرے۔“
یہی معاملہ زینتوں کو پوشیدہ رکھنے کی ہدایت کا ہے۔ یہ سد ذریعہ کی ہدایت ہے۔ اصل ممانعت زنا کی ہے، جس سے بچانا مقصود ہے۔ چنانچہ یہاں بھی بہ قدرِ ضرورت زینتوں کو چھپانے کی ہدایت کی گئی ہے اور جن زینتوں کو پوشیدہ رکھنے میں زحمت ہوتی ہے، اُنھیں کھلا رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ’اِلَّا مَاظَھَرَ مِنْھَا‘کا یہ وہ مفہوم ہے جسے حضرت عبد اللہ بن عباس بیان کرتے ہیں ، یہ اصول یسر پر مبنی ہے۔