ذخیرۂ احادیث میں نزولِ مسیح کی روایات کا جائزہ لینے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ واقعۂ نزولِ مسیح کی نوعیت کیا ہے۔
اِس سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ یہ نہایت متعین، محسوس اور مشہود واقعہ ہے۔ اپنے اظہار اور اثر انگیزی کے لحاظ سے یہ عصا کے سانپ بننے، بارہ چشمے پھوٹنے، دریا میں راستہ بننے، بن باپ کے پیدا ہونے، گہوارے میں کلام کرنے، تین سو سال تک سوتے رہنے کے بعد جاگ اٹھنے اور چاند کے شق ہو جانے سے بڑا واقعہ ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ مذکورہ واقعات کے بارے میں کوئی بے سروپا تاویل پیش کر کے الجھاؤ پیدا کیا جاسکتا اور کم نظر لوگوں کو اِن کی تردید پر آمادہ کیا جا سکتا ہے، مگر یہ واقعہ اِس قدر مرئی، مجسم اور دیرپا ہے کہ اِس کی تردید کے لیے کوئی کم زور تاویل بھی پیش نہیں کی جا سکتی۔
دوسری بات یہ ہے کہ یہ واقعہ حد درجہ خارقِ عادت اور نہایت محیر العقول ہے۔ ایک شخصیت کا دو ہزار سال تک دنیا سے اوجھل رہنا اور پھر برسرِعام آسمان سے نازل ہونا ایسا مظاہرہ ہے، جو انسانی تاریخ میں نہ پہلے کبھی ہوا اور نہ ظہور کے بعد دوبارہ کبھی ہوگا۔
تیسری بات یہ ہے کہ یہ کسی عام انسان کا نزول نہیں ہے، بلکہ اللہ کے نبی کا نزول ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اِس کا تعلق اللہ کی قدرت و مشیت کے عام معاملات سے نہیں، نبوت و رسالت کے خصوصی معاملے سے ہے۔
چوتھی بات یہ ہے کہ یہ واقعہ قیامت کی نشانیوں میں سب سے بڑی نشانی ہے۔ احادیث میں قرب قیامت کی متعدد نشانیاں مذکور ہیں۔ اِن میں دھوئیں کا نکلنا، مشرق و مغرب میں زمین کا دھنس جانا، زمین کے جانور کا پیدا ہونا، آگ کا لوگوں کو ہانکنا، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دجال کا ظاہر ہونا، یاجوج و ماجوج کا خروج کرنا اور اِس نوعیت کی دیگر علامتیں شامل ہیں۔اِس فہرست پر ایک نظر ڈالنے ہی سے یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ نزولِ مسیح کی علامت اِن میں سب سے نمایاں ہے۔
پانچویں بات یہ ہے کہ بادی النظر میں یہ واقعہ قرآنِ مجید اور احادیث میں مذکور ختم نبوت کے فیصلے کی حتمیت اور قطعیت کو بھی محل اشکال میں لے آتا ہے۔ یعنی یہ سوال پیدا ہو جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آنے والےنبی کا آپ کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد دوبارہ نازل ہونا قرآن کی صریح نص کی روشنی میں کیسے دیکھا جائے گا؟
نزولِ مسیح کے واقعے سے متعلق یہ پانچوں باتیں اِس کی غیر معمولی اہمیت کو ثابت کرتی ہیں اور یہ سوال پیدا کرتی ہیں کہ اِس کی خبر کے ابلاغ کے لیے قرآنِ مجید کے قطعی ذریعے کا انتخاب کیوں نہیں کیا گیا اور اِسے لوگوں کی صواب دید پر کیوں چھوڑ دیا گیا کہ وہ چاہیں تو آگے منتقل کریں اور چاہیں تو نہ کریں اور اِس کے بیان کے لیے جو چاہے اسلوب اختیار کریں؟
تاہم اِس سوال سے قطع نظر، اگر صرف احادیث کے تناظر میں دیکھا جائے تو مذکورہ باتیں درجِ ذیل شواہد کا لازمی تقاضا کرتی ہیں:
1۔ یہ واقعہ صحابہ اور تابعین میں زبان زدِ عام ہونا چاہیے۔
2۔ اِسے جلیل القدر صحابہ کی اکثریت کو روایت کرنا چاہیے۔
3۔ اِسے حدیث کے اولین مجموعوں میں مذکور ہونا چاہیے۔
4۔ اِس کی روایات کو واضح ہونا چاہیے اور ہر قسم کے داخلی ابہام یا تناقض سے پاک ہونا چاہیے۔
5۔ اِس کی روایات اور ذخیرۂ حدیث کی دیگر روایتوں میں کوئی تضاد نہیں ہونا چاہیے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا نزولِ مسیح کی روایتوں میں یہ تقاضے کما حقہٗ پورے ہوتے ہیں؟ اِس کا جواب واضح نفی میں ہے۔ اِس کی تفصیل چند اشکالات کی صورت میں درجِ ذیل ہے۔