باب اول

نزولِ مسیح ــــــ قرآن و حدیث کے نصوص

حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے آخری پیغمبر تھے۔ وہ خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے کم و بیش پانچ سو سال پہلے مبعوث ہوئےتھے۔اللہ تعالیٰ نے اُنھیں نبوت کے ساتھ رسالت کے منصب پر بھی فائز کیا تھا۔ چنانچہ اُن کی بعثت کا مقصد بنی اسرائیل پر اللہ کی حجت تمام کرنا تھا۔ اِس اتمامِ حجت کے لیے اللہ نے اُنھیں بعث و نشر کی مجسم اور مشہود نشانی بنایا تھا۔ وہ جس طرح دنیا میں آئے، جس طرح رہے اور جس طرح رخصت ہوئے، وہ سب خارقِ عادت مظاہر اور نادرِ روزگار واقعات کا مجموعہ ہے۔ قرآن نے اُنھیں ’’کلمۃ اللہ‘‘ اور ’’روح اللہ‘‘ سے موسوم کیا ہے اور ’اٰیَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ‘ ــــ دنیا والوں کے لیے نشانی ــــ قرار دیا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:

… اِنَّمَا الۡمَسِیۡحُ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ رَسُوۡلُ اللّٰہِ وَ کَلِمَتُہٗ ۚ اَلۡقٰہَاۤ اِلٰی مَرۡیَمَ وَ رُوۡحٌ مِّنۡہُ ....(النساء4: 171)

’’... حقیقت یہ ہے کہ مسیح عیسیٰ ابنِ مریم اللہ کا ایک رسول اور اُس کا ایک قول ہی تھا، جو اُس نے مریم کی طرف القا فرمایا تھا اور اُس کی جانب سے ایک روح تھا (جو اللہ نے اُس میں پھونک دی تھی)...۔‘‘

...وَجَعَلۡنٰہَا وَابۡنَہَاۤ اٰیَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ.

(الانبیاء21: 91)

’’...ہم نے اُس خاتون کو اور اُس کے بیٹے (عیسیٰ) کو دنیا والوں کے لیے ایک نشانی بنا دیا۔‘‘

امتِ مسلمہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول اور حیات و وفات کے تصورات رائج ہیں۔ مراد یہ ہے کہ جب بنی اسرائیل نے آپ کو مصلوب کرنا چاہا تو اللہ نے آپ کو اپنی تحویل میں لے کر آسمان کی طرف اٹھا لیا۔ وہ آسمان پر زندہ و سلامت موجود ہیں۔قیامت کے قریب آسمان سے براہ ِراست زمین پر نازل ہوں گے اور کچھ متعین امور انجام دے کر وفات پا جائیں گے۔ اِن تصورات کے لیے قرآن و حدیث کے جن نصوص سے استدلال کیا جاتا ہے، وہ آیندہ صفحات میں درج ہیں۔

____________