چھٹا اشکال:

قرب قیامت کی علامات کی بعض روایات میں نزولِ مسیح کا عدم ذکر

روایتوں سے یہ بات واضح ہے کہ نزولِ مسیح کا واقعہ قرب قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے۔ اہل علم بھی اِس معاملے میں متفق ہیں۔ وہ روایتیں جن میں قرب قیامت کی علامتیں بیان ہوئی ہیں، اُن میں سے بعض ایسی ہیں،جن میں اِن علامتوں کو گن کر بتایا گیا ہے۔ اِن میں سے بعض تین، بعض چار، بعض چھ اور بعض دس علامتوں کو بیان کرتی ہیں۔ اِن سب کو جمع کیا جائے تو مجموعی طور پر درجِ ذیل علامتیں سامنے آتی ہیں:

1۔ دھواں۔

2۔ دجال کا ظہور ہونا۔

3۔ زمین کا جانور۔

4۔ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا۔

5۔ نزولِ مسیح۔

6۔ یاجوج و ماجوج۔

7۔مشرق میں زمین کا دھنس جانا۔

8۔ مغرب میں زمین کا دھنس جانا۔

9۔ جزیرہ نماے عرب میں زمین کا دھنس جانا۔

10۔ آگ جو یمن سے نکل کر لوگوں کو ہانکے گی۔

11۔ ہوا جو لوگوں کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دے گی۔

12۔ موت۔

13۔ 30 دجالوں کا خروج۔

14۔ عیسائی رومیوں کی اکثریت۔

اِن علامتوں پر غور کیجیے تو اِن میں سب سے غیر معمولی علامت نزولِ مسیح کی ہے۔ باقی علامتوں کے مقابل میں یہ سب سے نمایاں بھی ہے، نہایت درجہ خارقِ عادت بھی ہے اور اِس کا مفہوم و مصداق بھی پوری طرح واضح ہے۔ اِس بنا پر فطری تقاضا یہی ہے کہ اگر کوئی راوی اِن چودہ پندرہ علامتوں میں سے چند علامتوں کو بیان کرے تو اُسے اِس نمایاں ترین علامت کو ضرور بیان کرنا چاہیے۔ یہ انسانی عقل اورتجربے کے خلاف ہے کہ سب سے نمایاں بات چھوڑ کر مقابلتاً کم اہم باتیں بیان کر دی جائیں۔اب حقیقت یہ ہے کہ علاماتِ قیامت کی متعدد روایات میں نزولِ مسیح کی علامت کو بیان نہیں کیا گیا۔

مسلم کی ایک روایت میں قیامت کی چھ علامات بیان ہوئی ہیں، مگر اُن میں نزولِ مسیح کا ذکر نہیں ہے:

عن ابي هريرة ان رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم، قال: بادروا بالاعمال ستًا: طلوع الشمس من مغربها، او الدخان، او الدجال، او الدابة، او خاصة احدكم، او امر العامة.

(رقم 7584)

’’سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھ چیزوں سے پہلے نیک اعمال کرنے میں جلدی کرو:ایک سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے، دوسرے دھوئیں سے، تیسرے دجال کے نکلنے سے پہلے، چوتھے زمین کے جانور سے، پانچویں قیامت سے، چھٹے موت سے پہلے۔‘‘

اِسی طرح بخاری کی درج ذیل روایت میں قیامت کی 11علامتیں بیان ہوئی ہیں، مگر اِن میں نزول مسیح کا ذکر نہیں ہے:

عن ابي هريرة ، ان رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم، قال: لا تقوم الساعة حتى تقتتل فئتان عظيمتان يكون بينهما مقتلة عظيمة، دعوتهما واحدة، وحتى يبعث دجالون كذابون قريب من ثلاثين، كلهم يزعم انه رسول اللّٰہ، وحتى يقبض العلم، وتكثر الزلازل، ويتقارب الزمان، وتظهر الفتن، ويكثر الهرج: وهو القتل، وحتى يكثر فيكم المال فيفيض حتى يهم رب المال من يقبل صدقته وحتى يعرضه عليه، فيقول الذي يعرضه عليه: لا ارب لي به، وحتى يتطاول الناس في البنيان، وحتى يمر الرجل بقبر الرجل، فيقول: يا ليتني مكانه، وحتى تطلع الشمس من مغربها، فإذا طلعت ورآها الناس، يعني آمنوا اجمعون، فذلك حين لا ينفع نفسًا إيمانها لم تكن آمنت من قبل او كسبت في إيمانها خيرًا ولتقومن الساعة وقد نشر الرجلان ثوبهما بينهما، فلا يتبايعانه، ولا يطويانه، ولتقومن الساعة وقد انصرف الرجل بلبن لقحته فلا يطعمه، ولتقومن الساعة وهو يليط حوضه فلا يسقي فيه، ولتقومن الساعة وقد رفع اكلته إلى فيه فلا يطعمها.

(رقم 7121)

’’سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قیامت اُس وقت تک قائم نہ ہو گی، جب تک دو عظیم جماعتیں جنگ نہ کریں گی۔ اُن دونوں جماعتوں کے درمیان بڑی خوں ریزی ہو گی۔ حالاں کہ دونوں کا دعویٰ ایک ہی ہو گا اور یہاں تک کہ کم و بیش تیس جھوٹے دجال بھیجے جائیں گے۔ اِن میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے، یہاں تک کہ علم اٹھا لیا جائے گا اور زلزلوں کی کثرت ہو گی اور (قیامت کا) زمانہ قریب ہو جائے گا اور فتنے ظاہر ہو جائیں گے اور ہرج بڑھ جائے گا ــــ ہرج سے مراد قتل ہے ــــ تمھارے پاس مال کی کثرت ہو جائے گی، بلکہ وہ بہ پڑے گا، یہاں تک کہ صاحب مال کو اِس کی فکر ہو گی کہ اُس کا صدقہ کون قبول کرے گا۔ حالات اِس نہج تک پہنچ جائیں گے کہ وہ اپنا صدقہ لوگوں کے سامنے پیش کرے گا۔لیکن جس کے سامنے بھی پیش کرے گا، وہ کہے گا کہ مجھے اِس کی ضرورت نہیں ہے۔ لوگ بڑی بڑی عمارتوں پر آپس میں فخر کریں گے۔ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر عمارتیں بنائیں گے۔ ایک شخص دوسرے کی قبر سے گزرے گا اور کہے گا کہ کاش! میں بھی اِسی جگہ ہوتا۔ سورج مغرب سے نکلے گا۔ پس جب وہ اِس طرح طلوع ہو گا تو سب ایمان لے آئیں گے، لیکن یہ وہ وقت ہو گا،جب ایمان لانا فائدہ نہ پہنچائے گا۔پھرقیامت اچانک اِس طرح آ جائے گی کہ دو آدمیوں نے اپنے درمیان کپڑا پھیلا رکھا ہو گا اور اُسے ابھی بیچ نہ پائے ہوں گے، نہ لپیٹ پائے ہوں گے۔ قیامت اِس طرح برپا ہو جائے گی کہ ایک شخص اپنی اونٹنی کا دودھ نکال کر واپس ہوا ہو گا اور اُسے پی بھی نہ پایا ہو گا۔ اور قیامت اِس طرح قائم ہو جائے گی کہ وہ اپنے حوض کو درست کر رہا ہو گا اور اُس میں سے پانی بھی نہ پیا ہو گا۔ اور قیامت اِس طرح قائم ہو جائے گی کہ اُس نے اپنا لقمہ منہ کی طرف اٹھایا ہو گا اور ابھی اُسے کھایا بھی نہ ہو گا۔‘‘

دیکھیے،اِن گیارہ علامتوں میں دجال کی علامت کا ذکر تو ہے، مگر نزولِ مسیح کی اہم ترین علامت کا ذکر نہیں ہے۔

1۔ دو عظیم جماعتوں کی جنگ۔

2۔ متعدد دجالوں کا ظہور۔

3۔تین دجالوں کی طرف سے نبوت کا دعویٰ۔

4۔ علم کا اٹھ جانا۔

5۔ ہرج، یعنی قتل و غارت میں اضافہ۔

6۔مال کی کثرت۔

7۔ صدقہ قبول کرنے والوں کی کمی۔

8۔ بڑی عمارتوں پر فخر۔

9۔ عمارتیں بنانے میں مقابلہ۔

10۔ لوگوں میں موت کی خواہش۔

11۔ سورج کا مغرب سے طلوع اور اسے دیکھ کر لوگوں کا ایمان لے آنا۔

اِسی طرح ترمذی کی ایک روایت میں 3 علامتیں مذکور ہیں۔ مگر اِن میں نزولِ مسیح کی علامت شامل نہیں ہے:

عن ابي هريرة ، عن النبي صلى اللّٰہ عليه وسلم، قال: ثلاث إذا خرجن لَا یَنۡفَعُ نَفۡسًا اِیۡمَانُہَا لَمۡ تَکُنۡ اٰمَنَتۡ مِنۡ قَبۡلُ:[69] الدجال، والدابة، و طلوع الشمس من المغرب او من مغربها .(رقم 3072)

’’حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں ایسی ہیں کہ جب وہ ظاہر ہوں گی تو جو شخص پہلے سے ایمان نہ لایا ہو گا، اُسے اُس کا اُس وقت ایمان لانا فائدہ نہ پہنچا سکے گا: دجال کا ظاہر ہونا، جانور نکلنا اور سورج کا مغرب سےطلوع ہونا۔“

مسندِ احمد بن حنبل کی ایک روایت میں قیامت کی چھ نشانیاں بیان ہوئی ہیں، مگر اُن میں نزولِ مسیح کی علامت شامل نہیں ہے:

عن عوف بن مالك الأشجعي قال: أتيت النبي صلى اللّٰہ عليه وسلم وهو في خدر له، فقلت: أدخل ؟ فقال: ادخل، قلت: أكلي؟ قال: كلك، فلما جلست قال: أمسك ستًا تكون قبل الساعة، أولهن وفاة نبيكم. قال: فبكيت، قال هشيم: ولا أدري بأيها بدأ ؟ ثم فتح بيت المقدس، وفتنة تدخل بيت كل شعر ومدر، وأن يفيض المال فيكم حتى يعطى الرجل مائة دينار فيتسخطها، وموتان يكون في الناس كقعاص الغنم قال: وهدنة تكون بينكم وبين بني الأصفر، فيغدرون بكم فيسيرون إليكم في ثمانين غاية، (وقال يعلى: في ستين غاية)، تحت كل غاية اثنا عشر ألفًا.(رقم 23996)

’’حضرت عوف بن مالک الاشجعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی اورعرض کیا کہ کیا میں پوری طرح اندر آ جاؤں یا دروازے کے درمیان ہی میں رہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پوری طرح اندر آ جاؤ۔ چنانچہ میں اندر چلا گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت عمدگی کے ساتھ وضو فرما رہے تھے، مجھ سے فرمانے لگے: اے عوف بن مالک، قیامت آنے سے پہلے چھ چیزوں کو شمار کر لینا، سب سے پہلے تمھارے نبی کا انتقال ہو جائے گا، میں رونے لگا۔ ہشیم نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے سب سے پہلے کون سی علامت بیان کی، پھر بیت المقدس فتح ہو جائے گا، پھر بکریوں میں موت کی وبا جس طرح پھیلتی ہے، تم میں بھی اُسی طرح پھیل جائے گی، پھر فتنوں کا ظہور ہو گا، اور مال و دولت اتنا بڑھ جائے گا کہ اگر کسی آدمی کو سو دینار بھی دیے جائیں گے تو وہ پھر بھی ناراض رہے گا، پھر اَسی (80) جھنڈوں کے نیچے (اور یعلیٰ نے کہا کہ ساٹھ (60) جھنڈوں کے نیچے) جن میں سے ہر جھنڈے کے تحت بارہ ہزار کا لشکر ہو گا، رومی لوگ تم سے لڑنے کے لیے آ جائیں گے۔‘‘

قربِ قیامت کی نشانیوں کی اور روایات بھی حدیث کی کتابوں میں نقل ہیں۔ یہاں فقط یہ اشکال پیش کرنا مقصود ہے کہ قیامت کی علامات والی متعدد روایات میں حضرت مسیح کے نزول کی علامت مذکور نہیں ہے۔ اِس سے نزولِ مسیح کا تصور محل اشکال میں آ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں اُسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے قبول نہیں کیا جا سکتا۔