چوتھا اشکال یہ ہے کہ روایتوں میں مذکور واقعۂ نزولِ مسیح کے بعض متصل اجزا زمانۂ ماضی میں ظاہر ہو چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر اُن کے وقوع کے باوجود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول نہیں ہوا تو پھر واقعے کی صحت پر کیسے یقین قائم کیا جا سکتا ہے؟ اِس امر کو بیان کرنے سے پہلے نفس واقعہ سے متعلق دو باتوں کا ادراک ضروری ہے۔
اولاً، نزولِ مسیح کی روایتیں مستقبل کے ایک واقعے کا بیان ہیں۔اِن کے رد و قبول کے حوالے سے مسلمانوں کے اہل علم میں اختلاف پایا جاتا ہے۔اکثریت کی راے یہ ہے کہ اِن کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت قابلِ اطمینان ہے، لہٰذا مسیح علیہ السلام کا نزول یقینی ہے۔ اِس کے برعکس، بعض اہل علم کی راے یہ ہے کہ اِن روایتوں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت قابلِ اطمینان نہیں ہے، اِس لیے اِن کی بنا پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کا تصور قائم کرنا درست نہیں ہے۔
یہ اختلاف اُس وقت تک قائم رہ سکتا ہے، جب تک درجِ ذیل دو صورتوں میں سے کوئی صورت واقع نہ ہو جائے۔
ایک یہ کہ قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہو جائے۔ اِس صورت میں اُن لوگوں کا موقف درست ثابت ہو جائے گا، جو نزولِ مسیح کی روایتوں کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت کو درست سمجھتے ہیں۔ اِس کے بعد اختلاف کی کوئی گنجایش باقی نہیں رہے گی۔
دوسری صورت یہ ہے کہ قیامت واقع ہو جائے اور مسیح علیہ السلام نازل نہ ہوں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اُن لوگوں کی بات صحیح ثابت ہو گی، جو اِن روایتوں کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت کو درست نہیں سمجھتے۔
اِس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اختلاف کا معاملہ کسی مشہود واقعے سے متعلق ہو تو اُس کا وقوع یا عدمِ وقوع رفع اختلاف کے لیے دلیل قاطع کی حیثیت رکھتا ہے۔ واقعہ اگر واقع ہو جائے تو اُس کے قائلین کی بات ثابت ہوتی ہے اور اگر اُس کے وقوع کا وقت گزر جائے اور وہ واقع نہ ہو تو اختلاف کرنے والوں کی بات ثابت ہوتی ہے۔ یعنی اُس کے بعد ابہام یا اختلاف کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا۔
ثانیاً، روایتوں میں مذکور نزولِ مسیح کا واقعہ کئی جزوی واقعات کا مجموعہ ہے۔ جب کسی واقعے کی صورت یہ ہو تواُس کا بہ تمام و کمال رو بہ عمل ہونا ضروری ہے۔ یعنی جو اجزا اُس کا حصہ ہیں، اُنھیں بعینہ ٖ ظاہر ہونا چاہیے۔ وقت اور زمانے کے لحاظ سے بھی، ترتیبِ وقوع کے لحاظ سے بھی اور ضمنی تفصیلات کے لحاظ سے بھی۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ واقعہ اگر ایک دور سے متعلق ہے تو اُسے مختلف ادوار کے واقعات کو جوڑ کر مکمل کیا جائے۔ یا اگر کچھ اجزا بیانِ واقعہ سے مختلف ہیں تو اُنھیں نظر انداز کر دیا جائے یا اگر بیانِ واقعہ کی بعض کڑیاں ظہورِ واقعہ میں موجود نہیں ہیں تو اُنھیں کوئی مبہم یا خلافِ عقل تاویل کر کے اطمینان حاصل کر لیا جائے۔ مطلب یہ ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے بیان کیے گئے واقعے کو عقل و نقل کے ہر معیار پر پورا اترنا چاہیے۔ اِس کی وجہ یہ کہ آپ کی بات اللہ کی بات ہے، جس میں خطا اور سہو و نسیان کا کوئی امکان نہیں ہو سکتا۔
اِس تمہید کے بعد اب اُس روایت کا مطالعہ کرتے ہیں، جس میں نزولِ مسیح کے وقت کا تعین نہایت صراحت کے ساتھ ہوا ہے۔ صحیح مسلم میں ہے:
عن أبي هريرة أن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم، قال: لا تقوم الساعة حتى ينزل الروم بالأعماق أو بدابق، فيخرج إليهم جيش من المدينة، من خيار أهل الأرض يومئذ. فإذا تصافوا، قالت الروم: خلوا بيننا وبين الذين سبوا منا نقاتلهم، فيقول المسلمون: لا، واللّٰه لا نخلي بينكم وبين إخواننا. فيقاتلونهم، فينهزم ثلث لا يتوب اللّٰه عليهم أبدًا، ويقتل ثلثهم، أفضل الشهداء عند اللّٰه ويفتتح الثلث، لا يفتنون أبدًا . فيفتتحون قسطنطينية، فبينما هم يقتسمون الغنائم، قد علقوا سيوفهم بالزيتون، إذ صاح فيهم الشيطان: إن المسيح قد خلفكم في أهليكم، فيخرجون، وذلك باطل. فإذا جاءوا الشأم خرج، فبينما هم يعدون للقتال، يسوون الصفوف، إذ أقيمت الصلاة، فينزل عيسى ابن مريم صلى اللّٰه عليه وسلم، فأمهم فإذا رآه عدو اللّٰه، ذاب كما يذوب الملح في الماء، فلو تركه لانذاب حتى يهلك، ولكن يقتله اللّٰه بيده، فيريهم دمه في حربته. (رقم 7460)
’’سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت قائم نہ ہو گی، یہاں تک کہ روم کے نصاریٰ کا لشکر اعماق میں یا دابق میں اترے گا۔ پھر اُس سے جنگ کے لیے مدینہ کا ایک لشکر نکلے گا، جو زمین والوں میں سب سے بہتر ہو گا۔ جب دونوں لشکر صفیں باندھ لیں گے تو رومی (مدینہ کے لشکر والوں سے) کہیں گے: تم ہمارے اور اِن لوگوں کے درمیان سے الگ ہو جاؤ جنھوں نے ہمارے کچھ لوگوں کو قیدی بنایا ہوا ہے تا کہ ہم اِن سے قتال کریں۔ مسلمان جواب دیں گے: نہیں اللہ کی قسم، ہم کبھی اپنے بھائیوں سے الگ نہ ہوں گے۔ پھر جنگ ہو گی تو مسلمانوں کا ایک تہائی لشکر بھاگ نکلے گا۔ اللہ تعالیٰ اِن کی توبہ کبھی قبول نہ کرے گا۔ ایک تہائی لشکر مارا جائے گا، یہ لوگ اللہ کے نزدیک سب شہیدوں میں افضل ہوں گے۔ باقی ماندہ ایک تہائی لشکر کو فتح حاصل ہو گی۔ وہ عمر بھر کبھی فتنے اور آزمایش میں نہ پڑیں گے۔ پھر وہ قسطنطنیہ کو فتح کریں گے۔ اُس کے بعد جب وہ مال غنیمت کو بانٹ رہے ہوں گے اور اپنی تلواروں کو زیتون کے درختوں سے لٹکا چکے ہوں گے تو اچانک شیطان اعلان کرے گا کہ دجال تمھارے پیچھے تمھارے اہل و عیال کے پاس پہنچ چکا ہے۔ یہ خبر سن کر مسلمان فوراً واپس روانہ ہو جائیں گے۔ تاہم، یہ خبر جھوٹ ہو گی۔ پھرجب وہ شام پہنچیں گے تو دجال نکلے آئے گا۔ چنانچہ جس وقت مسلمان جنگ کے لیے تیار ہو کر نماز (فجر )کے لیے صفیں باندھ رہے ہوں گے تو اُس وقت عیسٰی ابن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے اور اُن کی امامت فرمائیں گے۔ جب اللہ کا دشمن دجال عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھے گا تو وہ ایسے تحلیل ہونا شروع ہو جائے گا، جیسے نمک پانی میں تحلیل ہوتا ہے۔ ـــــ گویا عیسیٰ علیہ السلام اُس کو یونہی چھوڑ دیں تو وہ خود بہ خود ختم ہو جائے۔ ـــــ البتہ، اللہ تعالیٰ اُس کو عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں سے قتل کرائیں گے۔ پھر اللہ اُنھیں دکھائے گا کہ دجال کا خون حضرت عیسٰی علیہ السلام کے نیزے پر لگا ہوا ہے۔‘‘
اِس روایت سے درجِ ذیل باتیں مفہوم ہوتی ہیں:
روایت کی اِس تفصیل سے یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا نزول اُس وقت ہو گا، جب مسلمانوں کا لشکر قسطنطنیہ کو فتح کر کے واپس لوٹے گا۔ مکرر جان لیجیے کہ مسلم کی یہ روایت صراحت کرتی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام عین اُس موقع پر نازل ہوں گے، جس وقت مسلمانوں کی فوج قسطنطنیہ کو فتح کر لینے کے بعد دجال کے ظہور کی خبر سن کر مدینہ کی طرف واپس پلٹے گی۔
اب حقیقت ِ واقعہ یہ ہے کہ 29/مئی1453بہ مطابق 20 /جمادی الاول857ھ کو قسطنطنیہ فتح ہو چکا ہے۔ اُس کے بعد تاحال وہ مسلمانوں کے قبضےمیں ہے، بلکہ استنبول کے نام سے اسلامی ملک ترکیہ (Türkiye) کا سب سے بڑا شہر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مسلم کی حدیث نے حضرت مسیح کے نزول کا جو وقت متعین کیا ہے، وہ قسطنطنیہ کی فتح کے متصل بعد ہے۔ یہ وقت جون/ جولائی 1453 ء میں گزر چکا ہے۔ قسطنطنیہ فتح ہو چکا ہے، مگر نہ دجال ظاہر ہوا ہے اور نہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوئے ہیں۔
اب اگر حقیقت یہ ہے تو بیانِ واقعہ کی دو باتوں میں سے ایک بات کو صحیح ماننا ہو گا اور دوسری کو راوی کی غلطی یا اضافے پر محمول کرنا ہو گا۔
یا یہ ماننا ہو گا کہ روایت میں نزولِ مسیح کی بات تو درست ہے، مگر قسطنطنیہ کی فتح اور اُس کے فاتح لشکر کا ذکر اضافی ہے، جس کا نزولِ مسیح سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
یا یہ ماننا ہو گا کہ روایت میں قسطنطنیہ کی فتح اور اُس کے فاتح لشکر کا ذکر تو درست ہے، مگر نزولِ مسیح کی بات اضافی ہے۔
اِن دونوں واقعات کے وقوع کو بہ یک وقت تسلیم نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اِن باہم متصل واقعات میں سے ایک واقعہ570 سال پہلے رونما ہو چکا ہے۔مگر مسئلہ یہ ہے کہ ان دونوں واقعات میں سے ایک کو قبول کرنے اور دوسرے کو قبول نہ کرنے کی صورت میں پورا بیانِ واقعہ ہی محل اشتباہ میں آ جاتا ہے۔اِس کی وجہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی اگر صحیح نقل ہو گئی ہے تو اُس میں ادنیٰ درجے میں بھی کوئی تغیر و تبدل نہیں ہو سکتا۔ وہ کاتبِ تقدیر کا فیصلہ ہوتا ہے، جو اُسی طرح رو نما ہوتا ہے، جیسا کہ اُس کے پیغمبر کی زبانِ فیض ترجمان سے صادر ہوا ہے۔
ہمارے علما نے اِس مسئلےکو حل کرنے کے لیےمذکورہ دو امکانات میں سے کسی ایک کو ترجیح دینے یا روایت پر توقف کرنے کے بجاے اِس کی ایک تاویل پیش کی ہے۔ اِس تاویل کے مطابق 1453ء میں واقع ہونے والی قسطنطنیہ کی فتح وہ فتح نہیں ہے، جس کا ذکر روایت میں ہوا ہے۔اُن کے نزدیک فتح قسطنطنیہ کا واقعہ ایک مرتبہ پھر رونما ہو گا۔ اُس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور وہ معاملات پیش آئیں گے، جن کا ذکر مذکورہ روایت میں ہوا ہے۔
اِس تاویل پر چند عقلی اشکالات پیدا ہوتے ہیں۔
پہلا اشکال یہ ہے کہ قسطنطنیہ کا جو غیر معمولی تاریخی پس منظر ہے اور جس طرح مسلمانوں نے اُس کو فتح کرنے کے لیے صدیوں تک مسلسل جدوجہد کی ہے اور جس طرح اُنھوں نے اِس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی اور بشارت کو مدِنظر رکھا ہے، اُس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قسطنطنیہ اگر دوبارہ بھی مفتوح ہوتا ہے تو یہ دوسری فتح پہلی فتح جتنی غیر معمولی اور عظیم الشان نہیں ہو سکتی۔
اِس اشکال کو سمجھنے کے لیے قسطنطنیہ کے پس منظر اور اُس کو فتح کرنے کے لیے مسلمانوں کی جدوجہد کی بنیادی معلومات کو جاننا ضروری ہے۔
قسطنطنیہ(Constantinople) استنبول کا قدیم نام ہے۔ تیسری صدی عیسوی میں رومی بادشاہ قسطنطین نے عیسائی مذہب اختیار کیا اور اِس شہر کو اپنا دار السلطنت بنا لیا۔ اُسی کے نام کی نسبت سے اِس کا نام قسطنطنیہ پڑ گیا۔ یہ شہر گیارہ سو سال تک عیسائیوں کی رومی سلطنت کا دارالحکومت رہا ہے۔ پانچویں صدی عیسوی میں عیسائی دنیا دو بڑی سلطنتوں میں تقسیم ہوگئی۔ مغربی سلطنت کا دارالحکومت روم اور مشرقی سلطنت کا دارالحکومت قسطنطنیہ بن گیا۔ مشرقی سلطنت میں بلقان، یونان، ایشاے کوچک، شام، مصر، حبشہ وغیرہ شامل تھے۔ اِس کے بڑے کلیسا کے سربراہ کو بطریق (Patriarch) کہا جاتا تھا۔ مغربی سلطنت کے کلیسا کا سربراہ پوپ (Pope)کہلاتا تھا۔ عیسائیت کی مذہبی تاریخ میں بھی قسطنطنیہ کو غیر معمولی حیثیت حاصل تھی۔ اُس کی وجہ یہ تھی کہ عیسائیوں کے دو مرکزی کلیساؤں میں سے ایک اِس شہر میں قائم تھا۔ اِس کا نام آیا صوفیہ تھا۔ یہ عیسائیوں کی قدیم ترین اور مقدس عبادت گاہ تھی۔ اِس کے بارے میں مسیحیوں کا عقیدہ تھا کہ یہ کلیسا کبھی کسی غیر عیسائی کے قبضے میں نہیں جائے گا۔
قسطنطنیہ کی یہی غیر معمولی حیثیت ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس پر لشکرکشی کرنے والے مسلمانوں کو جنت کی بشارت سنائی تھی۔ بخاری میں ہے:
فحدثتنا أم حرام : أنها سمعت النبي صلى اللّٰه عليه وسلم، يقول: أول جيش من أمتي يغزون البحر قد أوجبوا، قالت ام حرام: قلت: يا رسول اللّٰہ، انا فيهم؟ قال: انت فيهم ثم قال النبي صلى اللّٰہ عليه وسلم: اول جيش من امتي يغزون مدينة قيصر مغفور لهم، فقلت: انا فيهم يا رسول اللّٰہ؟ قال: لا.
(رقم 2924)
’’امِ حرام رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا تھا کہ میری امت کا سب سے پہلا لشکر جو بحری سفر کر کے جہاد کے لیے جائے گا، اُس نے (اپنے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت) واجب کر لی ہے۔ امِ حرام نے بیان کیا کہ میں نے کہا تھا: یا رسول اللہ، کیا میں بھی اُن کے ساتھ ہوں گی ؟ آپ نے فرمایا تھاکہ ہاں، تم بھی اُن کے ساتھ ہو گی۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا سب سے پہلا لشکر جو قیصر (رومیوں کے بادشاہ) کے شہر (قسطنطنیہ) پر چڑھائی کرے گا، اُس کی مغفرت ہو گی۔ میں نے کہا: کیامیں بھی اُن کے ساتھ ہوں گی یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔‘‘
مسلم میں ہے:
عن نافع بن عتبة ، قال: كنا مع رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم في غزوة، قال: فاتى النبي صلى اللّٰہ عليه وسلم قوم من قبل المغرب عليهم ثياب الصوف، فوافقوه عند اكمة، فإنهم لقيام ورسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم قاعد. قال: فقالت لي نفسي: ائتهم فقم بينهم وبينه لا يغتالونه، قال: ثم قلت: لعله نجي معهم. فاتيتهم، فقمت بينهم وبينه، قال: فحفظت منه اربع كلمات اعدهن في يدي. قال: تغزون جزيرة العرب، فيفتحها اللّٰہ ثم فارس، فيفتحها اللّٰہ ثم تغزون الروم فيفتحها اللّٰہ، ثم تغزون الدجال فيفتحه اللّٰہ. قال: فقال نافع: يا جابر، لا نرى الدجال يخرج حتى تفتح الروم.(رقم 7466)
’’حضرت نافع بن عتبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم راہ ایک غزوہ میں شریک تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ لوگ مغرب کی طرف سے آئے۔وہ بالوں سے بنے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ٹیلے کے پاس ملے۔ وہ لوگ کھڑے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ میرے دل نے مجھے کہا کہ تو اُن لوگوں کے پاس چلا جا اور اُن کے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان میں کھڑا ہو جا،ممکن ہے کہ وہ آپ کو قتل کرنے کی جسارت کریں۔ پھر میرے دل نے مجھ سے کہا کہ ممکن ہے کہ آپ اُن سے تنہائی میں کچھ باتیں کرنا چاہتے ہوں (اور میرا جانا نامناسب ہو)۔ بہرحال( پہلے خیال کو ترجیح دیتے ہوئے) میں اُن کے پاس چلا گیا اور اُن لوگوں کے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان میں کھڑا ہو گیا۔اِس موقع پر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چار باتیں یاد کیں، جنھیں آپ نے میرے ہاتھ پر گنا۔ آپ نے فرمایا: پہلے تم جزیرۂ عرب میں (کفار سے) جہاد کرو گے، اللہ اُس میں فتح عطا فرمائے گا۔ پھر فارس سے جہاد کرو گے، اللہ تعالیٰ اُس میں بھی فتح نصیب فرمائے گا۔ اُس کے بعد روم کے خلاف (یعنی نصاریٰ سے) جنگ کرو گے۔ اللہ تعالیٰ اُن پر بھی غالب کرے گا۔ پھر دجال سے لڑو گے۔ اللہ تعالیٰ اُس پر بھی فتح دے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ نافع نے کہا: اے جابر بن عمرو، ہم سمجھتے ہیں کہ دجال اُس کے بعد نکلے گا، جب روم کا ملک فتح ہو جائے گا۔‘‘
قسطنطنیہ کو فتح کرنےکے لیے مسلمانوں کا پہلا لشکر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور ِخلافت میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں روانہ ہوا۔ اِس لشکر نے قبرص پر حملہ کیا۔ قبرص پر مسلمانوں کا قبضہ تو نہیں ہوا، لیکن اُن سے مسلمانوں کی صلح ہو گئی۔
پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ حکومت میں یزید بن معاویہ کی سربراہی میں لشکر روانہ کیا۔ اُس لشکر نے قسطنطنیہ کا محاصرہ کر لیا۔ کافی دن محاصرے کے بعد جب فتح حاصل نہ ہوئی تو یہ لشکر واپس چلا گیا۔
اِس کے بعد مختلف حکمرانوں نے قسطنطنیہ پر متعدد حملے کیے، مگر فتح حاصل نہ ہو سکی۔ اِن حکمرانوں میں حضرت عمر بن عبدالعزیز، ہشام بن عبدالملک، مہدی عباسی، ہارون الرشید، بایزید یلدرم اور اُس کے پوتے مراد ثانی کے نام نمایاں ہیں۔
قسطنطنیہ کی فتح کا سہرا بایزید یلدرم کے پڑپوتے محمد ثانی کے سر بندھا۔ اُس نے 26 / ربیع الاول 857ھ بہ مطابق 6 /اپریل 1453ء کو قسطنطنیہ کو محاصرے میں لیا۔ غیرمعمولی اور تاریخ ساز جدوجہد کے بعد وہ 20 /جمادی الاول 857ھ بہ مطابق 29 /مئی 1453 ء کو قسطنطنیہ پر فتح حاصل کرنے میں کامیاب ہوا اوراِسی بنا پر تاریخ میں سلطان محمد فاتح کے نام سے مشہور ہوا۔
یہ قسطنطنیہ کی فتح کا تاریخی پس منظر ہے۔ اِسے اگر کسی حوالے کے بغیر مجرد طور پر سامنے رکھا جائے تو ہر شخص پکار اٹھے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت کا مصداق یہی غیرمعمولی واقعہ ہو سکتا ہے۔
اب اِس بات کو ایک اور زاویے سے بھی دیکھیے۔
مثال کے طور پر بالفرض :
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول تو ہو جاتا ہے، مگر نہ قسطنطنیہ مفتوح ہوتا ہےاور نہ دجال کا خروج ہوتا ہے تو کیا یہ کہا جائے گا کہ حضرت مسیح آیندہ کسی موقع پر دوبارہ نازل ہوں گےاور اُس وقت دیگر واقعات رونما ہوں گے یا یہ کہا جائے گا کہ اِس نزول نے دیگر واقعات کی نفی کر دی ہے؟
اِسی طرح دجال کا خروج توہو جاتا ہے، مگر نہ حضرت مسیح نازل ہوتے ہیں اور نہ قسطنطنیہ مفتوح ہوتا ہے تو کیا یہ کہا جائے گا کہ دجال بعد ازاں دوبارہ نکلے گا اور اُس موقع پر باقی دو واقعات ظاہر ہوں گے یا پھر یہ کہا جائے گا کہ اِس واقعے نے دیگر دو واقعات کی نفی کر دی ہے؟
چنانچہ سوال یہ ہے کہ اگر مذکورہ تین واقعات میں سے فتح قسطنطنیہ کا واقعہ تو ہو جاتا ہے، مگر اُس سے متصل دو واقعات رونما نہیں ہوتے تو اُن کی نفی میں کیا امر مانع ہے؟
یہاں یہ ملحوظ رہے کہ ماضی، حال یا مستقبل کےکسی واقعے کا بیان اُس میں مذکور ضمنی واقعات کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اگر بیانِ واقعہ پر یقین کرنا ہو تو اُس کے تمام جزوی واقعات، اُن کی ترتیب اور اُن کے باہمی اتصال پر یقین کرنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ اُن میں سے بعض اجزا کو منہا کر دیا جائے یا اُن کی ترتیب بدل دی جائے یا اُن کی ایسی تاویل کی جائے کہ سلسلۂ اتصال ٹوٹ جائے یا اُن کے مابین ایسا زمانی بُعد تصور کر لیا جائے، جسے واقعے کا بیان قبول کرنے سے انکار کر دے۔
یہ بھی واضح رہے کہ ایک روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ قرب قیامت کی علامات کی نوعیت پے در پے واقعات کی ہے۔ یعنی اُن میں ایسا تعطل یا التوا تصور نہیں کیا جاسکتا، جو غیر عقلی اور غیر فطری ہو۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
عن عبد اللّٰہ بن عمرو ، قال: قال رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم: الآيات خرزات منظومات في سلك، فإن يقطع السلك يتبع بعضها بعضًا.
(مسند احمد، رقم 7040)
’’عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (قیامت کی) علامات ایک لڑی میں پروئے ہوئے منکوں کی طرح ہیں۔ گویا اگر لڑی ٹوٹ جائے تو وہ لگاتار گرنا شروع ہو جاتے ہیں۔“
یہ پہلا مسئلہ ہے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ علما کی اِس تاویل کو ماننے کے لیے تہذیب و تمدن کے پہیے کو ماضی کی طرف پھیرنا ہو گا۔ یعنی یہ فرض کرنا پڑے گا کہ وہ زمانہ واپس آئے گا،جب جنگیں بارودی، ایٹمی اور کیمیائی اسلحہ کے بجاے نیزوں اور تلواروں سے لڑی جائیں گی۔جدید طرز کی باقاعدہ فوج رکھنے کا سلسلہ ختم ہو جائے گا،جس میں سپاہی ریاست کے تنخواہ دار ملازم ہوتے ہیں۔ اِس کے بجاے پرانا طریقہ واپس آ جائے گا، جب فتح کے بعد سپاہیوں میں مالِ غنیمت تقسیم کیا جاتا تھا۔
تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ یہ فرض کرنا پڑے گا کہ ترکیہ (Türkiye) کا شہر استنبول (قسطنطنیہ) دوبارہ رومیوں کے قبضے میں جائے گا اور اُسے دنیا میں وہی غیر معمولی مذہبی اور سیاسی مقام حاصل ہو گا،جو پندرھویں صدی عیسوی میں یا اُس سے پہلے حاصل تھا۔
چوتھا مسئلہ یہ ہے کہ اِس تاویل کو ماننے کی صورت میں مذکورہ روایت یا مجموعۂ روایات کا پیشین گوئی ہونے کا مرتبہ ختم ہو جاتا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ پیش گوئی اُسی صورت میں پیش گوئی قرار پاتی ہے، جب وہ مستقبل کے بارے میں متعین اور موقت خبر سے آگاہ کرے۔ چنانچہ اگر قسطنطنیہ کی فتح کا مصداق ہی متعین نہیں ہے ــــیعنی یہ طے ہی نہیں ہے کہ مسلمان قسطنطنیہ کو کتنی بار فتح کریں گے اور وہ کون سی فتح ہو گی، جس کے بعد نزولِ مسیح ہو گا ــــ تو پھر اِس روایت کو کیسے پیشین گوئی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے؟ مزید یہ کہ اگر روایت کے ایک واقعے، یعنی قسطنطنیہ کی فتح کا مفہوم و مصداق مبہم ہے تو پھر دیگر واقعات، یعنی نزولِ مسیح اور دجال کے خروج کے مفہوم و مصداق کو کیسے ابہام سے پاک قرار دیا جا سکتا ہے؟