لغت اور قرآن مجید کے استعمالات سے واضح ہے کہ’زینت‘ سے مراد وہ آرایش ہے جو اصل شے یا فرد پر خارج سے کی جاتی ہے۔ اِس کا اطلاق جسمانی حسن پر نہیں ہوتا۔ جسمانی حسن کے لیے لفظ ’حسن‘ اور’جمال‘ بولا جاتا ہے۔
”اقرب الموارد “میں ہے:
الزينة: ما يتزين به. (1/ 485)
”وہ چیز جس سے آراستگی حاصل کی جائے، وہ زینت ہے۔“
”تاج العروس“ میں اِس کی تعریف یوں کی گئی ہے:
الزينة بالكسر: ما يتزين به كما في الصحاح. وفي التهذيب: وقال الحرالي: الزينة: تحسين الشيء بغيره من لبسة أو حلية أو هيئة.
(35/ 161)
”زینت کا مطلب وہ چیزیں ہیں جن سے آراستگی حاصل کی جاتی ہے، جیسا کہ ”صحاح“ میں بیان ہوا ہے۔ ”التہذیب“ میں الحرالی نے کہا ہے کہ زینت شے سے الگ اور اُس کی خوب صورتی ہے جو لباس، زیور یا ہیئت سے پیدا ہوتی ہے۔“
قرآن مجید میں ’زینت‘ کا لفظ لباس، زیورات، مال و اولاد، سواری کے جانوروں اور آسمان کے تاروں کے خوش کن مناظر کے لیے استعمال ہوا ہے، جب کہ جسمانی خوب صورتی کے لیے لفظ ’حسن‘ استعمال کیا گیا ہے۔ارشاد ہوتا ہے:
لَا یَحِلُّ لَکَ النِّسَآءُ مِنۡۢ بَعۡدُ وَ لَاۤ اَنۡ تَبَدَّلَ بِہِنَّ مِنۡ اَزۡوَاجٍ وَّ لَوۡ اَعۡجَبَکَ حُسۡنُہُنَّ.(الاحزاب33: 52)
”اِن کے بعد اب دوسری عورتیں تمھارے لیے جائز نہیں ہیں اور نہ یہ جائز ہے کہ اُن کی جگہ اور بیویاں لے آؤ، اگرچہ اُن کا حسن تمھیں کتنا ہی پسند ہو۔“
اِس سے واضح ہے کہ ’زینت ‘کے مفہوم میں جسمانی حسن کے مفہوم کا اضافہ کرنے کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔ تاہم، امام رازی نے زینت کے مفہوم میں جسمانی حسن کو شامل کیا ہے۔ اُن کی دلیل یہ ہے کہ بعض خواتین دوسری خواتین سے زیادہ حسین ہوتی ہیں۔ دوسرے یہ کہ گریبان کو ڈھانپنے کا حکم اِس بات پر دلالت کرتا ہے کہ عورت اپنے سینے کو ہر صورت میں ڈھانپ کر رکھے گی، چاہے اُس پر زینت کی گئی ہو یا نہ کی گئی ہو۔ دونوں صورتوں میں عورت کے صنفی اعضا زینت میں شامل ہیں۔
جسمانی اعضا کو زینت میں شمار کرنے کی راے مولانا شبیر احمد عثمانیاور مولانا تقی عثمانی نے بھی اختیار کی ہے۔ اُن کے مطابق زینت سے مراد عورت کے سجاوٹ کے اعضا ہیں۔
امام رازی کا پہلا استدلال، درحقیقت کوئی استدلال ہی نہیں ہے۔ جسمانی حسن عورتوں میں کم و بیش ہوتا ہی ہے۔
اُن کا دوسرا استدلال، البتہ قابل اعتنا ہے۔ اِس کا جواب یہ ہے کہ سورۂ نور (24) کی آیت 31 میں گریبان کو ڈھانپنے کی ہدایت اِخفاے زینت کے ذیل میں دی گئی ہے۔ یعنی یہ ہدایت اُس صورت میں ہے جب گریبان پر زینت کی گئی ہے۔ یہاں بھی زینت ہی کو ڈھانپنا مقصود ہے، نہ کہ سینے کو۔ سینے کو ڈھانپنے کی ہدایت حفظِ فروج کے حکم میں پہلے دی جا چکی تھی اور وہ معاملہ شرم گاہوں کے ڈھانپنے سے متعلق ہے، اِس لیے امام صاحب کا یہ استدلال بھی درست نہیں۔
امام رازی نے زینت کے مفہوم میں جسمانی حسن کا جو اضافہ کیا ہے، وہ ایک استدلالی معنی ہے۔ عقلی استدلال سے لغوی مفاہیم پیدا نہیں کیے جا سکتے۔ لغوی استعمالات سماعی ہوتے ہیں۔